عازمینِ حج کی خدمت کیسے کریں؟

36

(دوسری قسط)

زين العابدين قاسمی
ناظم جامعه قاسميه اشرف العلوم نواب گنج علی آباد ضلع بہرائچ یو.پی

حج کے لیے ترغیبی عناوین

(١) حج؛ اسلام کا آخری اور تکمیلی رکن ہے

رسول اکرم ﷺ نے اسلام کی بنیاد جن پانچ چیزوں پر بیان فرمائی ہے اور جن کو ارکانِ اسلام اور اُن میں سے ہر ایک کو اسلام کا رکن کہا جاتا ہےاُن میں سے ایک رُکن ”حج“ بھی ہے۔ چناں چہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے : ” بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ “(بخاری، مسلم، ترمزی، نسائی)ترجمہ: اسلام کی بنیاد پانچ باتوں پر قائم کی گئی ہے: (۱) اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور اس بات کی گواہی دینا کہ محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں۔(۲) اور نماز قائم کرنا (۳) اور زکات ادا کرنا (۴) اور بیت اللہ کا حج کرنا (۵) اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا۔“(بخاری شریف، مسلم شریف)

اسی طرح حدیثِ جبرئیل میں ہے کہ جب آپ ﷺ سے پوچھا گیا کہ مجھے بتائیے “اسلام“ کیا ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا : الْإِسْلَامُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ، وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلًا(مسلم، ابوداؤد، نسائی)ترجمہ: اسلام یہ ہے کہ(۱) تو اِس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور محمد(ﷺ) اللہ کے رسول ہیں۔ (۲)اور نماز قائم کرے(۳) اور زکات اداکرے(۴) اور رمضان المبارک کے روزے رکھے(۵) اور بیت اللہ تک پہونچنے کی طاقت و استطاعت ہو تو حج کرے۔ (مسلم ، ابو داؤد،نسائی)

اِن پانچوں اَرکان میں سے ”حج“ سب سے آخر میں یعنی راجح قول کے مطابق ٩؁ھ میں فرض ہوااس لیے حج کو اسلام کا آخری رکن کہا جاتا ہے اور حج کے فرض ہونے کے اگلے سال یعنی ٠١؁ھ میں آپ ﷺ نے صحابۂ کرام کی بڑی تعداد کے ساتھ حج فرمایا جو حجۃ الوداع کے نام سے مشہور ہے، اِسی حج میں خاص عرفات کے میدان میں آپ ﷺ پر قرآن کریم کی سورۂ مائدہ کی وہ آیت نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان فرمایا کہ آج میں نے تمہارے دین کو مکمل کردیا، چوں کہ حج کے موقع پر ہی دین کے مکمل کئے جانے کا اعلان ہوا اس لیے حج کو اسلام کا تکمیلی رکن بھی کہا جاتا ہے۔

(٢) حج کے فضائل

اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِيْنَ¤ترجمہ: ”اور لوگوں کے ذمہ اللہ کے واسطے بیت اللہ کا حج کرنا لازم ہے، جو اُس تک پہونچنے کی قدرت رکھتا ہو، اور جو حکم نہ مانے (یعنی قدرت ہونے کے باوجود حج نہ کرے)تو بیشک اللہ تعالیٰ سارے جہانوں سے بے نیاز ہیں“ (سورۂ آل عمران آیت ۹۷)
حضرت الاستاذ مفتی سعید احمد صاحب پالنپوری رحمہ اللہ سابق شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند فرماتے ہیں کہ :”اِس (آیت) کے مفہومِ مخالف سے حج کی اہمیت نکلتی ہے ، یعنی جو اِس فریضہ کو بجالائے گا اُس کو فائدہ پہنچے گا اور جو روگردانی کرے گا اُس کا نقصان ہوگا۔ (تحفۃ القاری شرح بخاری ۴/۳۰۲)
اور ایک جگہ فرماتے ہیں کہ: ”اور حج کرنے سے ایمان پر مہر لگ جاتی ہے اور اِرتداد (یعنی مُرتد ہونے ) کا خطرہ ٹل جاتا ہے ، یہ حج کا فائدہ ہے اور یہ بات (وَمَنْ كَفَرَ) کے مفہومِ مخالف سے نکلتی ہے۔ “ (تحفۃ القاری شرح بخاری ۴/۳۰۲)

(۱) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:۔مَنْ حَجَّ لِلّٰهِ فَلَمْ يَرْفُثْ، وَلَمْ يَفْسُقْ،رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ)بخاری، مسلم، نسائی، ابن ماجہ) ترجمہ: ”جس نے اللہ کے لیے حج کیا پس (حالتِ احرام میں) نہ بیوی کے ساتھ زن و شوئی کی باتیں کی نہ کسی گناہ کا ارتکاب کیا تو وہ (گناہوں سے )ایسا( پاک و صاف ہو کرگھر )لوٹے گا جیسا اُس دن تھا جس دن اُس کی ماں نے اُس کو جنا تھا۔“(بخاری، مسلم، نسائی، ابن ماجہ)
”اللہ کے لیے حج کرنے“ کا مطلب یہ ہے کہ حج ہی کی نیت ہو، کاروبار کے لیے نہ گیا ہو، نہ حاجی کہلانے کی نیت ہو۔اور ”زن و شوئی کی بات“ سے مرادمیاں بیوی کے درمیان جو مذاق کی باتیں ہوتی ہیں۔ یعنی اگر حج اس طرح کیا جائے کہ میاں بیوی آپس میں مذاق کی باتیں نہ کریں اور نہ اللہ کی کوئی نافرمانی کریں تو حج کی برکت سے اس کےسارے گناہ معاف کردئے جائیں گے اور وہ گناہوں سے بالکل ایسا پاک و صاف ہوکر گھر واپس ہوگا جیسا کہ وہ اپنی پیدائش کے دن بے گناہ تھا۔

(۲) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ہی ایک اور روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مَنْ حَجَّ فَلَمْ يَرْفُثْ، وَلَمْ يَفْسُقْ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ(ترمذی) ترجمہ: جس نے حج کیا پس نہ زن و شوئی کی باتیں کی اور نہ گناہ کیا تو اس کے پچھلے گناہ معاف کردئے جائیں گے۔ (ترمذی)

(۳) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ سے پوچھا گیا:أَيُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: إِيمَانٌ بِاللهِ وَرَسُولِهِ قِيلَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: جِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللهِ قِيلَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: حَجٌّ مَبْرُورٌ (بخاری،مسلم،ترمذی، نسائی) ترجمہ: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ اور رسول پر ایمان کالانا، پوچھا گیا: پھر کون سا عمل افضل ہے؟فرمایا: اللہ کے راستے میں لڑنا، پوچھا گیا: پھر کون سا عمل افضل ہے؟ فرمایا: مقبول حج۔(بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی)

(۴) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَرَى الجِهَادَ أَفْضَلَ العَمَلِ، أَفَلاَ نُجَاهِدُ؟ قَالَ: لاَ، لَكِنَّ أَفْضَلَ الجِهَادِ حَجٌّ مَبْرُورٌ(بخاری، نسائی) ترجمہ: اے اللہ کے رسول! ہم جہاد کو سب سے افضل عمل سمجھتے ہیں تو کیا ہم عورتیں جہاد نہ کریں؟ (اور جہاد کی فضیلت سے محروم رہ جائیں) آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، تمہارے لیے افضل جہاد ”مقبول حج “ ہے۔(بخاری، نسائی)ایک دوسری روایت میں ہے کہ: فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَلاَ أَدَعُ الحَجَّ بَعْدَ إِذْ سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ(بخاری)ترجمہ: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے یہ حدیث (کہ افضل جہاد مقبول حج ہے) سننے کے بعد میں حج نہیں چھوڑتی تھی۔ (بخاری)

(۵) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اَلْعُمْرَةُ إِلَى العُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا، وَالحَجُّ المَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الجَنَّةُ (بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ) ترجمہ:ایک عمرہ دوسرے عمرہ تک کے اُن گناہوں کو مٹادیتا ہے جو دونوں عمروں کے درمیان ہوتے ہیں اور مقبول حج کا بدلہ تو بس جنت ہے۔ (بخاری ، مسلم، ترمذی، نسائی ابن ماجہ)

(۶) حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تَابِعُوا بَيْنَ الحَجِّ وَالعُمْرَةِ، فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الفَقْرَ وَالذُّنُوبَ كَمَا يَنْفِي الكِيرُ خَبَثَ الحَدِيدِ، وَالذَّهَبِ، وَالفِضَّةِ، وَلَيْسَ لِلْحَجَّةِ المَبْرُورَةِ ثَوَابٌ إِلَّا الجَنَّةُ(ترمذی، نسائی، ابن ماجہ) ترجمہ: حج و عمرہ پے درپے کرو کیوں کہ وہ دونوں محتاجگی اور گناہوں کو اس طرح دور کردیتے ہیں جس طرح بھٹی ؛ لوہے، سونے اور چاندی کے میل کچیل کو دور کردیتی ہے، اور مقبول حج کا ثواب جنت کے سوا کچھ نہیں۔ (ترمذی، نسائی)

اِن تمام اِحادیث شریفہ سے حج کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، پہلی اور دوسری حدیث سے ثابت ہوا کہ حج کی برکت سے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں ، تیسری اور چوتھی حدیث سے ثابت ہوا کہ ”مقبول حج“ سب سے افضل عمل ہے، اور بعد کی دو حدیثوں سےثابت ہوا کہ ”مقبول حج“کا بدلہ صرف جنت ہے۔

اور مقبول حج وہی ہے جس میں میاں بیوی کے درمیان مذاق کی بات نہ ہوئی ہو اور نہ اللہ کی نافرمانی ہوئی ہو۔

اور چھٹی حدیث میں تو آپﷺ نے مثال دے کر حج کے دو فائدے بتلائےہیں: ایک: یہ کہ حج و عمرہ سے غریبی دور ہوتی ہے اور اس کا تعلق تجربہ سے ہے، یقینًا حج و عمرہ کے سفر میں بظاہربڑی رقم خرچ ہوتی ہے مگر تجربہ یہ ہے کہ اس سے غریبی دور ہوتی ہے جو چاہے تجربہ کرکے دیکھ لے۔ اور دوسرا فائدہ: حج و عمرہ سے گناہ معاف ہوتے ہیں۔ حج و عمرہ سے غریبی کے دور ہونے اور گناہ کے معاف ہونے کو اس طرح مثال سے سمجھایا ہے کہ جیسے لوہار ؛ میلا لوہا یا سونار؛ میلا سونا یا میلی چاندی آگ کی بھٹی میں تپاتا ہے تو آگ اُس کے میل کچیل کو بالکل ختم کردیتی ہے اب اُس پر میل کاکوئی اثر باقی نہیں رہتا ایسے ہی حج و عمرہ کے سفر کی مشقت غریبی اور گناہ کو بالکل ختم کردیتی ہے اور اُس خوش نصیب پر گناہ اور غربت کا کوئی اثر باقی نہیں رہتا ہے۔

فائدہ: حضرت الاستاذ مفتی سعید احمد صاحب پالنپوری رحمہ اللہ سابق شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند فرماتے ہیں کہ : مقبول حج کی دو علامتیں ہیں: ایک ظاہری علامت اور ایک باطنی علامت۔

ظاہری علامت یہ ہے کہ حج؛ مسائل کا لحاظ کرکے کیا گیا ہو، یعنی جو فرائض و واجبات، سنن و مستحبات ہیں اُن پر پوری طرح عمل کیا ہو، اور جو ممنوعات ہیں یعنی جن چیزوں سے حج کی حالت میں منع کیا گیا ہے اُن چیزوں سے وہ بچاہو۔

اور علماء نے باطنی علامت یہ لکھی ہے کہ حج کے بعد زندگی بدل گئی ہو، اگر پہلے داڑھی منڈاتا تھا ، کاروبار میں گھپلا کرتا تھا، گالی گلوچ کرتا تھا تو حج کے بعد اُس کی زندگی بدل جائے اور وہ نیک صالح بن جائے، اور اپنی بری زندگی کا ورق پلٹ دے۔اور اگر پہلے وہ نیک تھا تو حج کے بعد اُس کی نیکی میں اضافہ ہوجائے، اگر یہ علامت پائی جائے تو سمجھنا چاہیے کہ اُسے مقبول حج نصیب ہوا۔ اور حاجی کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہ آئے ، پہلے ہی کی طرح رہے، گالی گلوچ کرتا پھرے، نماز سے غافل اور کاروبار میں غیر محتاط رہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ اُس کا حج مقبول نہیں ہوا ، اُسے چاہیے کہ دوبارہ حج کرے اور زندگی سنوارے۔ اگرچہ حج کی فرضیت اُس کے ذمہ سے ختم ہوگئی مگر مقبولیت کے درجے کو نہیں پہنچی۔ (مستفاد از : تحفۃ القاری ۱/۲۴۰، تحفۃ الامعی ۳/۲۰۰) (جاری)