ہفتہ, 8, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیں۔۔۔

ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیں۔۔۔

تحریر:محمداطہرالقاسمی
نائب صدر جمعیت علماء بہار
30/اکتوبر2021
_________
ملک کے سماج دشمن عناصر اور انسان نما درندوں نے جس وحشت و بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تریپورہ میں آگ و خون اور خوف و دہشت کا بازار گرم کر رکھا ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔اگر حکومت کی طرف سے فوری طور پر شرپسندوں اور امن کے دشمنوں کو کیفرکردار تک نہیں پہنچایا گیا تو ملک کے امن وامان اور اس کی سالمیت کی بقا کے لئے یہ انتہائی خطرناک ثابت ہوگا۔
بنگلہ دیش میں اقلیتی برادری پر تشدد ہوا تو بھارت کی تمام ملی وسماجی جماعتوں نے اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی جبکہ بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ نے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے اقلیتی برادری کو تحفظ فراہم کیا۔ہم ایک بار پھر بنگلہ دیش کے تشدد کی سخت مذمت کرتے ہیں اور حکومت سے خاطیوں پر سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔لیکن بنگلہ دیش کے تشدد کا بدلہ تریپورہ یا بھارت کی کسی دوسری ریاست کے مسلمانوں کی جان و مال سے لیا جائے یہ کتنی افسوس ناک و شرم ناک حرکت ہے۔اسے کوئی بھی منصف کسی بھی قیمت پر جائز نہیں ٹھہراسکتا۔
اخبارات کی تفصیلات کے مطابق 20/اکتوبر 2021 سے جاری سماج دشمن جماعتوں کے مظاہروں اور ریلیوں کے درمیان اب تک درجنوں مساجد کے ساتھ مسلمان مردوں اور عورتوں پر حملے،ان کی دوکانوں اور مکانات میں توڑ پھوڑ،آتش زنی اور مسلم مخالف نعرے بازی کا سلسلہ تھمنے کانام نہیں لے ریا ہے۔حتیٰ کہ مسلمانوں کی سب سے مقدس کتاب قرآن کریم اور آخری رسول رحمۃ للعلمین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کی شان میں کھلے عام طوفان بدتمیزی نے ملک کے پچیس کروڑ مسلمانوں کے جذبات کو چھلنی کردیا ہے۔وہ سخت صدمے اور بےچینی میں ہیں اور اپنے جان و مال،عزت و آبرو اور شعائر اسلام کے تحفظ کے حوالے سے وہ سخت اضطراب کے شکار ہیں۔ملک کی باوقار ملی تنظیم جمعیت علماء ہند کے صدر حضرت مولانا سید محمود اسعد صاحب مدنی نے 24/اکتوبر 2021 کو ہی اس سانحہ پر ریاستی و مرکزی حکومت بالخصوص ملک کے وزیر داخلہ سے فوری مداخلت کرتے ہوئے ملوث جماعتوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا جبکہ دیگر ملی جماعتیں اپنے طور پر مسلسل کارروائی کا مطالبہ کررہی ہیں مگر ہفتہ عشرہ گذر جانے کے باوجود تاہنوز دنگائیوں کی یہ غنڈہ گردی تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے؛جیسے لگتا ہے کہ ملک میں کوئی دیکھنے والا،سننے اور روکنے ٹوکنے والا ہی نہیں ہے۔ریاستی و مرکزی حکومت کی یہ خاموشی سب سے زیادہ افسوسناک و شرم ناک ہے۔
مرکزی و ریاستی سرکار کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر وہاں کی مظلوم اقلیت کے خلاف ظلم وتشدد کے سلسلے پر قدغن لگائے۔بلوائیوں،دنگائیوں اور فسادیوں کو کیفرکردار تک پہنچاتے ہوئے اقلیتی برادری کے جان و مال کو تحفظ فراہم کرے اور نقصانات کی فوری تلافی کرے۔
اس موقع پر ان ظالم بلوائیوں کو یہ شعر ضرور یاد کرلینا چاہئے کہ ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیں
ناؤ کاغذ کی سدا چلتی نہیں۔ظلم فرد کرے یا جماعت اور عوام کرے یا حکومت؛دستور الہی یہی ہے کہ دیر یا سویر ظلم کا بدلہ ہرحال میں مل کر ہی رہتاہے۔ظالم کو ہمیشہ عبرت انگیز سزائیں ملتی ہیں اور آخر کار وہ اور اس کی نسل تباہ و برباد ہوکر ہی رہتی ہے۔طاقت کے نشے اور اکثریت کے غرور میں کسی کو ہرگز یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ مظلوم بےیار و مددگار ہے۔اس کا کوئی پرسان حال اور محافظ و سہارا نہیں ہے۔دنیا کے شب وروز اور ماہ و سال گواہ ہیں کہ ایسے ظالموں بالخصوص اللہ کے پاک گھروں،اس کی مقدس کتابوں اور اس کے پیارے رسول حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کرنے والے بدبختوں کو خداوند عالم نے موت سے پہلے اسی دنیا میں عبرت انگیز سزائیں دی ہے۔اس لئے کہ وہ اس دھرتی کا خالق بھی ہے،مالک بھی اور احکم الحاکمین بھی۔دنیا والے جتنی بھی طاقت اور اقتدار حاصل کرلیں لیکن وہ ہرگز خدا نہیں بن سکتے۔جب خدائی کا دعویٰ کرنے والے دھرتی کے مشہور ترین ظالمین؛ فرعونوں،نمرودوں،ہامانوں اور شدادوں کو اس احکم الحاکمین نے اس دھرتی والوں کے لئے سامان عبرت بنادیا تو پھر ان کی راہوں پر چلنے والے ان کے متبعین کو بھی وہ ان کے کئے کی سزائیں دے گا اور ضرور دے گا انشاءاللہ۔ہاں کہتے ہیں کہ خدا کی لاٹھی میں آواز نہیں ہوتی۔
یہاں پر ملک کے انصاف پسند شہریوں،امن و انسانیت کے علمبرداروں اور سیکولرزم کی دعویدار سیاسی جماعتوں کا بھی فریضہ ہے کہ وہ بھی رنگ و نسل اور دھرم و مذہب کی سیاست سے اوپر اٹھ کر ملک کی سالمیت،بقاء انسانیت،تحفظ آئین و جمہوریت،آپسی رواداری اور مظلوموں کی دادرسی کے لئےحق و انصاف کا پرچم بلند کریں اور جس طرح ملک کے اکثریتی طبقے پر ظلم وتشدد کے خلاف وہ سینہ سپر ہوجاتے ہیں اسی طرح اقلیتی برادری جو کہ ملک کی دوسری سب سے بڑی اکثریت ہے پر ظلم وتشدد کے خلاف بھی ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر اپنا عملی کردار درج کرائیں۔
آخری بات یہ کہ ایسی حالت میں ہمیں ملک کے آئینی حقوق کے استعمال کے ساتھ اپنے مظلوم بھائیوں کی مظلومیت پر خداوند عالم سے ربط و تعلق کو بھی بڑھانا چاہئے اور رب العلمین کی طرف رجوع کرتے ہوئے اپنی آہ و فریاد سے اس کی رحمت کو اپنی طرف متوجہ بھی کرنا چاہیے تاکہ مظلوم کی دادا رسی ہو اور ظالم کو ظلم کی سزائیں ملیں۔۔۔

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے