جمعرات, 6, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتطلبہ کو سوریہ نمسکار کے لیے مجبور کرنا آئین کی خلاف ورزی

طلبہ کو سوریہ نمسکار کے لیے مجبور کرنا آئین کی خلاف ورزی

 

طلبہ کو سوریہ نمسکار کے لیے مجبور کرنا آئین کی خلاف ورزی: مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

 طلبہ کو سوریہ نمسکار کے لیے مجبور کرنا آئین کی خلاف ورزی: مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

ملک کی پچہترویں یوم آزادی کے موقع پر حکومت ہند کے ذریعہ تمام اسکولوں میں سوریہ نمسکار کو متعارف کرانے کامتعصبانہ فرمان ملک کے مسلمانوں اور سیکولر عوام کے لیے تشویش کا باعث بن گیا ہے ۔ خاص کر مسلمانوں کے عقائد سے ٹکرانے کی وجہ کرمسلم طلبہ اور ان کے گارجینوں میں شدید اضطراب پایا جا رہا ہے ، مسلم قائدین اس زعفرانی فرمان کے خلاف حرف احتجاج بلند کر رہے ہیں ۔ریاست بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کی معروف ومعتبر تنظیم امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب نے بھی حکومت کے اس حکم نامہ پر اعتراض کیا ہے اور اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا ہے ۔

مولانا موصوف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے، جس کا آئین سیکولر بنیادوں پر بنایا گیا ہے ، جس کا مطلب ہے کہ کسی بھی ایک مذہب کو اس ملک میں آئینی و دستوری طور پر فوقیت نہیں دی جائے گی اور اس کے رسم و رواج اور احکامات کو ملک کے شہریوں کے لیے لازم نہیں کیا جائے گا بلکہ ہر شخص کو اپنے لیے اپنا پسندیدہ مذہب و عقیدہ اختیار کرنے اور اس کے رسم و رواج پر چلنے کی آزادی ہو گی ۔

یہی وجہ ہے کہ آزادی کے بعد سے ملک میں بننے والے قوانین و ضوابط ، منصوبوں اور پالیسیوں میں آئین کے اس بنیاد ی اقدار کا ہمیشہ خیال رکھا گیا ۔ آزادی کے بعد سے جتنی تعلیمی پالیسیاں بنیں یا نصاب تیار کیے گئے ان سب میں یہ بنیادی عنصر ملحوظ رکھا گیا ۔ مگر اسی وقت سے ملک کی ایک جماعت ایسی بھی تھی جس کو یہ سیکولر اقدار کبھی ہضم نہیں ہوئے اور وہ اس ملک کو ایک خاص مذہب و عقیدے کا پابند بنانے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہی ۔ 2014میں جب سے بی جے پی کی قیادت میں اس جماعت نے پوری اکثریت کے ساتھ زمام اقتدار اپنے ہاتھ میں لیا، تو وہ اس ایجنڈے کی تکمیل میں لگ گئی اورپورے ملک کو زعفرانی رنگ میں رنگنے کی قواعد شروع کردی ۔ تعلیمی پالیسی کا بھگوا کرن اور تعلیمی نظام کو ہندتو کے عقیدے اور آستھا کی بنیاد پر چلا نا اس کے اولین ایجنڈے میں شامل ہے ۔ اسی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے اس نے پورے ملک میں نئی قومی تعلیمی پالیسی 2020 لاگو کرنے کا فیصلہ کیا ، جو مکمل طور پر ہندوتو کی ترجمان ہے اور قدیم سناتنی روایات کو مد نظر رکھ کر بنائی گئی ہے ۔نئی قومی تعلیمی پالیسی میں جو سفارشات کی گئی ہیں اسکو عملی جامہ پہنائے جانے کا کام شروع ہو چکا ہے ۔ یکم جنوری 2022سے تیس ریاستوں کے تقریباً تیس ہزار اسکولوں میں سوریہ نمسکار کو متعارف کرانے اور یوم جمہوریہ26جنوری 2022کے موقعہ پر طلبہ و طالبات کے ذریعہ سوریہ نمسکار پر مشتمل تقریب کے انعقاد کا فیصلہ اسی کی ایک کڑی ہے اور ملک کو ہندو راشٹر بنانے کی طرف بڑھتا ہوا قدم ہے۔

مفتی صاحب نے کہا کہ حکومت کا یہ اقدام آئین کے بنیاد ی اقدار کی سراسر خلاف ورزی اور مسلمان طلبہ و طالبات کے لیے ناقابل قبول ہے۔ مسلمان اللہ کے علاوہ کسی بھی جاندار یا بے جان شئی کی عبادت و پوجا نہیں کر سکتا ۔ سوریہ نمسکار کا جو طریقہ ہے وہ گویا سورج کی عبادت کرنے ہی کے مترادف ہے ۔ جو ہمیں کسی بھی صورت میں منظور نہیں ہو سکتا۔ مولانا نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس حکم نامہ کو فوراً واپس لے اور اس کو اسکولوں میں نافذ کرنے سے باز آئے ۔ انہوں نے تمام مسلم طلبہ و طالبات سے اپیل کی ہے کہ اگر ان کے اسکولوں میں سوریہ نمسکار کا پروگرام ہوتا ہے تو وہ ہرگز اس میں شریک نہ ہوںاور نہ اس طرح کی کسی بھی تقریب میں حصہ لیں۔

انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ ملک کی عوام کو اس طرح کے فضول راشٹر واد میں الجھانے کے بجائے ملک کے حقیقی مسائل کی طرف توجہ دے ، مہنگائی اور بے روزگاری کی روک تھام ، سرحدوں کی حفاظت ، ملکی اثاثوں کے تحفظ جیسے مسائل پر اپنی توجہ صرف کرے۔ کسی ایک مذہب کو عوام پر لازم کر دینا کوئی راشٹر واد نہیں ہے۔

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے