صحت کی حفاظت بہرحال مقدم و ضروری ہے

151
صحت کی حفاظت بہرحال مقدم و ضروری ہے
(محمد قاسم ٹانڈؔوی=09319019005)

ہمارا ملک اس وقت خطرناک دور سے گزر رہا ہے، کیوں کہ کورونا وائرس نے اپنی اس دوسری لہر میں جو آتنک مچایا ہے، اس نے سرکار اور سسٹم دونوں کی پول کھول کر رکھ دی ہے۔ ویسے کووڈ=19 کی جب سے ہمارے ملک میں اینٹری ہوئی ہے، اس کا قہر و جبر کسی دن کو تھما نہیں ہے، ہاں کچھ عرصہ کےلئے اس کے پھیل پھیلاؤ میں ایک حد تک کمی ضرور واقع ہوئی تھی، مگر اس کا خاتمہ نہیں ہوا تھا۔ کمی کے اس معمولی دوران میں لوگوں کو کچھ آرام و سکون کی گھڑیاں میسر ضرور ہو گئی تھیں اور آرام و سکون کی ان سہانی گھڑیوں میں ایسا لگ رہا تھا کہ انسانی زندگی شاید اب معمول پر آنے کو ہے۔ اس لئے کہ عبادات کی ادائیگی میں آزادی حاصل ہوگی تھی، بند پڑے تعلیمی اداروں میں رونق و چہل پہل بڑھ گئی تھی اور تعلیمی نظام جو بالکل ٹھپ ہو چکا تھا، اس کی بھی سرگرمیاں شروع ہو چکی تھیں، عوامی مقامات اور سفری آمد و رفت پر جو بندش و رکاوٹ کا ماحول تھا، وہ بھی بہت حد تک سازگار ہو گیا تھا اور کاروباری لوگ اپنے اپنے اعتبار سے مالی پشت مضبوط کرنے میں مشغول تھے۔ ہر شخص معمول کے مطابق کاموں کی انجام دہی میں مصروف ہو کر جو گذشتہ ایک سال سے حالات سے جوجھ رہا تھا، وہ بھی ان سے نمٹنے میں سہولت محسوس کرنے لگا تھا اور اپنے اوپر عائد ذمہ داری کو نبھانے میں عافیت محسوس کرنے لگا تھا؛ مگر افسوس!!! یہ سب چیزیں ایک خواب کی مانند ہو کر رہ گئیں، اور سال بیتنے سے پہلے ہی عالمی سطح پر پھیلنے والی کورونا وائرس (کووڈ=19) بیماری کی دوسری لہر ہمارے ملک میں آ پہنچی، جس کے قہر آلود اثرات سے پورا معاشرہ بےچین و بےکل ہو اٹھا اور لوگوں کی رواں ہوتی زندگی تھم سی گئی، اور اب حالات یہ ہیں کہ ہر طرف افرا تفری کا ماحول ہے، چیخ و پکار کی صداؤں سے فضا دہل رہی ہے، ڈرے سہمے لوگوں کے کلیجے منھ کو آ رہے ہیں، اس لئے کہ ماہرین کی طرف سے اس دوسری لہر کو پہلی لہر سے زیادہ خطرناک بتایا جا رہا ہے۔

حالانکہ جس وقت ہمارے ملک میں مرحلے وار ویکسینیشن کا دور شروع ہوا تھا، تو اس وقت یہ کہا جا رہا تھا کہ ‘ویکسین’ کا یہ عمل موذی و جان لیوا بیماری میں مفید ثابت ہوگا اور کورونا وائرس کو ہرانے میں اس سے بھرپور مدد ملےگی؛ مگر “مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی” کے مصداق مارچ میں حالات مزید ابتر ہوتے چلے گئے اور اس کے بعد ملک میں انسانی جانوں کے زیاں ہونے میں جو تباہی و بربادی کے مناظر پیش آئے، ان سے ہر ذی شعور واقف و باخبر ہے۔ انتہائی درد ناک و افسوسناک خبریں موصول ہونے کا سلسلہ جاری ہے اور بڑے بڑے ہسپتالوں میں آکسیجن کی کمی، بیڈوں کی قلت اور ڈاکٹروں کے موقع پر موجود نہ ہونے جیسی خبریں تسلسل کے ساتھ سنائی دے رہی ہیں، کورونا کی مارا ماری اور حکومتوں کی طوطا چشمی کی بدولت دم توڑتی انسانیت چیخ اٹھی اور مرنے والوں کے لواحقین و متعلقین نے وہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا جس کے دیکھنے کی ہر شخص تاب نہیں لاسکتا۔ معاملہ انتم سنسکار سے متعلق رہا ہو یا دفنانے کے تعلق سے، میت کو دشواری و پریشانی کے ساتھ ساتھ توہین آمیز مرحلے سے گزرتا دیکھا گیا اور جب حالات کنٹرول سے باہر ہوتے چلے گئے تو آہستہ آہستہ عوامی بندش تک پہنچ کر ایک مرتبہ پھر سے ملک میں لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی نوبت جا پہنچی۔ اور اس وقت قریب قریب پورا ملک لاک ڈاؤن کی مار جھیل رہا ہے، جس میں عوامی مقامات اور مذہبی امور کی ادائیگی کے واسطے وہی گذشتہ سال والی شرائط کا نفاذ حکومتوں کی طرف سے کر دیا گیا ہے۔ اس لئے کہ سرکار کے ساتھ ساتھ ماہرین اور حالات شناس طبقہ کی طرف سے یہ کہا جانے لگا کہ اب کی بار حالات پہلی لہر سے زیادہ خطرناک و دشوار ہیں۔

ایسے بھیانک و خطرناک عالم میں ہم مسلمانوں کو مسئلہ پیش آتا ہے عید و بقرا عید کی نماز دوگانہ ادا کرنے کا اور بعد نماز سالانہ تہوار منانے کا، جس میں اجتماعیت کا پایا جانا ضروری ہوتا ہے۔ اس لئے کہ گذشتہ سال بھی ہم نے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اور حکومتی سطح پر عائد پابندیوں کا خیال و احترام کرتے ہوئے اپنی عید اور اس کی خوشیاں انتہائی سادگی و سنجیدگی کے ساتھ منائی تھیں، بلکہ شب برات، رمضان اور شب قدر کی خاص عبادات تک اپنی اپنی جگہ رہتے ہوئے تنہا تنہا ادا کی تھیں، اور پورے ‘لاک ڈاؤن’ کسی طرح کی بےاحتیاطی اور شکایت کا موقع نہیں دیا تھا۔ وبا کے پورے عرصے جیسے جیسے حکومتی ادارے، سماجی خدمت پر معمول تنظیمیں اور ہمارے علماء کرام ہمیں پابند کرتے رہے، ہم بےچون و چرا سرتسلیم خم کرتے گئے اور پوری احتیاط سے کام لیتے گئے۔ اب پورا ایک سال کا عرصہ گزرنے کے بعد حالات نے ہمیں اسی نہج پر لاکر کھڑا کیا کہ جہاں سے سفر کا آغاز ہوا تھا، ہم وہیں پہنچ گئے۔ بلکہ اب حالات اس سے بھی کہیں زیادہ ابتر و خراب ہیں، اور اکابر کی طرف سے بھی وہی اپیل و اعلانات جاری ہو رہے ہیں، جو گزشتہ سال عید و رمضان کے موقع پر کئے گئے تھے، تو ایسے میں رنج و غم کا ہونا اور اظہار افسوس کرنا ایک لازم شئی ہے، مگر ہوشیاری اور عقل مندی کی بات یہی بہتر و مناسب ہوگی کہ ہم موجودہ حالات کے تقاضوں کو سمجھیں اور من مانی یا زبردستی والے عمل سے ہرممکن گریز کریں۔ یاد رہے، عبادات اہم اور ضروری تو ہیں، لیکن صحت کا تحفظ اس سے کہیں زیادہ اہم اور ضروری امر ہے۔ رہی عید کی سالانہ خوشیاں اور گہما گہمی تو اگر زندہ رہے تو اب نہ سہی، اگلی بار ہم ان کو مع اہل خانہ بھرپور خوشی و مسرت اور مکمل تیاری کے ساتھ منائیں گے اور اظہار خوشی کے ساتھ اپنے مذہب کی شان و شوکت اور عظمت کو بھی دین اسلام کے گلے کا ہار بنائیں گے، لیکن یہ ہوگا تبھی جب ہم صحت و تندرستی کی دولت سے مالا مال ہوں گے اور ہر قسم کی کمزوری و بیماری سے محفوظ ہوں گے۔
اس لئے پوری کوشش کیجئے کہ کم سے کم وقت بھیڑ بھاڑ کا حصہ بنیں گے اور زیادہ سے زیادہ اوقات تنہائی اور عوام سے منقطع ہوکر گزاریں گے۔
میرے بھائی! بیماری؛ بیماری ہوتی ہے، جس کا مذہب یا ذات سے اور وقت و مقام سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا، وہ صرف اپنے شکار کے تلاش میں رہتی ہے، خواہ امیر ہو یا غریب، مزدور ہو یا تاجر، حاجی ہو یا نمازی، مطیع و فرمانبردار ہو یا عاصی و گناہگار، خدا کا ماننے والا ہو یا اس کا منکر و باغی۔ جو اس کے چنگل میں پھنسےگا، وہ زندگی کی جنگ ہارےگا۔ اس لئے پوری احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے۔
مت موازنہ کیجئے، برادران وطن کے تہواروں کا اپنے تہوار سے اور مت شکایت کیجئے حکومت کی جانب داری اور غیر ذمہ داری کا، اس لئے کہ ہم حکومت سے زیادہ اپنے دین کے پابند و مطیع ٹھہرائے گئے ہیں اور ہمیں ہمارے دین نے اس بات کا مکلف بنایا ہے کہ: عبادت کرنا خدا کا حق ہے، اور صحت کی حفاظت کرنا تمہارا اپنا حق ہے، عبادت کئے بغیر اگر دنیا سے رخصت ہو گئے تو وہ کریم ذات معاف کر دے گی لیکن اگر احتیاط و پابندی کئے بغیر مر گئے تو یاد رکھنا تمہارا یہ اقدام خودکشی کے قائم مقام ہوگا، جس کی جواب دہی تمہارے ذمہ لازم ہوگی۔