بدھ, 5, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتشیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی کا نظریۂ متحدہ قومیت

شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی کا نظریۂ متحدہ قومیت

جناب مولاناابرار احمد اجراوی،مدھوبنی بہار
دارالعلوم دیوبند کے اولین طالب علم، عظیم مجاہد آزادی اور ریشمی خطوط تحریک کے منصوبہ ساز شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی کی رگوں میں متحدہ قومیت کا خون گردش کرتا تھا۔وہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی ، صلح و آشتی اور بقائے باہم کا مجسم نمونہ تھے۔وہ جمہوری قدروں اور سیکو لرازم پر مبنی طرز حیات میں یقین رکھتے تھے۔وہ اتحاد و اشتراک اور ذہنی و فکری اجتماعیت کو ہر مسئلے کے حل کی کلید سمجھتے تھے۔اسلامی عقائد و مسلمات کے حوالے سے انتہائی راسخ اور غیر متزلزل واقع ہوئے تھے، مگر انھوں نے وطن عزیز کی آزادی اور قومی اتحادو سالمیت میں کسی خاص ازم کی پابندی نہیں کی۔وہ جمہوریت و اجتماعیت کو ایک خاص اسلامی اصول سے تعبیر کرتے اور اپنی عملی زندگی میں اس پر عمل کرتے تھے۔اسلام تو جمہوریت و اجتماعیت کا اتنا بڑا محافظ اور داعی واقع ہوا ہے کہ اس نے نہ صرف قوموں کی انفرادی زندگی میں بلکہ اجتماعی زندگی میں بھی جمہوریت و اجتماعیت کی رسی کو تھامنے کی تلقین ہے۔ طاعت و عبادت کو بھی اسلام نے اجتماعیت کے تابع بنایا ہے۔ اس سے دوسروں کو بھی اس کام کی رغبت ملتی ہے اور اس کی ادائیگی میں سہولت کے ساتھ مساوات اور انصاف بھی قائم ہوتا ہے۔ غور کیا جائے تو نماز، زکاۃ، روزہ اور جح وغیرہ سارے بنیادی ارکان اسلام میں یہی اجتماعیت اور جمہوریت کی شان کار فرما ہے۔ حضرت شیخ الہند نے بھی اپنی بیرونی زندگی میں اجتماعی اور جمہوری طرز عمل اختیار کرتے ہوئے قومی اتحاد اور یک جہتی کا نعرہ بلند کیا۔
انھوں نے سیاست اور تحریک آزادی کے میدان میں ہر وہ قدم اٹھایا جس سے قومی اتحاد کے تصور کو تقویت ملتی تھی اور جس کا راستہ ملک کی مکمل آزادی کی طرف جاتا تھا۔ان کا بیک گراؤنڈ مذہبی تھا، مگر انھوں نے اپنی سیاسی فکر کی پرورش و پرداخت مذہبی خطوط پر نہیں کی، بلکہ ہمیشہ قومی مفادات اور وطنی مقاصد کو اولیت دی۔ برادران وطن کی حمایت کے ساتھ گورے انگریزوں کی مخالفت میں ان کی بوٹی بوٹی پھڑکتی تھی۔ ترکی سے برطانیہ کی جنگ کی وجہ سے وہ ہندو مسلمانوںکا متحدہ پلیٹ فارم تشکیل دینا چاہتے تھے تاکہ برطانوی طاقتوںپرچہار طرفہ متحدہ یلغار کی جائے اور انھیں مشرق و مغرب شمال و جنوب چہار جانب سے کھدیڑا جاسکے۔ان کیلئے بر صغیر میں کہیں جائے قرار نہ رہے اور وطن عزیز ان کے خونی چنگل سے آزاد ہوسکے۔انہو ں نے اس عظیم مقصد کی حصول یابی کیلئے اجتماعیت اور تکافل و تعاون کی راہ اپنائی، پے درپے کئی تنظیمیں بنائیں، جمعیۃ الانصار،نظارۃ المعارف، جنود ربانیہ وغیرہ اور ہر تنظیم کے پلیٹ فارم سے انھوں نے قومی یک جہتی، ملکی اتحاد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا نعرہ بلند کیا۔ وہ ہندستان سمیت دوسرے مشرقی خطوں کی آزادی کیلئے تفریق ملل اور مذہبی قیود کو زہر ہلاہل تصور کرتے تھے۔ انھیں اس بات کا یقین تھا کہ مکمل سوراج کا سورج صرف ہندو مسلم اتحاد کے افق سے ہی طلوع ہوسکتا ہے۔ اس لیے انھوں نے گاندھی جی اور ملک کے دوسرے رہ نماؤوں کے شانہ بشانہ ترک موالات کی زور دار تحریک چلائی، بڑے پیمانے پرانگریزی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا،دیشی چیزوں کے استعمال کی ترغیب دی، انگریزوں کی امداد سے چل رہے ادراوں سے ہندستانی طلبہ کی علاحدگی کا صور پھونکا اور قصۂ ہندو مسلم کو ہندستان کے اتحاد کیلئے مضر تصور کیا۔
حضرت شیخ الہندصرف رسمی مذہبی تبلیغ اور مدارس کی چہار دیواری میں تعلیم و تدریس تک محدود نہ تھے، بلکہ وہ ہندستان اور عالم اسلام کے گوناگوں حالات کی وجہ سے میدان سیاست کی خارزار وادیوں میں بھی قولی اور عملی سطح پر قدم رکھ چکے تھے۔ اس لیے ان کے نزدیک مذہبی تصلب یا مسلکی عناد کی کوئی شکل باقی نہ تھی۔ مذہبی تنگ نظری کا ان کے پاس سے گزر نہ تھا۔ان کے دروں میںرواداری، فراخ دلی ، وسعت ظرفی کا چراغ روشن تھا۔وہ سبھی کو بلا تفریق مذہب و ملت عزت و احترام کی نظر سے دیکھتے تھے۔ ان کے پیش نظر علامہ اقبال کا یہ شعر تھا کہ
تفریق ملل حکمت افرنگ کا مقصود
=
اسلام کا مقصود فقط ملت آدم
اور جاں نثار اختر بھی تو یہی کہہ گئے ہیں کہ
حدود ذات سے باہر نکل کے دیکھ ذرا
=
نہ کوئی غیر نہ کوئی رقیب لگتا ہے
مولانا ابو الکلام آزاد، مولانا ظفر علی خاں، حکیم اجمل خاں، علی برادران، گاندھی جی اور مولانا حسرت موہانی وعیرہم تو ان کے ارادت مندوں میں شامل تھے ہی، اس وقت کے بہت سے سکھ اور ہندو حضرات بھی مولانا سے قربت اور دوستی اور مشاورت و مکالمت کا تعلق رکھتے تھے۔ مولانا نے وطن کی آزادی کیلئے ہندو اور مسلم کی غیریت کے سارے پردے اٹھا دیے تھے اور دوئی کے سارے نقش کو پیروں تلے روند دیا تھا، یہی وجہ تھی کہ مولانااپنے گھر پر ان سب کیلئے قیام و طعام کا انتظام کرتے تھے۔ چوں کہ ہندومسلم اتحاد کو شرمندہ تعبیر کرنے کا صرف ایک راستہ تھا اور وہ یہ کہ ایک دوسرے کی مدہبی حدود میں مداخلت نہ کی جائے، صرف استخلاص وطن کی تحریک کو مشترکہ لائحۂ عمل تصور کیا جائے۔ اس لیے مولانا صرف اتحاد و اشتراک کے مفید پہلو کو ہی اپنی تحریکی زندگی میں محوری حیثیت دیتے تھے۔
خود جب مولانا نے حجاز پہنچ کر برطانوی حکومت کے خلاف تحریر حاصل کرنے کیلئے ترکی حکومت کے وزیر جنگ انور پاشا اور حجاز کے سوئز کمانڈر جمال پاشا سے ملاقات کی تھی، تو انھوں نے بھی مولانا کو ہندو مسلم اتحاد کی اہمیت سے آگاہ کیا تھا۔اس تعلق سے ظفر احمد نظامی اپنی کتاب معماران جامعہ میں لکھتے ہیں:
’’ان دونوں حضرات نے مولانا کو ہر ممکن مدد کا یقین دلایا لیکن ان سے یہ بھی کہا کہ:’’اصل مدد توآپ کے ملک کے لوگ ہی کرسکتے ہیں اور اس کیلئے ضروری ہے کہ آپ غیر مسلموں کو بھی اپنے ساتھ لیں‘‘ مولانا نے کابل میں مقیم اپنے شاگردوںکو کہلا بھیجا کہ وہ ہر طرح اپنی تحریک میں غیر مسلموں کو بھی شامل کریں اور انھیںدمہ دار مناصب پر فائز کریں اور انھیں بطور خاص یہ یقین دلائیں کہ اس تحریک کا مقصد پھر سے ہندستان پر مسلمانوں کی حکومت قائم کرنا نہیں بلکہ صرف ملک کی آزادی کا حصول ہے۔‘‘(معماران جامعہ :۲۵-۲۶)
حضرت شیخ الہندباہمی جنگ و جدال اور اختلاف و انتشار کو قوموں کی کامیابی کی راہ میں سب سے بڑا روڑا تصور کرتے تھے ۔ انھوں نے مالٹا کے قید خانے سے رہائی کے بعد،اپنی اس فکر مندی سے آگاہ کرنے کیلئے ایک روز دار العلوم میں علما کے ایک بڑے مجمع سے خطاب کیا اور مسلمانوں کی تباہی کے اسباب بیان کرتے ہوئے بڑے پر سوز انداز میں یہ کہا کہ ان کی تباہی کے دو اسباب ہیں۔ ایک قرآن مجید کی تعلیمات کو چوڑ دینا اور دوسرے باہمی اختلافات اور جنگ و جدال۔ انھوں نے فرمایا : اسے کسی قیمت پر برداشت نہ کیا جائے۔(وحدت امت:۵۱)
شیخ الہندؒ نے آزادانہ طور پر بھی ملک کی تقدیر و تصویر بدلنے کیلئے صرف مذہبی خطوط پر کبھی نہیں سوچا۔
وہ جانتے تھے کہ ہندستان کا مستقبل ہندو مسلم اتحاد سے ہم رشتہ ہے۔ ہندستان کی شناخت ہی ہندو مسلم اور سکھ عیسائی کی ایکتا میں پوشیدہ ہے۔ہندستان کا خمیر ہی کثرت میں وحدت سے اٹھا ہے۔ اکیلا چلو والی ہر پالیسی نہ صرف یہ کہ ہندستان جیسے کثیر قومی اور کثیر ثقافتی ملک کیلئے نقصان دہ ہے، بلکہ انگریزوں کے خلاف ملک کے طول و عرض میں جو آزادی کی تحریک چل رہی ہے، اس کی وجہ سے وہ بھی کمزور پڑجائے گی۔ انہو ں نے فطری ضعف و نقاہت کے با وجود جامعہ ملیہ کی تاسیس میں بھی سب سے آگے بڑھ کر اس لیے حصہ لیا تھا کہ وہاں کی آزاد فضا میں ایک ایسی عصری تعلیم یافتہ نسل تیار ہوسکے جو مذہبی سطح سے اوپر اٹھ کر ملک کے مستقبل اور نئی نسل کیلئے تعمیر و ترقی کا فارمولاتشکیل دے سکے۔ انھوں نے علی گڑھ یونیورسٹی کی جامع مسجد میں منعقد افتتاحی تقریب میں ۲۹؍ اکتوبر ۱۹۲۰ء کو جو خطبہ پیش کیا تھا، اس میں انھوں نے ترک موالات سے متأثر ہوکر یونیورسٹی چھوڑنے والے طلبہ کی خوب حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنی ہزراروں امیدوں پر پانی پھیر کر اورہر قسم کے لالچ سے منہ موڑ کر ترک موالات نصاری پرمضبوطی سے کاربند رہے۔ اور اپنی قیمتی زندگیوں کو قوم اور ملت کے نام وقف کردیا۔ ویسے تو یہ پورا خطبہ ہی بڑا عبرت انگیز، سبق آموز اور تاریخ ساز ہے، مگر اس کے اندر انھوں نے بار بار مختلف پیرایۂ بیان میں ہندو مسلم اتحاد کی جس طرح دل سوزی کے ساتھ سامعین کو تلقین کی وہ ہم سب کیلئے ایک قابل فخر ورثہ ہے۔ درج ذیل اقتباس میں انھوں نے گورنمنٹ کی امداد سے پاک اور قومی محسوسات پر مبنی یونی ورسٹی کے قیام کی جو حمایت کی ہے، اور قومی محسوسات کے اداراک سے تساہل پر خون کے آنسو بہائے ہیں، اس پر ہمیں ایک منٹ رک کر غور کرنا چاہیے۔ انھوں نے ہندستان کے کالجز اور تعلیمی اداروں کو بغداد اور قرطبہ کی یونی ورسٹیوں کا نمونہ بنانے کی اپیل کرتے ہوئے یہ کہا کہ:
’’ہماری قوم کے سر بر آوردہ لیڈروں نے سچ تو یہ ہے کہ امت اسلامیہ کی ایک بڑی اہم ضرورت کا احساس کیا ہے بلا شبہ مسلمانوں کی درسگاہوں میں جہاں علوم عصریہ کی اعلی تعلیم دی جاتی ہو اگر طلبہ اپنے اصول و فروع سے بے خبر ہوں اور اپنے قومی محسوسات اور اسلامی فرائض فراموش کردیں اور ان میں اپنی ملت اور اپنے ہم قوموں کی حمایت نہایت ادنی درجے پر رہ جائے تو یوں سمجھو کہ وہ درسگاہ مسلمانوں کی قوت کو ضعیف بنانے کا ایک آلہ ہے اس لیے اعلان کیا گیا ہے کہ ایک آزاد یونی ورسٹی کا افتتاح کیا جائے گا جو گورنمنٹ کی اعانت اور اس کے اثر سے بالکل علیحدہ اور جس کا تمام تر نظام عمل اسلامی خصائل اور قومی محسوسات پر مبنی ہو۔‘‘(شیخ الہند مولانا محمود حسن: ایک سیاسی مطالعہ:۱۹۲(مرتب ابو سلمان شاہ جہاں پوری) فرید بک ڈپو نئی دہلی)
وہ مالٹا سے واپسی کے چند ماہ بعد ہی دار بقا کو سدھار گئے تھے، اس لیے انھوں نے اسی تھوڑی مدت میں ایک طرف جامعہ ملیہ کے قیام میں محرک اور قائد کا رول ادا کیا اور پھر جمعیۃ علماء ہند اور دوسرے پلیٹ فارم سے ہندو مسلم اتحاد کا نعرہ بلند کیا۔خود شیخ الہند نے تحریک ریشمی رومال نام کی جو عالمی تحریک چلائی تھی، جس کا سرا شمال سے لیکر جنوب اور مشرق سے لے کر مغرب امریکہ، چین، فرانس اور جاپان تک پھیلا ہوا تھا، اس میں برادران وطن میں سے کئی افراد قولا و عملا شریک تھے۔ انھیں کئی اہم عہدے تفویض کیے گئے تھے۔ افغانستان میںغلام ہندستان کی جو جلا وطن عبوری حکومت تشکیل دی گئی تھی، اس کاوزیر اعظم کوئی مسلم نہیں، بلکہ علی گڑھ کے اولڈ بوائے راجہ مہندر پرتاپ سنگھ تھے۔تحریک ریشمی رومال میں شامل جن برادران وطن کے نام دستاویزات میں ملتے ہیں، ان میں چند غیر مسلم افراد کے نام یہ ہیں۔ ہرنام سنگھ عرف ارجن سنگھ، کالا سنگھ عرف گوجر سنگھ، متھرا سنگھ ڈاکٹر وغیرہ۔
علی گڑھ کے طلبا نے ترک موالا ت کے سلسلے میں دس سوالات پر مشتمل جو استفتا مولانا کے پاس بھیجا تھا، اس میں بھی مولانا نے(اتفاق سے فتوی پر تاریخ تحریر بھی۲۹؍ اکتوبر ۱۹۲۰ء درج ہے جو جامعہ ملیہ کے قیام کی تاریخ ہے) نصاری سے قطع تعلق کے بعد ہندو مسلم اتحاد پر روشنی ڈالی ہے:
’’حسن اتفاق سے اس وقت ہندوستان کی سب سے بڑی کثیر التعداد قوم (ہنود) کا مطمح نظر بھی تمھاری ہمدردی اور واقعات پنجاب اور خواہش سیلف گورنمنٹ کی وجہ سے ترک موالات مع النصاری ہے اور ابھی حال میں سنا گیا ہے کہ سکھ لیگ نے بھی یہی فیصلہ کرلیا ہے۔ اس موقع کو غنیمت سمجھنا چاہیے۔‘‘(ایضا، ص:۸۸)
لیکن ایک عالم دین اور داعی اسلام کی حیثیت سے انھیں تنبیہ کرتے ہوئے یہ بھی لکھا کہ:
’’اس موقعہ پر اس قدر تنبیہ صروری ہے کہ ہندو اور مسلمان کے ان تعلقات کا اثر یہ نہ ہونا چاہیے کہ مسلمان اپنے کسی مذہبی حکم کو بدلیں اور شعائر کفر و شرک اختیار کرنے لگیں اگر وہ ایسا کریں گے تو نیکی برباد گناہ لازم کی مثل اپنے اوپر منطبق کریں گے۔‘‘(ایضا، ص:۸۸)
جمعیہ علماء ہند کے سالانہ اجلاس دوم (منعقدہ ۱۹؍۲۰؍۲۱ نومبر ۱۹۲۰ء)میں خطبہ صدارت پیش کرتے ہوئے بھی شیخ الہندنے ہندو مسلم اتحاد کو وقت کی ضرورت قررا دیا اور ترک موالا ت کو قرآن و حدیث کی روشنی میں ثابت کیا۔ خطبہ صدارت میں ہندو مسلم اتحاد پر زور دیتے ہوئے فرمایا:
’’برادران وطن نے تمہاری اس مصیبت میں جس قدر تمہارے ساتھ ہمدردی کی ہے اور کر رہے ہیں وہ اخلاقی مروت اور انسانی شرافت کی دلیل ہے۔ اسلام احسان کا بدلہ احسان قررا دیتا ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ احسان اس کا نام ہے کہ آپ اپنی چیز کسی کو دے دیں۔ کسی دوسرے کی اٹھا کر دینے کو احسان نہیں کہتے۔ پس آپ برادران وطن کے احسان کے بدلے میں وہی کام کر سکتے ہیں جو شریفانہ طور سے اپنے اختیارات سے کرسکتے ہیں۔‘‘(ایضا:۲۲۱)
اسی اجلاس کے آخری دن مولانانے اجلاس کی کارروائیوں کے بحسن و خوبی اختتام تک پہنچنے پر تشکر اور منظورشدہ تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کی اپیل بھی کی، اپنے اس آخری تحریر ی بیان میںترک موالات کی حمایت اور ہندو مسلم اتحاد کی حمایت کرتے ہوئے انھوں نے یہ کہا تھا:
’’ کچھ شبہ نہیں کہ حق تعالی شانہ نے آپ کے ہم وطن اور ہندوستان کی سب سے زیادہ کثیر تعداد قوم (ہنود)کو کسی نہ کسی طریق سے آپ کے ایسے پاک مقصد کے حصول میں موید بنادیا ہے اور میں ان دونوں کے اتفاق و اجتماع کو بہت ہی مفید اور منتج سمجھتا ہوں اور حالات کی نزاکت کو محسوس کرکے جو کوشش اس کیلئے فریقین کے عمائد نے کی ہے اور کر رہے ہیں اس کی میرے دل میں بہت قدر ہے۔ کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ صورت حال اگر اس کے خلاف ہوگی تو وہ ہندوستان کی آزادی کو نا ممکن بناد ے گی اور دفتری حکومت کا آہنی پنجہ روز بروز اپنی گرفت کو سخت کرتا جائے گا۔ اور اسلامی اقتدار کا اگر کوئی دھندلا سا نقش باقی رہ گیا ہے تو وہ ہماری بد اعمالیو ں سے حرف غلط کی طرح صفحۂ ہستی سے مٹ کر رہیگا۔ اس لیے ہندوستان کی آبادی کے یہ دونوں عنصر بلکہ سکھوں کی جنگ آزما قوم کو ملا کر اگر صلح و آشتی سے رہیں گے تو سمجھ میں نہیں آتا کہ کوئی چوتھی قوم خواہ وہ کتنی ہی بڑی طاقت ور ہو ان اقوام کے اجتماعی نصب العین کو محض اپنے جبر و استبداد سے شکست کر سکے گی۔‘‘(ایضا:۲۱۵-۲۱۶)
شیخ الہندؒ بڑے ذہین اور حالات شناس تھے۔ دور رس نظر وںکے حامل تھے۔ وہ ہندو مسلم اتحاد کی اتنی شدید حمایت کی وجہ سے بعض حلقوں کی طرف سے اعتراضات کا نشانہ بن سکتے تھے، اس لیے اپنے اسی تحریری بیان میں انھوں نے مصالحت و اتحاد کے حدود اربعہ پر بھی روشنی ڈالی اور وہ یہ کہ خدا کی باندھی ہوئی حدود میں کوئی رخنہ نہ پڑے اور صلح و آشتی کے سوا فریقین کے مذہبی امور میں کوئی مداخلت نہ کی جائے۔ اور ہر گز کوئی ایسا قدم نہ اٹھایا جائے جس سے کسی فریق کی دل آزاری ہوتی ہو۔انھوں نے ہندو مسلم اتحاد کے تصور کی تجسیم کیلئے بڑی عمدہ مثال دی اور کہا:
’’اگر فرض کرو ہندو مسلمان کے برتن سے پانی نہ پیے یا مسلمان ہندو کی ارتھی کو کندھا نہ دے تو یہ ان دونوں کیلئے مہلک نہیں البتہ ان دونوں کی وہ حریفانہ جنگ کی زور آزمائیاں اور ایک دوسرے کو ضرر پہنچانے اور نیچا دکھانے کی وہ کوششیں جو انگریزوں کی نظر وں میں دونوں قوموں کا اعتبار ساقط کرتی ہیں اتفاق کے حق میں سم قاتل ہیں۔‘‘(ایضا:۲۱۶)
دیوبند ہمیشہ سے متحدہ قومیت اور نیشنلزم کا حامی رہا ہے،اس لیے مولانا کے شاگردوں نے بھی ان کے اسی نقطۂ نظر کو اپنی سوچ اور فکرکی بنیاد تصور کیا اور انھی روشن خطوط پر ملک کی آزادی کی تحریک میں شامل ہوئے جس کی پاداش میں انھیں ہند یونین کے بعض شدت پسند حلقوں کی طرف سے لعنت و ملامت کے تیر کا نشانہ بھی بننا پڑا۔ شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی جو نہ صرف یہ کہ مالٹا کی دردناک اسارت کے دوران شیخ الہند کے ساتھ یار غار کی طرح تھے، بلکہ آزادی اور استخلاص وطن کی اس تحریک میں ان کے ہم دم و ہم ساز بھی تھے، ان کا یہ بیان کہ’’اقوام اوطان سے بنتی ہیں‘‘متحدہ قومیت کے تصور کو تقویت بخشنے میں کلیدی رول کا حامل رہا ہے۔ مولانا حسین احمد مدنی نے متحدہ قومیت کے تصور کو مدلل کرنے اور اس کو ملک کے طول و عرض میں متعارف کرانے کیلئے ’’متحدہ قومیت اور اسلام‘‘ نام کا ایک کتابچہ بھی لکھاتھا۔ جس میں مولانا نے مذہب کی آڑ میں علاحدگی پسندی کی تحریک کو اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیا ہے۔ پروفیسر فتح محمد ملک اس کتابچہ کے حوالے سے لکھتے ہیں:
’’اس کتاب میں انہوں نے متحدہ ہندوستانی قومیت کی بنیاد پر اکھنڈ بھارت کے کانگریسی موقف کے اسلامی جواز پیش کر رکھے ہیں۔ مولانا نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان کا تصور اور پاکستان کی تحریک ہر دو اسلام کے منافی ہیں اس لیے اسلامیان ہند کو مسلم لیگ کے بجائے انڈین نیشنل کانگریس میں شامل ہوکر اپنے وطن ہندوستان کو متحد رکھنا چاہیے۔‘‘(دار العلوم دیوبند، ادبی شناخت نامہ، حقانی القاسمی:۲۴-۲۵، آل انڈیا تنظیم علماء حق نئی دہلی، ۲۰۰۶ء)
شیخ الہند کے ایک دوسرے شاگرد مولانا عبید اللہ سندھی جنہیں افعانی قبائل کو انگریزوں کے خلا ف مورچہ تشکیل دینے کیلئے افعانستان روانہ کیا گیا تھا، انھوں نے بھی ہندستان کے اتحاد و سا لمیت کیلئے یہی جمہوری راہ اختیار کی تھی۔متحدہ ہندستان کے حوالے سے ان کا نظریہ بھی یہی تھا۔ چناں چہ پروفیسر فتح محمد ملک لکھتے ہیں:
’’مولانا سندھی نے ترکی میں اپنی جلا وطنی کے زمانے میں ہی اسلامی اتحاد کے خوابوں سے دست برداری کا کھلم کھلا اعلان کردیا تھا۔ استنبول سے انھوں نے ریاست ہائے متحدہ ہندوستان کا جو خاکہ شائع کیا تھا اس میں انہوں نے اعلان کیا تھا کہ ان کی جلا وطن سوراجیہ ہند پارٹی انڈین نیشنل کانگریس ہی کا ایک ذیلی گروہ ہے جو مدہب کو فقط داتی زندگی کے دائرے تک محدود رکھتے ہوئے لسانی اور جغرافیائی بنیادوں پر ہندوستان کو دس ریاستوں کے ایک وفاق کی صورت میں متحد رکھنے کا خواہاں ہے۔ اسلامیان ہند میں قرار داد پاکستان کی روز افزوں مقبولیت کے زمانے میںجب انہوں نے جمنا، نرمدا،سندھ، ساگر پارٹی قائم کی تب بھی ایک متحدہ ہندوستان کی بقا ہی اپنا سیاسی مسلک قرار دیا۔‘‘(ایضا:۲۵)
مولانا اور ان کے شاگردوں نے اس وقت کے روح فرسا حالات کے تناظر میں باشندگان ہند کیلئے قومیت کی بنیاد مدہب کے بجائے وطن کو اسی لیے قرار دیا تھا کہ اس وقت مذہبی خول میں بند ہوکر ملک کی آزادی کا منصوبہ تشکیل دینے سے بہت دیر ہوجاتی اور شاید ہندستان کی آزادی کی صبح ۱۵؍ اگست ۱۹۴۷ء میںطلوع نہ ہوتی۔ یہ اور بات ہے کہ یہ آزادی تو ملی مگر وہ تقسیم کے خون میں اس طرح لہو لہان تھی کہ آج تک تقسیم کے اس زخم سے خون رس رہا ہے۔مشہور ترقی پسند شاعرفیض احمد فیض نے تو آزادی کی صبح طلوع ہونے کے بعد ہی یہ کہہ دیا تھا کہ
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
=
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
آزاد ہندستان کی تاریخ نے بڑی حیرت کے ساتھ یہ نوٹ کیا ہے کہ جس ادارہ کے فصلاء اور وابستگان نے ہمیشہ علاحدگی پسندی اور فرقہ پرستی کے خلاف آواز بلند کی تھی، آج وہی ادارہ اکثریت کی فرقہ پرستی کے نشانہ پر ہے۔ یہی وہ ادارہ ہے جس کے با ہمت فرزندوں نے سر سے کفن باندھ کر سامراجی طاقتوں کا مقابلہ کیاتھا، اور ہزار لالچ اور پیش کش کے باوجود کبھی مدہبی بنیاد پر ملک کے بٹوارے کو قبول نہیں کیاتھا، مگر یہ عصر حاضر کا کتنا بڑا المیہ ہے کہ نہ صرف یہ ادارہ بلکہ یہاں کے فصلاء اور منتسبین آزاد ہندستان کے نقشے میں معتوب ٹھہرے ،کیا یہ سچ نہیں کہ وہ حب الوطنی کے ہزار مظاہرے کے باوجود شدت پسندوں کے نشانہ پر ہیں۔ ا س ادارے پر نہ صرف یہ کہ فرقہ پرستوں کی نظر بد ہے، بلکہ یہاں کے فارغین کو دیش دروہی اور دہشت گرد قرار دینے میں بھی حکومتی پیمانے پر بڑی بے باکی سے کام لیا جارہا ہے۔معمولی شبہے کی بنیاد پرمدارس و مساجد کی خانہ تلاشی کا ڈرامہ اسٹیج کیا جاتا ہے۔دہلی سے لے کر دیوبند تک ان طلبہ کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے، انھیں ہدف ملامت بنایا جاتا ہے، ان پر بھپتیاں کسی جاتی ہیں، انھیں دیش اور قوم کے کاندھوں پر بوجھ کا جاں سوز طعنہ دیا جاتا ہے،ان کی قومیت ، حب الوطنی اوروفاداری کو مشکوک اور مشتبہ قرار دینے کے ہزار جتن کیے جاتے ہیں۔ہم نے متحدہ قومیت کے تصور کو پس پشت ڈال دیا اس لیے ہمارے ستم پیشہ اور نادان برادران وطن کو یہ کہنے میں کوئی باک محسوس نہیں ہوتا کہ ایک مخصوص طبقہ دیش کا غدار ہے، داخلی سلامتی کیلئے خطرہ ہے، اس کا وجود اس ملک کیلئے ایٹم بم سے زیادہ خطرناک ہے۔
آج ہندستان میں ہندو راشٹر کے قیام کے نام پرجس قسم کی علاحدگی پسندی جنم لے رہی ہے، جس طرح یہاں ظلم و ستم کا بازار گرم کرکے ہندو اور مسلمانوں کے درمیان نفرت کی دیوار کھڑی جارہی ہے اور مسلم اقلیتی طبقے کو ہر جگہ گھیرا اور انھیں رگیدا جارہا ہے، اس بات کی ضرورت ہے کہ قومی یک جہتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے اس عظیم خواب کو شرمندۂ تعبیر کیاجائے۔ اقلیت اور اکثریت کے تعصبات سے اوپر اٹھ کرمساوات اور برابری کی تحریک چھیڑی جائے۔ہندستان فرقہ وارانہ فسادات کی آماج گاہ اسی لیے بنتا جارہا ہے کہ مذہبی بنیاد پر تفریق کی سیاست کو ہوا دی جا رہی ہے۔دنیا کے منظرنامے پر ایسا ہندستان بنایا جارہا ہے جہاں محبت کے بجائے نفرت کی با لادستی قائم ہوسکے۔ وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل، شیو سینا،بی جے پی اور ان ساری شدت پسند تنظیموں کے جنم داتاسنگھ پریوار کے کارندے تو انھی خطوط پر سوچ رہے ہیں ،ہمارے کچھ اشتعال انگیز اور عاقبت نا اندیش رہ نما بھی اپنا الو سیدھا کرنے کیلئے ان کی طرف سے بچھائے گئے دام تزویر میں پھنستے جا رہے ہیں ، جس کا یہ نتیجہ ہے کہ ہندو مسلم کے درمیان مکالمت، مصالحت اور مفاہمت کے بجائے منافرت، مخاصمت اور عداوت جنم لے رہی ہے۔
ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ نفرت، تشدد، فرقہ پرستی اور بغض وعناد کی راہ پر چلنے سے ملک کی سا لمیت پارہ پارہ ہوسکتی ہے۔ دوستانہ اور برادرانہ فضا میں ہی کوئی ملک ترقی کے ہمالہ پر پہنچ سکتا ہے۔ نفرت، بد نیتی اور عداوت کے منحوس سایے میں ہم زوال اور پسماندگی کے غار میں اوندھے منہ جا گریں گے۔ ہمیں کشمیر سے لے کر کنیا کماری تک قومی یک جہتی، بقائے باہم کی وہ خوش گوار فضا قائم کرنی چاہیے جہاں کیا رام اور کیا رحیم سب بھائی بھائی کی طرح رہیں۔ نہ ہندو مسلم کی تفریق رہے اور نہ سکھ عیسائی کا امتیاز۔قومی اتحاد کی راہ سے ہی ملک میں ترقی کی گنگا بہہ سکتی ہے۔ مسجد شکنی اور مقدسات کی حرمت پامال کرکے اور کسی معصوم ہندستانی شہری کو دہشت گرد اور دیش دروہی قرار دے کر ہم اپنے اکابر اور پیش رووں کی روح کو تکلیف پہنچا رہے ہیں۔ قومی یک جہتی، رواداری، باہمی مودت و محبت اور ہندو مسلم اتحاد کے حوالے سے وہی شرائط ملحوظ رہیں جو شیخ الہندحضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ نے تقریباً سو سال پہلے لگائی تھیں کہ ہرگز کسی کی مذہبی حدود میں مداخلت نہ کی جائے۔قومی یک جہتی کے اسی اصول پر چل کر ملک کی ہمت جہت ترقی اور خوش حالی کا سورج طلوع ہوسکتا ہے۔لیکن ذاتی مفادت کی سیاست کرنے والے ہماے رہ نما اور مٹھی بھر تشدد پسند عناصر قومی یک جہتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی رہ پر چلنے سے کترارہے ہیںکہ کہیں اس ملک کا دوسرے درجے کا شہری ہماری برابری نہ کرسکے۔ انھیں تو حاشیہ پر رکھنے اور زندگی کے تمام شعبوں میں پسماندہ رکھنے کا منصوبہ ترتیب دیا جارہا ہے۔ملک کے موجودہ حالات اور فرقہ پرستی کے بڑھتے رجحان کو دیکھ کر فیض کا یہ شعر زبان پر بلا ساختہ آتا ہے کہ
نجات دیدہ و دل کی گھڑی ابھی نہیں آئی
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی
mvm

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے