شیخ اکبر ابن عربی کے مختصر حالات

45

*قلم کار*
*غلام وارث شاہدی عبیدی*
*تاراباڑی پورنیہ بہار*

*آپ کا اسم گرامی*
شیخ محی الدین ابوبکر محمد ابن عربی بن علی الطائی الحاتمی الاندلسی
علاوہ ازیں ابن *افلاطون* اور اندلس میں *ابن سراقة* کی کنیت سے معروف رہے،مغرب میں *ابن العربی* اور مشرق میں *ابن عربی* کے نام سے مشہور ہیں۔آپ کے بہت سے القاب ہیں مگر مقلدوں اور ارادت مندوں میں ایک ہی لقب سے زیادہ مشہور و معروف ہے *الشیخ الاکبر* بلاشبہ یہ لقب اپنی تمام تر معنویت کے ساتھ ان کو زیبا ہے۔
آپ دین کے بڑے عالم اور امام العلما تھے،فقہ میں بھی نہایت ہی دسترس تھی،حدیث کی بھی سند حاصل فرمائی،کلام اور منطق و فلسفہ میں ید طولی رکھتے تھے،تصوف کے فن کی تدوین میں مربی العارفین،سلطان العارفین،امام العارفین وغیرہ کے خطابات رکھتے تھے،علم حقائق و اسرار میں بطرز خاص کئی اصطلاحات کے موجد ہیں،لاکھوں عارفین آپ کے بحر المعانی و حقائق سے سیراب ہوئے اور ہوتے رہتے ہیں اور یوں ہی تاقیامت ہوتے رہینگے *انشاء اللہ عزوجل*

*ولادت شریف*
حضرت شیخ اکبر رحمتہ اللہ علیہ کے والد محترم علی بن محمد عبد اللہ کو کوئی اولاد نہ تھی۔آپ بغداد جاکر حضرت غوث الاعظم دستگیر علیہ الرحمتہ سے اپنا ماجرا سنایا،آپ نے فرمایا کہ،،تمہارے نصیب میں کوئی اولاد نہیں،،ہاں تم چاہو تو میری اولاد جو میرے سلب میں ہے لے سکتے ہو۔پھر حضرت غوث الاعظم علیہ الرحمتہ نے حضرت شیخ اکبر کے والد کی پشت سے اپنی پشت لگا کر اپنے تصرف خاص سے اپنی اولاد کو منتقل فرمایا۔ایک سال بعد اندلس کے شہر مرسیہ میں دوشنبہ(پیر)17 رمضان المبارک 560ھ بمطابق 28 جولائی 1165ء کو پیدا ہوئے
پیدائش کے کچھ دن بعد آپ کے والد نے آپ کو حضرت غوث الاعظم رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں لے گئے،حضرت غوث الاعظم علیہ الرحمتہ نے انہیں گود میں لے کر بہت دعائیں دیں،حضرت کے مستقبل کے تعلق سے شان دار تاب دار پیشن گوئی فرمائی۔اس لحاظ سے حضرت شیخ اکبر حضرت غوث الاعظم کے معنوی فرزند ہوئے۔
*شادی و اولاد*
ایک روایت کے مطابق شیخ اکبر کی دو اور دوسری روایت کے مطابق چار شادیاں ہوئی۔
*پہلی شادی*
فاطمہ بنت یونس بن یوسف امیر الحرمین سے 598ھ/1202ء میں مکہ شریف میں ہوئی۔ان کے بطن سے محمد عماد الدین 599ھ/1203ءمیں مکہ میں پیدا ہوئے
*دوسری شادی*
مریم بنت محمد بن عبدون البجائی سے ہوئی
ان سے دو اولاد ہوئے *زینب اور محمد سعد الدین* پیدا ہوئے
*تیسری شادی*
ایک تحقیق کے مطابق دمشق کے مالکی قاضی القضاة زین الدین عبد السلام کی بیٹی سے آپ کا نکاح ہوا،خاتون کا نام نہ معلوم ہوسکا۔
*چوتھی شادی*
اپنے قریبی دوست مجد الدین اسحاق کی بیوہ(صدر الدین قونوی کی والدہ)سے بھی 1222ء کےلگ بھگ نکاح فرمایا
*تعلیم*
ابتدائی تعلیمی مراحل تو آپ مرسیہ اور لشیونہ میں طے کرچکے تھے۔اشبیلیہ میں آپ تقریبا تیس سال تک اقامت پذیر رہے۔اس عرصہ کے دوران آپ حصول علم میں ہمہ تن مصروف رہے،تمام علوم متداولہ مثلا قرأت،تفسیر،فقہ،صرف و نحو، طب، ریاضی،فلسفہ،نجوم،حکمت اور دیگر علوم عقلیہ میں کامل دسترس حاصل کی۔
*اساتذہ*
ابن عربی نے نامور اور اعلی مقام اساتذہ سے اکتساب فیض کیا،بڑے بڑے بزرگوں سے حدیثیں سنیں اور ان سے روایت کی،اجازت حاصل کی۔ان اساتذہ اور مشائخ کی تعداد ستر تک پہنچتی ہے۔
چند کی فہرست ملاحظہ ہو::
حافظ ابوبکر محمد بن خلف الخمی،ابوالقاسم عبد الرحمن غالب شراط قرطبی،ابوالحسن شریح بن محمد شریح رعینی،قاضی ابو محمد ابو عبد اللہ بازلی،قاضی ابوبکر محمد بن احمد بن ابی حمزہ،عبد الرحمن السہیلی،قاضی ابو عبد اللہ محمد بن سعید بن دربون یازرقون علیھم الرضوان::
*شیخ اکبر کا علمی تبحر*
امام یافعی رضی اللہ عنہ اپنی ،،تاریخ مرآة الجنان،، میں بیان فرماتے ہیں کہ آپ کے اشعار نہایت لطیف و غریب ہیں۔آپ کی بہت سے تصانیف ہیں۔آپ کی تعریف میں بغداد کے شیوخ میں سے ایک شیخ نے کتاب لکھی،اس میں لکھا ہے کہ شیخ نے دو سو پچاس سے زیادہ کتابوں کا تذکرہ کیا ہے،اکثر موضوع تصوف پر اور کم دوسرے علوم میں ہیں۔
شیخ اکبر فرماتے ہیں::میرا ارادہ ان کتب کی تصنیف میں دوسرے مصنفوں کی طرح نہیں تھا،میری بعض تصانیف اس طرح وجود میں آئیں کہ مجھے حق سبحانہ تعالي کی طرف سے ایسا امر وارد ہوا تھا کہ مجھے جلا ڈالے اس لئے میں نے خود کو اس کام میں مشغول رکھا میری بعض دیگر تصنیفات کا سبب یہ تھا کہ خواب یا مکاشفہ میں حق سبحانہ تعالي کی طرف سے حکم ہوا تھا۔
امام یافعی کی،،تاریخ،،میں ذکر ہے کہ آپ کا شیخ شہاب الدین سہروردی قس سرہ العزیز سے ملنے کا اتفاق ہوا باہم نظر کی لیکن ایک دوسرے سے کلام نہیں کیا۔
کسی نے شیخ اکبر سے شیخ شہاب الدین قس سرہ کے بارے میں دریافت کیا تو فرمایا *ھو رجل مملو من قرنه الي قدمه من السنة*
(وہ ایسے شخص ہیں جو سر سے پاؤں تک سنت نبوی کی پیروی سے مملو ہیں)
اور جب شیخ شہاب الدین قدس سرہ العزیز سے شیخ اکبر کی نسبت پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا *ھو بحر الحقائق* (وہ حقائق کے سمندر ہیں)
*تصانیف و تالیف*
حضرت شیخ اکبر کی چار سو تصانیف ہیں زیادہ معروف صفحہ قرطاس کے حوالے::::
*تفسیر صغیر،تفسیر کبیر،فتوحات مکیہ،فصوص الحکم،ترجمان الاشواق(مجموعتہ القصائد،کتاب الاخلاق،دیوان ابن عربی،روح القدوس،محاضرات الابواب،مسامرات الاخیار،مشکوةالاخیار،التدبیرات الالھیة،مواقع النجوم،انشاء الدوائیر،کتاب العظمة،شجرةالکون،القول النفیس،کتاب الجلالہ،کتاب تاج الرسائل،نقد النصوص،رسالہ وجودیہ*

*کشف و الہام*
حضرت شیخ اکبر رضی اللہ عنہ قلم کی سیاہی کو صفحہ قرطاس پر انڈیلتے ہیں کہ آپ نے انبیا علیھم السلام سے ملاقات کی،ان سے استفادہ کیا،آپ نے حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے قرآن پڑھا،آپ گویا ہیں کہ جس وقت میں حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے قران پڑھتا تھا،قرآن میں جہاں کہیں آپ کا اسم گرامی آتا آپ پر رقت طاری ہوتی،جس کی وجہ سے مجھے بھی رقت محسوس ہوتی،حضرت شیخ اکبر نے بےشمار انبیا علی نبینا علیھم السلام سے استفادہ کیا،اس کے متعلق اپنی مشہور تصنیف جو حضور اقدس صلی للہ علیہ وسلم کی ایما پر لکھی ہے(یعنی فصوص الحکم)میں اس کا تذکرہ فرمایا۔
*وفات*
آپ کا وصال 28 ربیع الآخر 640ھ 16نومبر 1245ء شب جمعہ نماز مغرب کے دوسرے سجدہ میں ہوا
دوسری روایت کے مطابق آپ نے اپنی تفسیر کبیر کو بطرز حقائق لکھی ہے قرآن کے اس آیت *وعلمنه من لدنا علما* پر پہنچے ہی تھے کہ اپنے رب اعلی سے جاملے::
آپ کا مزار،دمشق کے ایک محلہ صالحیة میں ایک پہاڑ *جبل قاسیون* پر زیارت گاہ خلائق ہیں