جمعرات, 6, اکتوبر, 2022
ہومنقطہ نظرطویل مدتی،راہِ عمل!

طویل مدتی،راہِ عمل!

خالدانورپورنوی،المظاہری
یقیناہم برُے دور سے گزر رہے ہیں ،اقتصادی ،معاشی ،تعلیمی بحران کے ساتھ ہماری جانیں بھی محفوظ نہیں ہیں ،انسانوں کی اس بستی میں اخلاق وپہلوخان ،تبریز و نوشاد کو بلاکسی وجہ کے یونہی مار دیا جاتاہے ، افسوس تو اس بات کا ہے کہ دیکھنے والے یا تو چپ ہیں ،یا مارنے والوں کے ساتھ، شریک ہوجاتے ہیں ،پولس و انتظامیہ کی طرف سے بھی مسلسل لاپرواہی ،یقینا بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے؛مگرکیا یہ بھی سچ نہیں ہے کہ ہم ابھی تک کو ئی اہم ،اور مضبوط پلان بنانے کیلئے بھی تیار نظر نہیں آرہے ہیں ۔

انصاف کیلئے پرامن احتجاج ضروری ہے ؛مگر کیا صرف یہی کافی ہے؟اگر ایساہوتاتو تبریز انصاری کے قتل کے خلاف باوجودیکہ ملک بھرمیں سب سے زیادہ احتجاج ہوا ، لمگر فیصلہ سامنے آتاہے کہ ہارٹ اٹیک سے موت واقع ہوئی تھی، جذبات میں آکر مشتعل ہوجانا ، جلسوں ،کانفرنسوں ،کے ذریعہ شور و ہنگامہ اور غم و غصہ کا اظہار کرنا بھی ضروری ہے ؛مگر کیا یہ ہمارے مسئلے کا حل ہے ؟ اگر ایسا ہوتا تو تین طلاق، سیاہ بل کے خلاف نہ صرف ہم نے جلسوں کاانعقاد کیا ؛بلکہ ہماری عورتیں بھی سڑکوں پر نکل آئیں ،اورلاکھوں کی تعداد میں اپنے دستخطی مہم کے ذریعہ سرکار کے اس ظالمانہ قانون کے خلاف غم وغصہ کا اظہار کیں،مگر کیا ہو ا؟کیا سرکار جھک گئی ؟کیاہمارے مطالبات مان لئے گئے ؟بلکہ اس کے ذریعے فرقہ پرست طاقتوں کی پبلیسٹی ہوئی ،جو کام وہ خود نہیں کر سکی ،ہم سب جانے ،انجانے میں اس کیلئے ایک اشتہار کی طرح استعمال ہونے لگے۔

جذباتی باتوں ،بھڑ کیلئے بھاشنوں سے کون خو ش نہیں ہوتاہے ،مگر اس کے نتائج وانجام پر بھی غور ہونا چاہئے ،یہی ہماری مجبوری ہے کہ ہم مضبوط قوتِ ارادی،جہدمسلسل اور طویل مدتی، راہ عمل طے کرنے کے بجائے وقتی ،اور جذباتی نعروں کے پیچھے بھاگناہی کافی سمجھنے لگے ہیں ؛اسی لئے جب کوئی مصیبت ہم پر آپڑتی ہے ،تو مضبوطی سے کوئی فیصلہ لینے ،اور اس پر عمل کرنے کے بجائے ،ہم فوراًگھبراجاتے ہیں ،اور جب تھوڑی سی خوشی محسوس ہوتی ہے تو آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں ،سوشل میڈیا کے ذریعہ اس کو اتناشئر کرتے ہیں ،کہ پھرہم شئیرنگ سے اور آگے نہیں بڑ ھ پاتے ،اور وہ لو گ جا گ جاتے ہیں ،جو ہمارے وجود کو مٹانا چاہتے ہیں ۔
یقینایہ بات سوچنے والی ہے ،کہ جن کے پاس مستقل کوئی کتاب نہیں ،کوئی پیغمبر نہیں ،بلکہ کسی ایک خدا پر ان کا آپس میں اتفاق بھی نہیں ،نہ جینے کا کو ئی مقصد ہے ، اور نہ مرنے کے بعد ثواب وعذاب پر کوئی یقین ہے ، مگر وہ آج مضبوط پلان کے تحت حاکمِ وقت بنے بیٹھے ہیں ،اقتصادی ،سیاسی ،تعلیمی ،سماجی ہر اعتبار سے وہ کامیاب و بامراد ہیں ،ملک کے تنظیمی ڈھانچہ پر قبضہ اور کنٹرول بھی انہیں کا ہے ،ہزاروں اختلاف کے باوجود وہ سب اپنے آپس میں متحد ومربوط ہیں ،اور ہم مسلمانوں کے پاس سب کچھ ہونے کے باوجود ،بے مقصد جینااپنی زندگی کا ہم نے اپنامقصد بنالیا ہے ،اللہ کی طرف سے دستورِحیات کا ایک تحفہ ہمارے پاس موجود ہے؛ مگر وہ کتاب طاقوں کی زینت بن کر رہ گئی ہے ،نبی کریم ﷺکی مکی اورمدنی زندگی کا پورانقشہ ہمارے سامنے میںموجود ہے ؛مگر عملی زندگی میں ہم نے اسے پیش کرنا چھوڑ دیاہے،اگر اسی طرح کی بے حسی ہم پر غالب رہی تو حالات مزید خراب ہونے کے امکانات نظر آرہے ہیں ۔

طویل مدتی ،راہ عمل کیلئے ،ہماری نظر میں سب سے بنیادی چیز اعلیٰ تعلیم ہے ،امت مسلمہ کی بدحالی ، مفلسی اور درماندگی کا علاج اس کے بغیر ممکن نہیں ہے،کہ ایک مشن ،ایک تحریک کی طرح تعلیم سے ہمارا رشتہ قائم ہو،یہ ہماری سب سے پہلی ضرورت ہے ،ہمیں یہ یقین کرناہوگا کہ دینی تعلیم کے ساتھ ،عصری تعلیم میں درجہ کمال حاصل کئے بغیر نہ تو اقتصادی ومعاشی بحران کا خاتمہ ہوسکتا ہے ،اور نہ ہی ملک کے تنظیمی تانے ،بانے میں ہماری شمولیت ہوسکتی ہے ، اگر آنے والے بیس سال کاہم نے مکمل نقشہ مرتب کرکے تعلیم کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا لیا ،تو یاد رکھئے! یہ ملک آپ کا ہے ،اور اس ملک کی تقدیر آپ کے ہاتھوں میں لکھی جائے گی ۔

ہاں !ہم یہ مانتے ہیں کہ ماحول کو پرا گندہ کیا جارہا ہے ،سماج میں قائم امن واتحاد کو ختم کرنے کی ساری تدبیریں اپنائی جارہی ہیں ،مذہب کے نام پر سماج کو تقسیم کرکے ملک کو غلامی کی زنجیر میں دھکیلنے کی پوری کوششیں کی جارہی ہیں ،ہجومی تشدد کے ذریعہ مسلمانوں کو خوف وہراس کی بیماریوں میں مبتلا کرنے کی سازشیں رچی جا رہی ہیں ،ایسے ماحول میںپریورتن اور بدلائولانے کیلئے دوسری بنیادی چیز سوشل ورک ہے، اللہ کے رسول ﷺکی مکی زندگی میں غورکریں،تو اس بات کی طرف مکمل رہنمائی بھی ملتی ہے ،کہ جب سا را عرب آپ کا دشمن ہے ، آپ سوشل ورک کی طرف توجہ دیتے ہیں ،حدیث کی ساری کتابوں میں یہ واقعہ درج ہے ،کہ جب آپ ﷺ پر پہلی وحی نازل ہوتی ہے ،آپﷺ پر خوف طاری ہے ،غارِحراسے گھرآتے ہیں ،چادر اوڑھ کر لیٹ جاتے ہیں ،اپنی اہلیہ محترمہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاسے کہتے ہیں : مجھے اپنے بارے میں ڈر لگ رہاہے ،اس پر حضرت خدیجہ آپ کو تسلی دیتی ہے :’’خداکی قسم !اللہ آپ کوغمزدہ نہیں کرے گا ،آپ تو صلہ رحمی کرتے ہیں ،ضرورت مندوں کے کام آتے ہیں ،مہمانوں کی خدمت کرتے ہیں ، لوگوں کی مشکلات میں ان کا ہاتھ بٹاتے ہیں ،اور بے سہارہ لوگوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں‘‘،اور اس میں کوئی شک نہیں کہ آپﷺسب سے بڑے سوشل ورکر تھے ،اور دکھی انسانیت کی خدمت آپ کی سب سے پہلی سنت مبارکہ تھی ،اور یہی کامیابی کی سب سے بڑی دلیل تھی کہ آپ کے جو دشمن تھے ،وہ آپ کے جاں نثارساتھی بن جاتے ہیں۔

جلسوں،کانفرنسوں کی ہیئتِ ترکیبیہ کو اب بدلناہوگا،اس لئے کہ لاکھو ں کے مجمع ِعام سے جو خطاب ہوتاہے،اس میں جارحیت کی روش غالب آجاتی ہے،اور یہی چیز نقصاندہ ہوتی ہے،اس کے بالمقابل اگر منظم اندازمیں چھوٹے،چھوٹے اصلاحی ودعوتی پروگرامس منعقد کئے جائیں،اپنے پڑوس میں بسنے والے ہرفرد بشر کو شرکت کی دعوت دی جائے،گفتگوعام ،فہم ہو،موضوعات کے ساتھ،مقررین پہلے سے منتخب ہوں ، انسانی سماج کی تعمیروترقی کے لئے آپ ﷺ کاعملی کردار پیش کیاجائے،اسی طرح انسانوں کے حقوق، پڑوسیوں کے حقوق،شجرکاری کے ذریعہ فضائی آلودگی کو ختم کرنے کا نسخہ،درخت لگانے کی فضیلت، آپ ﷺ کی سیرت واخلاق کا تذکرہ ہو، توسب کو اس کا فائدہ ہوگا، اور جس دن یہ دنیا آپ کو اپنے لئے مفید سمجھ لے گی،وہ آپ کے قدمِ مبارک میں اپناسررکھنا،باعث فخر وکمال محسوس کرے گی۔

ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ ہم امت اِجابت ہیں،اور مسلمانوں کے علاوہ ہندوستان میں بسنے والی تمام نسل انسانی امتِ دعوت ہے،یعنی امت میں دونوں مشترک ہیں،انہیں مقابل ومخالف اور دشمن سمجھنے کی قطعااجازت نہیں ہے،بلکہ امتِ اجابت کا فریضہ ہے کہ ان تک دین کی دعوت کو پہونچائیں،ان کیلئے ہدایت کی دعاء کریں،اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے عمل وکردار کے ذریعہ ہمیں یہ بتایاہے اور اس جانب رہنمائی بھی کی ہے،کہ جب طائف میں آپ کو لہولہان کردیاگیا،پہاڑ کا فرشتہ حاضر ہے،حضورﷺ!آپ حکم دیں تودونوں پہاڑوں کو ملاکر طائف والوں کو پیس کررکھدیں،؛مگر آپ انکارکردیتے ہیں،اور ان کی ہدایت کیلئے دعاء شروع کردیتے ہیں،یہ واقعہ صرف اس لئے نہیں ہے کہ ہم سنیں اور بھول جائیں،بلکہ اسے اپنی زندگی میں پیش کرکے ہی ہم وہ امت جو ہمیں اپنامخالف سمجھتی ہے،اسے دوست بناسکتے ہیں۔

اگر آپ غور فرمائیں !تو نظر آئیگا کہ سب سے زیادہ بے روزگاری آج ہندوستان میں ہے ،اسمارٹ سیٹی تو ایک سپناہے،گائوں ، دیہاتوں میں نہ اسپتال ہے ، اور نہ قاعدے کا اسکول ہے ،وہ نوجوان جن کے ہاتھوں میں کمپیوٹر اور سائنس ہوناچاہئے،وہ لینچنگ کررہے ہیں،یعنی بے روزگاری،اور انسانی ضرورت کی تکمیل نہ ہونے کی وجہ سے آج کا نوجوان ادھر ،ادھر بھٹک رہاہے،ایسے میں تیسری اور بنیادی چیز انسانی ضرورت کی تکمیل سمجھ میں آرہی ہے،اور ہندوستان میں ،ہمارے مسلمانوں میں سے صاحب ِثروت لوگوں کی یقیناکمی نہیں ہے،اگر مخیرین آگے آئیں،اسکول وکالج اور اسپتال کا نظام قائم کریں ،عیسائی مشنری کی طرح تمام مذاہب کے لوگوں کے لئے استفادہ کا بہترین ذریعہ پیش کردیں،اور روزگار کے مواقع بھی مہیا فر ما د یں ، یعنی بلاتفریق مذاہب روٹی، کپڑا،مکان،دوائی کا مسئلہ حل ہوجائے تو یقینا لو گ اسلام اور مسلمانوں کے قریب ہونگے ،اس لئے کہ انسان احسان کا غلام ہوتاہے ؛لیکن دقت یہ ہے کہ نماز،روزہ کانام ہی ہم نے اسلام رکھ دیاہے،حالانکہ خدمت ِخلق بھی سب سے بڑی عبادت ہے۔

بوڑھوں کی خدمت ،مظلوموں کی اعانت ،مریضوں کی عیادت ،پڑوسیوں کے حقوق کی رعایت،ہمدردی،خیرخواہی کے جذبوں کو فروغ دے کرہی دعوتِ اسلام کو ہندوستان کے ہر ہر فرد تکاسلام اوراس کے احکامات وتعلیمات کو ہرفرد بشرتک ہم پہونچاسکتے ہیں ،ہمیں یہ ماننا ہو گاکہ کردار وعمل ، اور اخلاق کی پاکیزگی کے ذریعہ ہی اسلام مکہ مکرمہ سے پوری دنیاتک پہونچاہے،اور آج کے حالات کے تناظرمیں اسی اخلاق کریمانہ کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے؛لیکن اگر ہم نے اپنے آپ میں تبدیلی نہیں لائی، اور ابھی بھی نیندسے بیدار نہیں ہوئے، اپنا راہِ عمل طے نہیں کیاتو یادرکھئے!کاسہ گدائی لے کر بھیک مانگتے رہئے ؛لیکن ہماراکوئی پرسان حال نہیں ہوگا۔

یا درکھئے ! اقلیت اور اکثریت کبھی بھی کامیابی کا معیارنہیں رہاہے،غزوہ بدربھی سامنے ہے،جہاں بے سروسامانی کے عالم میں ہماری فتح ہوتی ہے،اور غزوہ احد بھی سامنے ہے،جہاں سب کچھ ہونے کے باوجود ہماری سکشت ہوتی ہے،دلوں میں حوصلہ،حوصلوں میں عزم ، اور عزم میںخلوص ضروری ہے،سعی پیہم،یعنی لگاتارکوشش بہت ضروری ہے،حالات سے گھبراکر، مایوس بیٹھ جانا،یہ مسئلہ کا حل نہیں ہے،گرنا،سنبھلنا،یہ انسانی زندگی کا حصہ ہے،اور آپ چونکہ مسلمان ہیں،یعنی ایک خداکے پرستارہیں،اور سب سے افضل پیغمبر کے ماننے والے ہیں،حالات تو پیش آئیں گے،آزمائشیں تو ہونگی؛مگر ضروری ہے کہ اچھے اندازمیں ان حالات کا مقابلہ کیاجائے،اور اس کیلئے جہاں علم کی ضرورت ہے ، پیسوں کی بھی ضرورت ہے،ایسے میں تجارت،بزنس،کاروبار میں درجہ کمال کاحاصل ہونابھی ضروری ہے،مگر یہاں بھی مقصودرضائے الٰہی کا حصول،اور خدمت خلق کا جذبہ کارفرماہو۔

لیکن یہ مت بھولئے کہ آپ پر خوف مسلط کرنے کی کوششیں زورو شور سے ہورہی ہیں،خوف کی دنیا سے آپ باہر نکلئے ،صرف ایک خدا سے ڈرئیے،ہرحالت میں اسلام پر قائم رہیے ، اور اس کی تعلیمات کی روشنی سے اپنے آپ کو منور کیجئے ،اتحاد واتفاق اللہ کی رسّی ہے ،اس کو مضبوطی سے پکڑ ے رہیے ،کڑی سے کڑی ، کو جوڑ کر رکھئے، اختلاف کیجئے،مگر اپنوں سے مت کٹئے ،رشتوںکو مظبوط بنائیے ، اپنی حفاظت خودآ پ کیجئے ،اور اپنی حفاظت کرنابھی سیکھئے!باتوں سے یقینا کسی قوم کی تقدیر نہیں بدلی ہے،اس لئے کام کیجئے، اور یہ جان لیجئے کہ آپ کے سرپررب ِذوالجلال نے خلافت کا تاج رکھاہے،اور اور اس کے لئے محنت، فکر و عمل ، طویل مدتی، راہ عمل ضروری ہے۔

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے