طالبان کو ایک بڑا معاشی چیلنج درپیش ہے، ماہرینِ معاشیات

45

افغانستان کی معاشی حالت جو پہلے ہی اس کے باوجود بہت خراب تھی کہ اسے مغربی ملکوں خاص طور پر امریکہ سے بھاری مدد ملتی تھی، اب مزید خراب ہوگئی ہے اور طالبان کی جانب سے ملک کا کنٹرول سنبھالے جانے کے بعد امداد کا سلسلہ منقطع ہونے کے سبب وہاں معاشی حالات اور بھی خراب ہوتے جارہے ہیں۔

اکثر ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ طالبان کو ایک ایسی بند گلی کی جانب دھکیلا جا رہا ہے جہاں انکے پاس متبادل راستے بالکل ختم ہو جائیں اور ایک ایسا خلا پیدا ہو جائے جسے پر کرنے کے لئے چین اور روس جیسے ممالک آگے آئیں اور مغرب کا تعلق افغانستان سے بالکل محدود ہو کر رہ جائے۔

ڈاکٹر اشفاق حسن ممتاز ماہر معاشیات اور پاکستان کے سابق مشیر خزانہ ہیں۔ افغان معیشت کے حوالے سے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت طالبان ایک عبوری دور سے گزر رہے ہیں اور افغانستان کے لئے یہ بڑے چیلنجوں کا دور ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کا کچھ تو ریزرو اس کے سینٹرل بنک کے پاس ہے، جس سے وہ اپنا کام چلا رہے ہیں، جبکہ نو ارب ڈالر کے قریب ان کی رقوم ایک مغربی ملک کے بنکوں میں منجمد کر دی گئی ہیں۔ عالمی بنک نے بھی نہ صرف یہ کہ افغانستان کے لئے کووڈ ریلیف کی مد میں منظور کی گئی رقم اسے ابھی تک نہیں دی ہے جو ساری دنیا کو دی جارہی ہے، بلکہ اس کی فنڈنگ بھی ابھی رکی ہوئی ہے۔

ڈاکٹر اشفاق حسن نے کہا کہ اس طرح ایک خلاء پیدا ہو رہا ہے، جسے پر کرنے کے لئے وہ ملک آگے آئیں گے جو نہیں چاہتے کہ مغربی ممالک کا اس خطے میں کوئی عمل دخل باقی رہے۔ انہوں نے کہا اب ہو گا یہ کہ چین اور روس جیسے ملک آگے آئیں گے اور چین کے پاس کیش کی کمی نہیں ہے جو وہ طالبان کی بننے والی حکومت کو دیگا اور اپنی ساکھ بنائے گا۔

انہوں نے کہا وہ سمجھتے ہیں کہ آئندہ چھہ ماہ کے بعد جب طالبان اپنے قدم جما لیں گے تو دنیا دیکھے گی کہ سی پیک افغانستان کے راستے وسطی ایشیاء تک وسعت پائے گا اور افغانستان جنوب اور وسطی ایشیاء کے لئے ایک گیٹ وے بن جائے گا۔ وسطی ایشیاء میں انرجی کے قدرتی وسائل ہیں جبکہ جنوبی ایشیاء کو انرجی کی ضرورت ہے اور یہ تجارت افغانستان کے راستے ہو گی جس سے اس کو بہت فائدہ ہو گا اور یہ موقع اسے خود مغرب فراہم کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مغربی ملکوں کے پالیسی سازوں کے لئے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ وہ تعاون کرکے طالبان کا اعتماد حاصل کریں اور خطے میں اپنی موجودگی برقرار رکھیں، ورنہ، بقول انکے، وہ گیم سے بالکل باہر ہو جائیں گے۔

شاہد جاوید برکی ورلڈ بنک کے ایک سابق عہدیدار ہیں۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مغرب میں افغانستان کی رقوم منجمد کرنے کے سبب ان کی مشکلات شدید ہوگئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یونیسیف نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر افغانستان کو اس کی وہ رقوم نہیں دی گئیں، جو منجمد کر دی گئی ہیں، تو بہت نقصان ہو گا، کیونکہ وہاں حالت یہ ہے کہ ان کے پاس خوراک اور ادویات تک کی خریداری کے لئے پیسے نہیں ہیں۔

شاہد جاوید برکی نے کہا کہ افغانستان کے پاس بھاری قدرتی وسائل موجود ہیں اور چین جیسے ملک ان سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ روس مالی طور پر اتنا مضبوط نہیں ہے کہ وہ، بقول ان کے، افغانستان کی کوئی مدد کرسکے؛ لیکن وہ عسکری تربیت اور مدد فراہم کر سکتا ہے، مالی مدد اور افغانستان کی معیشت کو بہتر بنانے کے لئے چین واحد ملک ہے جو مدد دے سکتا ہے؛ اور مغربی ملکوں کی بے رخی اسے افغانستان میں قدم جمانے میں مدد دے سکتی ہے۔

مغربی ملکوں کا خیال ہے کہ طالبان پر یہ دباؤ برقرار رکھنا ضروری ہے کہ وہ انسانی حقوق کی پاسداری اور خواتین اور اقلیتوں کے حقوق اور جمہوریت کے لئے اپنے وعدے پورے کریں۔