ضرورت ہےدعاؤں کے اہتمام کی

54

فی زمانہ پورے عالم میں ایک اضطراب کی کیفیت ہے، بالخصوص ہمارا ملک بھارت سنگین بحرانی مرحلے سے گزر رہا ہے۔ اور اس پر مستزاد یہ کہ مسلم امہ کے حوالے سے عدم اطمینان و بے یقینی کا ماحول بنا ہوا ہے، مسلمانان ہند پر( فاشسٹ نظریہ کی حامل) مرکزی کی حکومت کی طرف سے عرصۂ حیات تنگ کرنے کے نت نئے حربے استعمال کئے جارہے ہیں۔ حالات مشکل سے مشکل تر ہوتے جارہے ہیں لیکن ہم اتنے سادگی پسند ہو گئے ہیں کہ اس شدید ترین و پر آشوب دور میں بھی آسان اور بہت ہی آسان راستوں کے انتخاب میں انتہائی کسلمندی کا مظاہرہ کررہے ہیں ۔انہی میں سے ایک ہے کسی بھی مشکل وقت میں دعاء کا اہتمام کرنا –
کوئی بھی شخص کوئی کام اسی وقت توجہ، اہتمام اورانہماک و یکسوئی سے کرتا ہے جب وہ اس کام کی اہمیت سے واقف ہوتا ہے ۔

دعاء بھی ایک انتہائی اہم کام ہے
اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگاسکتے ہیں کہ خود ذات باری تعالٰی ( جس کے روبرو دست بدعاء ہونا ہے) فرماتے ہیں کہ : “ادعونی استجب لکم”*
مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا۔ ( غافر: ٦٠ )

اور ارشاد ربانی ہے : “ادعوا ربكم تضرعا وخفية إنه لا يحب المعتدين‎”*
اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے، یقیناً و ہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا-(الأعراف: ٥٥)

نیز اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں : “وإذا سألك عبادي عَني فإني قريب أجيب دَعوة الداع إذا دَعان فليستجيبوا لي وَليؤمنوا بي لعلهم يَرشدون”*
اور اے نبیؐ، میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں، تو اُنہیں بتا دو کہ میں ان سے قریب ہی ہوں پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے، میں اُس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہوں لہٰذا انہیں چاہیے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں یہ بات تم اُنہیں سنا دو، شاید کہ وہ راہ راست پالیں۔( البقرة: ١٨٦)

حالات سے نجات و نبرد آزمائی کے لئے ظاہری اسباب کو اپنانا ہی کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کے حضور معتکف و مظاہر ہوکر دعاؤں کا اہتمام کریں،خواہ یہ اہتمام اجتماعی شکل میں ( نماز فجر میں قنوت نازلہ کی صورت میں) ہو یا انفرادی شکل میں ہو۔ اس لئے کہ حالات کو پیدا کرنے ، آزمائش میں ڈالنے اور اس سے نجات دینے والی صرف اور صرف اللّٰہ تعالیٰ کی ذات عالی ہی ہے۔

جیسا کہ ارشاد باری ہے: ‏”ولنبلونكم بشيء من الخوف والجوع ونقص ‏من الأموال والأنفس والثمرات وبشر الصابرين‎”*
” اور ہم ضرور تمہیں خوف و خطر، فاقہ کشی، جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کر کے تمہاری آزمائش کریں گے”۔(البقرة: ١٥٥)

اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا: “إن يمسسكم قرح فقد مس القوم قرح مثله، وتلك الأيام نداولها بين الناس، وليعلم الله الذين آمنوا ويتخذ منكم شهداء، والله لا يحب الظالمين‎”*
“یہ تو زمانہ کے نشیب و فراز ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں تم پر یہ وقت ا س لیے لایا گیا کہ اللّٰہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تم میں سچے مومن کون ہیں، اور ان لوگوں کو چھانٹ لینا چاہتا تھا جو واقعی (راستی کے) گواہ ہوں کیونکہ ظالم لوگ اللّٰہ کو پسند نہیں ہیں”۔ (آل عمران: ١٤٠)

بہر کیف حالات خواہ کتنے ہی سنگین ہوں، ابتلاء و آزمائشیں کتنی ہی سخت ہوں، ابتلاء انفرادی ہو یا اجتماعی ان سے حصولِ نجات کا محض ایک ہی ذریعہ ہے جو کامیاب ہوسکتا ہے اور وہ ہے ‘دعاء’ اس لئے کہ حالات پیدا کرنے والی ذات اللّٰہ ہی کی ہے اور ان سے نبرد آزما کرنے و نجات دینے والی ذات بھی صرف اور صرف اللّٰہ تعالیٰ کی ہی ہوسکتی ہے۔
اور یہ بھی خوب جان لینا چاہئے کہ اللّٰہ تعالیٰ ویسے ہی بغیر کسی خطاء و جرم اورمعصیت کے انسانوں پر حالات نہیں ڈالتے بلکہ اس کے پس پردہ کچھ اسباب و عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: “وما أصابكم من مصيبة فبما كسبت أيديكم”
تم پر جو مصیبت بھی آئی ہے، تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے آئی ہے۔
اور اللّٰہ تعالیٰ کا برا کرم یہ ہے کہ وہ بہت ساری خطاؤں و عصیان کو درگزر کرکے پکڑ میں تخفیف کردیتا ہے، جیسا کہ مذکورہ آیت کے اخیر میں ہے ” ویعفوا عن کثیر”*

حاصل یہ کہ حالات سے نجات دہندہ صرف اور صرف ذاتِ باری تعالٰی ہی ہے۔لہذا اس کی طرف رجوع کیا جائے، اس سے قربت بڑھائی جائے، اور اسی سے گریہ اور آہ و زاری کی جائے۔ اسی سے استدعاء کی جائے۔

اور اس امت کے لئے تو خود رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ( و دیگر انبیاء و رسل کی زندگیاں بھی) نمونہ ہیں۔ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ابتلاء و آزمائش کے اوقات میں اس سے نجات و نبرد آزمائی کے لئے دعاؤں کا اہتمام کیا ہے، اور انبیاء سابقین نے بھی ۔

حضرت شعیب علیہ السلام پر اسی طرح کے حالات آئے تو دعاء فرمائی اور اللّٰہ تعالیٰ نے ان کی دعاء قبول فرمائی اور سرکشوں سے نجات عطاء فرمائی۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
“قال الملأ الذين استكبروا من قومه لنخرجنك ياشعيب والذين آمنوا معك من قريتنا أو لتعودن في ملتنا قال أولو كنا كارهين‎”*
‏”قد افترينا على الله كذبا إن عدنا في ملتكم بعد إذ نجانا الله منها وما يكون لنا أن نعود فيها إلا أن يشاء الله ربنا وسع ربنا كل شيء علما على الله توكلنا ربنا افتح بيننا وبين قومنا بالحق وأنت خير الفاتحين”*
اس کی قوم کے سرداروں نے، جو اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا تھے، ا س سے کہا کہ “اے شعیبؑ، ہم تجھے اور اُن لوگوں کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے ورنہ تم لوگوں کو ہماری ملت میں واپس آنا ہوگا” شعیبؑ نے جواب دیا “کیا زبردستی ہمیں پھیرا جائے گا خواہ ہم راضی نہ ہوں؟
ہم اللّٰہ پر جھوٹ گھڑنے والے ہوں گے اگر تمہاری ملت میں پلٹ آئیں جبکہ اللّٰہ ہمیں اس سے نجات دے چکا ہے ہمارے لیے تو اس کی طرف پلٹنا اب کسی طرح ممکن نہیں الا یہ کہ خدا ہمارا رب ہی ایسا چاہے ہمارے رب کا علم ہر چیز پر حاوی ہے، اُسی پر ہم نے اعتماد کر لیا اے رب، ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے اور تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے”( الأعراف: ٨٩،٨٨)

اسی طرح کے حالات حضرت ابراہیم علیہ السلام پر واقع ہوئے تو آپ نے دعاء فرمائی:
‏”وقال الذين كفروا لرسلهم لنخرجنكم من أرضنا أو لتعودن في ملتنا فأوحى إليهم ربهم لنهلكن الظالمين‎”* ‎ولنسكننكم الأرض من بعدهم ذلك لمن خاف مقامي وخاف وعيد”*”واستفتحوا وخاب كل جبار عنيد”*
“آخر کار منکرین نے اپنے رسولوں سے کہہ دیا کہ “یا تو تمہیں ہماری ملت میں واپس آنا ہوگا ورنہ ہم تمہیں اپنے ملک سے نکال دیں گے” تب اُن کے رب نے اُن پر وحی بھیجی کہ “ہم اِن ظالموں کو ہلا ک کر دیں گے”۔
“اور اُن کے بعد تمہیں زمین میں آباد کریں گے یہ انعام ہے اُس کا جو میرے حضور جواب دہی کا خوف رکھتا ہو اور میری وعید سے ڈرتا ہو “۔
“اُنہوں نے فیصلہ چاہا تھا (تو یوں اُن کا فیصلہ ہوا) اور ہر جبار دشمن حق نے منہ کی کھائی”-(سورہ ابراھیم: ١٥،١٤،١٣)

اسی طرح حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام کا واقعہ ہے:
” وقال موسى ربنا إنك آتيت فرعون وملأه زينة وأموالا في الحياة الدنيا ربنا ليضلوا عن سبيلك ربنا اطمس على أموالهم واشدد على قلوبهم فلا يؤمنوا حتى يروا العذاب الأليم “*”قال قد أجيبت دعوتكما فاستقيما ولا تتبعان سبيل الذين لا يعلمون‎”*
موسیٰؑ نے دعا کی “اے ہمارے رب، تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں زینت اور اموال سے نواز رکھا ہے اے رب، کیا یہ اس لیے ہے کہ وہ لوگوں کو تیری راہ سے بھٹکائیں؟ اے رب، ان کے مال غارت کر دے اور ان کے دلوں پر ایسی مہر کر دے کہ ایمان نہ لائیں جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں”۔
” اللّٰہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا “تم دونوں کی دعا قبول کی گئی ثابت قدم رہو اور اُن لوگوں کے طریقے کی ہرگز پیروی نہ کرو جو علم نہیں رکھتے”۔
(سورہ یونس: ٨٩،٨٨)

لہٰذا جب بھی امت مسلمہ پر حالات آئیں تو ظاہری تدابیر کے اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ دعاؤں کا سہارا لینے اور اہتمام کرنے کی ضرورت ہے۔
اللّٰہ سبحان و تعالیٰ خود اعلان فرماتے ہیں کہ :
‏” أمن يجيب المضطر إذا دعاه ويكشف السوء ويجعلكم خلفاء الأرض أإله مع الله قليلا ما تذكرون”* ( النمل: ٦٢)

کون ہے جو بے قرار کی دعا سنتا ہے جبکہ وہ اُسے پکارے اور کون اس کی تکلیف رفع کرتا ہے؟ اور (کون ہے جو) تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے؟ کیا اللّٰہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی (یہ کام کرنے والا) ہے؟ تم بہت کم نصیحت و عبرت حاصل کرتے ہو۔

فرمان نبوی علی صاحبہا الصلاۃ والسلام ہے :
“إذا سألت فاسأل الله ، وإذا استعنت فاستعن بالله ، واعلم أن الأمة لو اجتمعت على أن ينفعوك بشيء ، لم ينفعوك إلا بشيء قد كتبه الله لك ، وإن اجتمعوا علىٰ أن يضروك بشيء ، لم يضروك إلا بشيء قد كتبه الله عليك ، رفعت الأقلام وجفت الصحف” (قال الترمذی : هَذَا حَدِيث حَسَن صَحِيح )
” جب کچھ مانگنا ہو تو اللّٰہ ہی مانگو ، اور جب بھی مدد طلب کرنی ہو ،تو صرف اللّٰہ سے مدد طلب کرو ،اور یقین رکھو! کہ ساری امت تجھے کوئی نفع پہنچانا چاہے تو نہیں پہنچا سکتی،
سوائے اتنے نفع کے جو پہلے اللّٰہ نے تیرے لئے لکھ رکھا ہے ،اور سارے لوگ تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہیں تو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے ،سوائے اس نقصان کے جو اللّٰہ تعالی نے تیرے لئے لکھا ہوا ہے – قلمیں (مقدر ،نصیب لکھ کر )خشک ہو چکیں ،اور صحیفے بند ”

چونکہ فی زمانہ امت مسلمہ ہر جانب سے قومی و بین الاقوامی ، مذہبی وسیاسی ، سماجی و معاشی اور اقتصادی سطح پر اعدائے دین کی سازشوں ، مکر و فریب، ظلم و جبر اور استبداد و معاندت کا شکار ہے اس لئے ان حالات میں ظاہری تدابیر اختیار کرنے ( حکام وقت کے سامنے احتجاج و مظاہرے کرنے ، قومی و بین الاقوامی عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹانے) کے ساتھ ساتھ بدرگاہ ( مالک الملک و احکم الحاکمین ) دعاء کرنے کی بھی ضرورت ہے ۔ اس لئے کہ دنیاوی حکام و قضاۃ بلکہ کائنات کی ہر شئ اپنے عمل کی انجام دہی میں اللّٰہ تعالیٰ کے حکم کی محتاج ہے۔ جب رضاء الٰہی شامل حال ہوگی تو مثبت اور امن و عافیت کے فیصلے صادر ہوں گے، ورنہ یوں ہی حالات میں شدت و سنگینی اور ناکامی روز بروز درپیش ہوتی رہے گی۔

اور دعاء میں خشوع وخضوع اور عجز کے لئے استحضار اور اس کے معنی مفہوم کا سمجھنا ( اگر وہ عربی زبان میں ہے ) ضروری ہے ۔اس لئے عوام الناس کے لئے لازم ہے کہ اگر عربی زبان میں مرتب شدہ ماثورات و دعاؤں کا مفہوم سمجھ میں ‌نہ آرہا ہو تو اپنی مادری زبان میں ہی دست بہ دعاء ہوں۔

اس لئے کہ دعاء کے بارے میں کہا گیا ہے کہ “دعاء مؤمن کا ہتھیار ہے اور اللّٰہ تعالیٰ سے قرب کا ذریعہ بھی”۔

ابوالحسنات قاسمی
دارالثقافہ ، اسونجی بازار ، گورکھپور