صحافت میں ”عارف اقبال“ کی اقبال مندی صاف جھلکتی ہے محفوظ عالم سینئر صحافی،نیوز 18اردو، بہار

41
صحافت میں ”عارف اقبال“ کی اقبال مندی صاف جھلکتی ہے
محفوظ عالم
سینئر صحافی،نیوز 18اردو، بہار
کہا جاتا ہے کہ ہر مشکل وقت کے بعد آسانی ہے۔ رات کتنی بھی طویل ہو صبح ضرور ہوتی ہے۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کی زمانے کی ہر چال پر اپنی باریک نگاہ رکھنے والی صحافت، آج بے زبان کھنڈروں میں تبدیل ہوگئی ہے۔ ادب و تہذیب حق و صداقت کی آواز بلند کرنے والی صحافت تاریخ کی کتابوں میں سسکیاں لیتی نظر آرہی ہے۔ کبھی حق کی آواز کی خاطر اپنی جان کی بازی لگانے والے صحافی آج خود حق کے لئے در در بھٹکتے آپ کو دکھائی دیں تو اس میں کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ موجودہ وقت میں صحافت ساحل سے طوفاں کو دیکھنے کی کوشش کررہی ہے، کبھی اس طوفاں میں صحافت اپنی موجودگی سے سب کو حیران کرتی رہی ہے۔ کہتے ہیں وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ سب کچھ بدل جاتا ہے، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بنیادی چیزیں کبھی نہیں بدلتیں، وہ اپنی صحیح شکل میں ہر وقت موجود رہتی ہے۔ صحافت کا بنیادی اصول تو سچ، حق، انصاف اور جھوٹ کے خلاف آواز اٹھانا رہا ہے۔اب سوال ہے کہ اس مشکل بھرے راستوں کا مسافر کون بنتا ہے۔ یہ کام تو اسی کے بس میں ہے جس کو قدرت نے صحافتی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لئے ہی پیدا کیا ہو۔ آسان نہیں ہے آج کے اس دور میں کانٹوں بھرے ان راستوں کا مسافر بننا۔
Arif Equbal 2
عزیزم عارف اقبال ان ہی مسافروں میں سے ایک ہیں جو صحافت کو صحافتی ذمہ داریوں کے ساتھ قبول کرنے کے بعد اس مشکل بھرے راستہ پر چل نکلے ہیں۔ عارف اقبال میٹرو سیٹی کے اسٹوڈیوں کی ٹھنڈی ہوا میں نہیں رہتے ہیں، انہوں نے اپنا میدان عمل سیمانچل کے ارریہ ضلع کو بنایا ہے، جہاں خاک اور دھوپ ہے، گرمی ہے اور پسماندگی ہے۔ اس تاریکی میں چراغ جلانا کوئی معمولی کام نہیں ہے۔معاشی اور سماجی طور پر یہ علاقہ پچھڑا ہوا ہے، صنعت  نہیں ہونے سے لوگ کاشتکاری کر اپنی زندگی بسر کرتے ہیں،یقینا عارف اقبال ارریہ کی سرزمین پر اپنی کامیاب اور بہترین خبروں کی بنیاد پر چراغ جلانے کی کوشش کررہے ہیں۔انہوں نے یہاں کی صرف پسماندگی سے لوگوں کو روسناش نہیں کرایا، بلکہ وہ ایسی خبروں سے بھی لوگوں کوباخبر کرتے رہے ہیں، جو نئی نسل کے لئے حوصلہ افزا ثابت ہوئی ہیں، ہماری دعاء ہے کہ وہ صحافت کے اس بہترین کارنامے کو بحسن خوبی انجام دیں اور بلندی کے اس مقام تک پہنچیں، جہاں عارف اقبال صحافت کی پہچان ہوں۔
عزیزی عارف اقبال نے بہت کم وقت میں خطہ سیمانچل میں اپنا منفرد مقام اور مثالی شناخت قائم کی ہے۔ عارف اقبال کی کئی خبروں نے علاقے کے لوگوں کو اپنے مسائل کے تعلق سے سوچنے سمجھنے اور غور کرنے کی ایک نئی راہ اورنئی سمت دی ہے۔ عارف اقبال نے ارریہ کے مختلف مسائل کو بے نقاب کر حکومت کے سامنے ایک سوال کھڑے کئے ہیں۔ جب صحافی کسی مسئلہ کو بے حجاب کرتا ہے تو اس میں وہ اپنا سکون بھی تلاش کرتا ہے۔ کئی بار الجھنوں کا شکار بنتا ہے اور کئی بار تنقید، راستے میں دیوار کھڑی کرنے کی کوشش کرتی ہے، لیکن جب ارادہ پختہ اور مضبوط ہو تو پہاڑ بھی راستہ چھوڑنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ صحافی خود مشکل میں اپنا وقت گزارتا ہے، لیکن سماج کو ایک نئی سمت دینے کی کوشش میں مصروف رہتا ہے۔ عارف اقبال اسی راستہ کے مسافر ہیں جس راستہ پر ایک صحافی چل کرخود کو فخر محسوس کرتا ہے۔
عارف اقبال نے ارریہ کے جن مسائل کو اپنی اسٹوری کے ذریعہ پیش کیا ہے وہ کافی اہم ہیں، ان کی خبروں پر سرسری نگاہ ڈا لیں توبنیادی طور پردو چیزیں سامنے نکل کر آتی ہیں،انہوں نے وسائل کی پرواہ کئے بغیر ارریہ کے ان علاقوں اور گلی گوچوں تک پہنچنے کی کامیاب کوشش کی ہے، جہاں کے مسائل ارریہ کی صحافتی منظر نامہ میں اب تک نہیں آئے تھے، دوسرا یہ کہ ارریہ میں وسائل کی کمی کے باوجود اپنی ذمہ داریوں سے پیچھا نہیں چھڑایا اور نہ رسمی صحافت کی خانہ پوری کی، بلکہ انہوں نے ارریہ کی صحافت میں ایک واضح لکیر کھینچنے کی کوشش کی ہے،ایک طرف جہاں عار ف اقبال، حاشیہ پر کھڑے غریب، مجبورطبقہ کی آواز بنے، ان مجبوروں کی یومیہ زندگی کو اسکرین پرنمایاں کر مقامی نمائندگان کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایاتو وہیں بنجارہ سماج کی زبوں حالی، کلہیا برادری کی تعلیمی و معاشی انحطاط، ارریہ کالج میں طلباء کے مستقبل سے ہو رہے کھلواڑکو بھی اجاگر کرنے میں وہ اب تک کامیاب رہے ہیں۔
شہر دربھنگہ سے تعلق رکھنے والے عزیزی عارف اقبال سے میری پہلی ملاقات پٹنہ یونیورسیٹی کے شعبہ اردو میں ہوئی تھی، ان دنوں وہ جرنلزم کے طالب علم تھے اور میں ان کا استاد، شروع سے ہی مزاج کے سنجیدہ، کم گو،خوش اخلاق، باریک نظر،محنتی، عزم کے مضبوط اور اپنے اساتذہ سے حددرجہ محبت و انسیت رکھنے والے طالب علم تھے، دیگر طالب علموں کے مقابلے صحافتی اصول اور نئی نئی تکنیک جاننے کی جستجو میں سرگرم رہتے،سوال کرتے اور جواب کے منتظر رہتے، ایک اچھے صحافی کے گن ان کے اندر اسی وقت نمایاں ہونے لگے تھے، پھر یہیں سے ملاقات کا ایک سلسلہ چل نکلا، وہ پٹنہ یونیورسیٹی سے دہلی گئے اور جامعہ ملیہ اسلامیہ سے صحافت کی اعلیٰ تعلیم و تربیت حاصل کی، پھر دہلی یونیورسیٹی سے پوسٹ گریجویٹ کی ڈگری حاصل کی۔ اس دوران وہ مسلسل مجھ سے رابطے میں رہے اور صحافتی امور پرتبادلہ خیال کرتے رہیں۔ عزیزی عارف اقبال اچھے صحافی کے ساتھ ایک باکمال مصنف بھی ہیں۔اس کم عمری میں اب تک ان کی تین ضخیم کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔علمی، تصنیفی اور صحافتی خدمات کے اعتراف میں کئی اعزاز بھی انکے حصہ میں آئے ہیں۔ میں انہیں مبارک باد دیتا ہوں اور دعاء کرتا ہوں کہ مزید وہ اپنی زندگی میں آگے بڑھیں اور صحافت میں ایک بے باک آوازکے طور پر ملک بھر میں پہنچانے جائیں ئ