جمعرات, 29, ستمبر, 2022
ہوماعلان واشتہارات  عدل وانصاف کے تقاضے پرعمل ضروری ،مرکزی اور ذیلی قضاة...

  عدل وانصاف کے تقاضے پرعمل ضروری ،مرکزی اور ذیلی قضاة کے اجتماع سے امیرشریعت کا فکر انگیز خطاب  

دارالقضاءصرف کارقضاءتک محدودنہیں ہوں گے ،خدمت خلق کامرکزبھی بنایاجائے گا

عدل وانصاف کے تقاضے پرعمل ضروری ،مرکزی اور ذیلی قضاة کے اجتماع سے امیرشریعت کا فکر انگیز خطاب

پٹنہ20دسمبر

آج مو¿رخہ 20دسمبر 2021روز سوموار کو کانفرنس ہال امارت شرعیہ میں امیر شریعت بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب کی صدارت میں امارت شرعیہ بہار ، اڈیشہ و جھارکھنڈ و مغربی بنگال کے مرکزی و ذیلی قضاة کی ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی، جس سے خطاب کرتے ہوئے حضرت امیر شریعت نے فرمایاہے کہ علماءو قضاة کی زندگی امت کے لیے مثالی اور نمونہ کی زندگی ہونی چاہئے ، ان کے رہن سہن، طور طریقے اور انداز زندگی سے اسلام کی شعاع جھلکنی چاہئے۔ اللہ نے آپ کو ایک بڑے عظیم منصب پر فائز کیا ہے ، بڑا منصب بڑی ذمہ داری بھی لے کر آتا ہے، اس لیے آپ کی ذمہ داری اور مسﺅلیت بھی دوسروں سے زیادہ بڑھی ہوئی ہے۔ عدل وانصاف کے تقاضو ں کو مکمل طور پر بروئے کار لائیں ۔ اور اس طرح معاملات کا تصفیہ کریں کہ فریقین خوش دلی کے جذبے سے اس کو قبول کریں ، تاکہ ان کا دین و ایمان بھی محفوظ ہو اور انہیں سہولت بھی حاصل ہو۔ دار القضاءکے نظام میں وسعت پیدا کرنے کی خاطر اس کے طریقہ کار میں مزید بہتری لانے کا بھی ارادہ ہے ۔ خاص کر جہاں اب نئے دار القضاءقائم ہوں گے ،انہیں صرف کار قضاءتک محدود نہیں رکھا جا ئے گابلکہ انہیں ایک خدمت خلق کا مرکز(Service Hub)بنانا بھی ہمارا ہدف ہے۔ وہاں دار القضائ، مکتب اور شفاخانہ بھی قائم کیا جائے گا۔انہوں نے تمام قضاة سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاہے کہ ہم سب صادق اور امین بنیں ۔نائب امیر شریعت حضرت مولانا محمد شمشاد رحمانی قاسمی صاحب نے فرمایا کہ حضرات قضاة دارا لقضاءکی افادیت سے عام لوگوں کو واقف کرائیں تاکہ لوگوں کا دارا لقضاءسے اپنے معاملات کو حل کرنے کا رجحان پیدا ہو، اس میں اس پہلو کو بھی پیش نظر رکھا جائے کہ یہاں کم وقت اور کم خرچ میں بروقت فیصلہ مل جایا کرتا ہے ۔حضر ت نائب امیرشریعت نے دار القضاءکی افادیت پر قضاة حضرات کو اکابر امارت شرعیہ کی مطبوعات کے مطالعہ کی ترغیب دی۔قاضی شریعت امار ت شرعیہ مولانا محمد انظار عالم قاسمی صاحب نے کہا کہ امارت شرعیہ کے نظام قضاءکی افادیت سے عام مسلمانوں کو واقف کرائیں ، اور اس تحریک کو گاو¿ں گاو¿ں اور قریہ قریہ پہونچائیں ، ہر جمعہ میں اپنے اپنے حلقہ¿ اثر میں یہ پیغام دیں کہ جس طرح ہم قرآن و سنت پر عمل کر تے ہیں اسی طرح اپنے عائلی مسائل ،نظام وراثت اور حقیت کے معاملات کے عنوان سے بھی بیدار ی لائیں کہ یہ معاملات بھی دار القضاءکے ذریعہ حل کرائے جاسکتے ہیں، نیز وصیت نامہ، ہبہ نامہ ، وراثت نامہ اور دیگر معاہدہ نامہ بھی دار القضاءکے ذریعہ بنوایا جا سکتا ہے۔ ممکن حد تک علاقوں کے ذمہ داروں کی ذہن سازی بھی کریں ، ان شاءاللہ اس کے اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔قائم مقام ناظم مولانامحمد شبلی القاسمی صاحب نے امارت شرعیہ کے مرکزی و ذیلی دار القضاءکی افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حضرت امیر شریعت مد ظلہ کے مشورہ سے دس نئے دارالقضاءکے قیام کا منصوبہ ہے ، آپ حضرات کے مشورہ سے بھی ان مقامات کا تعین کیا جائے گا اور حضرت امیر شریعت کی اجازت سے ان مقامات پر دار القضاءقائم کیے جائیں گے۔ چنانچہ قضاة حضرات نے بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ اور مغربی بنگال کے چند مقامات کی نشان دہی کی جہاں دارالقضاءقائم کرنے کی ضرورت ہے۔میٹنگ میں مختلف اہم ایجنڈوں پر گفتگو ہوئی جس میں مولانا مفتی سہیل احمد قاسمی صدر مفتی امارت شرعیہ، مولانا مفتی سعید الرحمن قاسمی مفتی امارت شرعیہ، مولانا سہیل احمد ندوی نائب ناظم امارت شرعیہ، مولانا مفتی محمد سہراب ندوی نائب ناظم امارت شرعیہ، مولانا مفتی محمد ثناءالہدیٰ قاسمی ،مولانا سہیل اختر قاسمی نائب قاضی شریعت ، مولانا مفتی وصی احمد قاسمی نائب قاضی شریعت ، مولانا امتیاز قاسمی معاون قاضی شریعت ،مولانا شمیم اکرم رحمانی معاون قاضی شریعت ،مولانا ابو طالب رحمانی رکن شوریٰ و عاملہ امارت شرعیہ،مولانا قاضی محمد انور قاسمی قاضی شریعت رانچی، مولانا سعود عالم قاسمی قاضی شریعت جمشید پور، مولانامحمد شاہد قاسمی قاضی شریعت دھنباد، مولانا ارشد قاسمی قاضی شریعت گوگری، مولانا ارشد قاسمی قاضی شریعت کشن گنج، مولانا رضوان عالم قاسمی قاضی شریعت یکہتہ مدھوبنی، مولانا زبیر عالم قاسمی قاضی شریعت آسنسول، مولانا ارشد علی رحمانی قاضی شریعت دربھنگہ، مولانا اظہار عالم قاسمی قاضی شریعت للجہ، مولانا افتخار قاسمی قاضی شریعت آڑھا جموئی، مولانا ارشد قاسمی قاضی شریعت پورنیہ ، مولانا عبد الواحد قاسمی قاضی شریعت دین بندھی سوپول، مولانا عبد الودود قاسمی قاضی شریعت راور کیلا اڈیشہ، مولانا ضمیر قاسمی قاضی شریعت فیئر س لین کولکاتا، مولانا فلاح الدین قاسمی قاضی شریعت توپسیا،مولانا کلیم اللہ مظہر قاسمی قاضی شریعت چتر پور، مولانا خورشید انور قاسمی قاضی شریعت بھاگل پور، مولانا رضی احمد ندوی قاضی شریعت جامعہ رحمانی مونگیر، مولانا ابو شاہد رحمانی قاضی شریعت مدرسہ رحمانیہ سوپول مولانا عتیق اللہ رحمانی قاضی شریعت ارریہ، مولانا عاصم صاحب قاضی شریعت پوہدی بیلا، مولاناسعید اسعد صاحب آسنسول نے قیمتی مشورے دیے، ان مشوروں کی روشنی میں کئی اہم تجاویز طے ہوئیں۔جن میں بنگال اور اڈیشہ میں دار القضاءکے قیام کے سلسلہ میں وہاں کے مقامی قضاة پر مشتمل کمیٹی کی تشکیل، جہاں جہاں دار القضاءقائم ہو وہاں دار القضاءہفتہ منایا جائے تاکہ دار القضاءکا تعارف پورے علاقے میں ہو جائے،دارا لقضاءسے وقف نامہ، ہبہ نامہ، وراثت نامہ ودیگر معاہدہ نامہ بنوانے کی لوگوں میں ترغیب دی جائے وغیرہ اہم تجاویز شامل ہیں۔اس اجلا
س کا آغاز مولانا عبد اللہ انس قاسمی مرکزی دار القضاءامارت شرعیہ کی تلاوت کلام پاک سے ہوا ، مولانا مجیب الرحمن قاسمی بھاگل پوری معاون قاضی شریعت نے نعت شریف پیش کی، مولانا سہیل اختر قاسمی نائب قاضی شریعت نے گذشتہ میٹنگ کی کارروائی پڑھ کر سنائی جس کی توثیق کی گئی، مولانا شمیم اکرم رحمانی معاون قاضی شریعت نے سابقہ تجاویز اور ان پر ہونے والی عملی پیش رفت کی خواندگی کی۔ مولانا مجیب الرحمن بھاگل پوری نے تمام قضاة کے نام قاضی شریعت کا خط بھی پڑھ کر سنایا۔ مولانا مفتی وصی احمد قاسمی صاحب نے اس اجلاس کی نظامت کے فرائض خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دیے ۔انہوںنے اپنی ابتدائی گفتگو میں اجلاس کے اغراض و مقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالی اور زیر بحث ایجنڈوں کی تشریح کی۔آخر میں حضرت امیر شریعت مد ظلہ کی دعا پر اجلاس اختتام پذیر ہوا۔ اجلاس میں مذکورہ بالا حضرات کے علاوہ مولانا عبدالباسط ندوی سکریٹری المہعد العالی، مولانا احسان الحق قاسمی قاضی شریعت ڈہری اون سون روہتاس،مولانا مرتضیٰ قاسمی قاضی شریعت سیوان، مولانا اعجاز احمد قاسمی قاضی شریعت دملہ مدھوبنی ،مولانا وصی احمد قاسمی قاضی شریعت دار القضاءپھلواریا کشن گنج، مولانا صدام حسین قاسمی قاضی شریعت سمستی پور ،مولانا فخر الدین قاسمی قاضی شریعت پرولیا، مولانایوسف قاسمی قاضی شریعت سہرسہ، مولانا نظام الدین قاسمی قاضی شریعت جامتاڑا، مولانا ثناءاللہ قاسمی قاضی شریعت ہزاری باغ،مولانا نسیم قاسمی قاضی شریعت کوڈرما، مولانا ریاض احمد قاسمی قاضی شریعت موتیہاری، مولانا اشتیاق قاسمی قاضی شریعت بسوریا، مولانا سیف اللہ قاسمی قاضی شریعت بھوانی پور پورنیہ،مولانا عبد الحق قاسمی قاضی شریعت رامپاڑہ کٹیہار، مولانا شہنواز قاسمی قاضی شریعت دار القضاءویشالی،مولانا فضل نورانی قاضی شریعت دار العلوم امورپورنیہ،مولانا اصغر قاسمی قاضی شریعت جہان آباد،مولانا مجیب الرحمن قاسمی دربھنگوی معاون قاضی شریعت مرکزی دار القضائ، مولانا نور الحق رحمانی استاذ المعہد العالی، مولانا ابو الکلام شمسی معاون ناظم امارت شرعیہ، مولانا سرور قاسمی قاضی شریعت بارا عید گاہ، مولانا امداد اللہ قاسمی قاضی شریعت بھوارہ مدھوبنی،مولانا عبد التواب قاسمی قاضی شریعت بیر نگر بسہریا، مولانا امتیاز قاسمی قاضی شریعت دالکولہ،مولانا وسیم اخترالثاقبی دارا لقضاءبتیا، مولانا وسیم اختر قاسمی قاضی شریعت گیا،مولانا نعمان قاسمی قاضی شریعت نیما رنگ جموئی،مولاناابوالقاسم صاحب قاضی شریعت سوپول،مولانا شمس الحق قاسمی قاضی شریعت گریڈیہ،مولانا سراج الدین قاسمی قاضی شریعت گڈا،مولانا وسیم غازی دارا لقضاءموتیہاری،مولانا اخلاق قاسمی قاضی شریعت شکر پور بھروارہ، مولانا مختار عالم قاسمی قاضی شریعت سمڈیگا،مولانا شاد اب اعظم قاسمی قاضی شریعت سمری بختیار پورسہرسہ،مولانا جرجیس قاسمی دار القضاءبیگو سرائے، مولانا عبد الباسط قاسمی قاضی شریعت بھیم پورمدھوبنی، مولانا عمر فاروق قاسمی قاضی شریعت لوہردگاکے علاوہ مختلف دار القضاءکے قضاة و نائبین شریک تھے۔اجلاس میںحضرت نائب امیر شریعت کی کتاب بیٹیوں کی حفاظت کیجئے کے ہندی ایڈیشن کا اجراءبھی حضرت امیر شریعت کے ہاتھوں عمل میں آیا۔

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے