صحابہ کرام کی اہمیت اور گستاخ صحابہ قرآن و حدیث کے تناظر میں

62

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہمارے لیے معیار حق اور مشعل راہ ہیں ان کی شان میں کسی قسم کی گستاخی گوارہ نہیں ان کی عظمت شان کی بلندیوں تک کسی کی رسائی نہیں عصر حاضر میں ان حضرات کی پیروی گذشتہ صدیوں کے مقابلہ میں زیادہ ضروری اور اہم ہے اور کامیابی کا تصور اس کے بغیر ممکن ہی نہیں۔

صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ قابل احترام ہیں اور ان کی عزت کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔ انھوں نے اسلام کو زندہ رکھنے کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں ،صحابہ کرام کی عظمت، رفعت،اور بلندی ان کی ہمہ جہت شخصیت ہر عام و خاص کے لئے قابل اقتداء ہیں، وہ ہر طرح کے لوگوں کے لیے آئیڈیل اور نمونہ ہیں، ان کی گستاخی گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کے مانند ہیں، ان کی فضیلت من جملہ تمام امت مسلمہ سے اعلی و ارفع ہیں، ان کے مقام و مرتبہ کو کوئی بڑی سی بڑی شخصیت پا نہیں سکتی چاہئے وہ قطب ہو ، یا ابدال ہو، عابد ہو، یا زاہد ہو ، عالم ہو، یا فاضل، قوم کا رہبر ہو، یا قوم کا میر کارواں ہو، کوئی بھی ہو ،ان کی فضیلت ان کے مقام اور مرتبے کو حاصل کر ہی نہیں سکتے ،ان کی شان اتنی بلندی کو چھو گئی ہیں، کہ ان کے بارے خدائے لم یزل نے قرآن مجید میں ان سے راضی بہ رضا ہونے کی گواہی دی ہے *” رضی اللہ عنہ و رضوا عنہ* ” اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے اسی طرح حدیث پاک میں ان کی اہمیت و فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرما یا کہ ” *الصحابہ کلہم عدول* ” کہ تمام کے تمام صحابہ عادل ہیں ان میں ادنی سی کمی یا کوتاہی نہیں ہے ،اور ان کے بارے میں امام احمد رحمہ اللہ نے اپنی مسند میں صحابہ کی عظمت، رفعت،اور بلندی کو ساری دنیا والوں کے سامنے لا کر وضاحت کے ساتھ پیش کیا ہے جو رہتی دنیا تک باقی رہنے والی ہے کہ” *دعوا لي أصحابي، فوالذي نفسي بيده لو أنفقتم مثل أحد أو مثل الجبال ذهبا ما بلغتم أعمالهم* ” کہ میرے اصحاب کے لئے دعائیں کیا کرو اگر تم سب مل کر پورے مثل احد اور پہاڑ کے برابر سونا اور چاندی خرچ کر ڈالو تو تم ان کی عظمت رفعت ،اور سر بلندی کو پا نہیں سکتے ، اس وجہ سے بھی تمام صحابہ قابل اقتداء اور قابل رہنما شخصیت ہیں، کیونکہ ان راستے پر چلنے والے ہی کو کامیاب ترین انسان تصور کیا گیا ہے ،سبحان اللہ اتنی بڑی فضیلت اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے ، لیکن کچھ نام نہاد سرکاری مولوی،فتنہ پرور، امت مسلمہ کو بدنام کرنے والا، جس کی گھومپڑی میں گوبر بھرا ہوا ایسے بددماغ مولوی، اپنے آپ کو بہت بڑا فقیہ دین کا داعی اور امت مسلمہ کا غم خوار سجھنے والا ان دنوں اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کیچڑ اچھال رہے ہیں ،اور ہمیشہ ان کا یہی شیوہ رہا ہے، اللہ تعالی ایسے رافضی ،ناصیبی، اور خارجی کو غارت کریں، جو صحابہ کو گالیاں دیں ،ان کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کریں، ان کی ہجو گوئیاں سرعام کریں ،ان کو حدیثیں چھپانے والا کہیے،نعوذباللہ ایسے ظالم خطیب سے اللہ تعالی ہر کسی کو بچائے ،حد تو یہ کہ گستاخی بھی زور سے کریں اور بعد میں رجوع نامہ پوری ملت اسلامیہ کے سامنے رکھ دے ، اور پھر آئندہ سال آنے پر پھر دوبارہ اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کیچڑ اچھالے ،یہ معافی نامہ کیسی ، جو بار بار ایک ہی گستاخی کرنے پر مجبور کریں، یا تو آپ مفاد کے لئے ایسا کرتے ہیں یا ریال نہ ملنے پر ایسا کام کر جاتے ہیں ،جس سے اصحاب رسول کے دل چھلنی ہوجاتے ہیں اور ایسی گستاخیاں کرتے ہم نے کتنوں مرتبہ دیکھا ہے ،آپ اپنی زبان کو لگام دیں ورنہ آپ کا حشر بہت بھیانک ہونے والا ،اور یہی نہیں بلکہ ان پر تمام اسلامی ملکوں کو پابندیاں عائد کر دینی چاہیے، انہیں عالم اسلام کے کسی خطے پر جانے کی اجازت نہ دینی چاہیے، اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کیچڑ اچھالنے والے رافضیوں سن لیں ، صحابہ کو گالیاں دینا چھوڑ دیں ورنہ مرزا غلام احمد قادیانی سے بھی بدتر تمہاری موت ہوگی، لا تسبوا اصحابی تمہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان یاد نہیں نعوذباللہ تم نے حضرت ابوہرہ پر کتمان علم کا الزام لگایا، ان شاء اللہ ضرور تم ذلیل ورسوا ہوگے ، تم ہر جگہ رسوا ہوگے ،بعد میں رونے سے کچھ فائدہ نہیں ابھی بھی وقت ہے توبہ کرو، اور عظمت صحابہ کو اپنے دل و دماغ پر بٹھا لو تم یہ نہ سمجھو کہ تمہاری ہر بات پر اہل ندوہ یا ندوی حضرات سپورٹ کریں گے، یہ بات ذہن سے نکال باہر پھینک دو ،اور یہ یاد رکھو کہ یہ اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ ہے ،جس کی عظمت و بقاء اور تحفظ کے لئے امت مسلمہ کا ہر فرد و بشر اپنی قربانیاں پیش کرنے کے لئے ہر وقت ہر آن تیار ہے اور یہ ہمارے لازم و ضروری بھی ہے، کیونکہ اے رافضی و خارجی سن لیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا کہ ایسے ناہنجار بدنصیب کے شر پر اللہ کی لعنت ہو اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہفوات و گالیاں بکنے پر پوری امت مسلمہ کی لعنت ہو ،

*إِذَا رَأَيْتُمُ الَّذِينَ يَسُبُّونَ أَصْحَابِي فَقُولُوا: لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى شَرِّكُمْ* ”جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو میرے صحابہ کو برا بھلا کہتے ہیں تو ان سے کہو تم میں سےجو بُرا ( یعنی صحابہ کو بُرا کہتا )ہے اس پر اللہ کی لعنت ہے (ترمذی، باب فيمن سب أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، حدیث نمبر ۳۸۶۶)

اس حدیث کو خوب اپنے شعور و آگہی میں بٹھا لیں ،اور یہ یادرکھیں کہ اللہ منکر صحابہ کے ساتھ کیا حشر نشر کرنے والا ہے، ابھی بھی وقت ہے کہ سدھر جائیں ورنہ یاد رکھیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا کہ “حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادنقل فرماتے ہیں *’ *’أَكْرِمُوا أَصْحَابِي فَإِنَّهُمْ خِيَارُكُمْ* ”میرے صحابہ کا اعزاز و اکرام کروکیونکہ وہ تم سے بہتر ہیں(مشکوۃ شریف ،باب مناقب الصحابة، الفصل الثانی، حدیث نمبر۶۰۱۲)اور کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” *فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الْمَهْدِيِّينَ الرَّاشِدِينَ و عضوا عليها بالنواجذ* ”میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو اور اسے مضبوطی کے ساتھ پکڑ لو (ابو داؤد، باب فی لزوم السنۃ، حدیث نمبر ۴۶۹۷)حدیبیہ کے موقع پر رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو مخاطب کرکے فرمایا *تھا”أَنْتُمْ خَيْرُ أَهْلِ الأَرْضِ* ”آج تم اس روئے زمین پر سب سے بہتر انسان ہو( بخاری ، باب غزوۃ الحدینیۃ، حدیث نمبر۴۱۵۴)

ان تمام احادیث سے یہ بات بالکل واضح ہوگئی کہ دنیا کے اندر اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہفوات و گالیاں بکنے والا سراسر گنہگار اور جہنمی رافضیوں کے ساتھ ان کا حشر نشر ہوگا،

اللہ تعالی ہمیں اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت رفعت بلندی کو جانے اور ان کی اقتداء کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین ۔