ہفتہ, 8, اکتوبر, 2022
ہوماعلان واشتہاراتشہر بنگلور کی آب وہوا معتدل اور خوشگوار ہے!

شہر بنگلور کی آب وہوا معتدل اور خوشگوار ہے!

شہر بنگلور کی آب و ھوا معتدل اور خوشگوار ھے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 7 / اکتوبر 2021 کو میری طبیعت خراب ہوگئی ،پٹنہ میں علاج کرایا ،مگر میں بہتر علاج کے لئے 10/ اکتوبر کو بنگلور آگیا ، یہاں میرے لڑکے ملازمت کرتے ہیں ، بنگلور میں علاج کا سلسلہ شروع ھوا ،اللہ کا فضل ھوا کہ میری طبیعت اچھی ھو گئی ، پھر میں نے ارادہ کیا کہ پٹنہ لوٹ جاؤں ،چنانچہ 18/ دسمبر کو پٹنہ لوٹنے کا پروگرام طے کرلیا ،پٹنہ کی سردی کا مجھے پہلے سے تجربہ تھا ،مخلصین نے بھی کہا کہ پٹنہ میں بہت سردی پڑتی ھے ،18/ دسمبر کو واپسی کا پروگرام مناسب نہیں رھے گا ،مگر میں نے یہ سمجھ کر سفر کا مکمل ارادہ کرلیا کہ پٹنہ جانے کے بعد دو چار دنوں کے بعد ایڈجسٹ کر جاؤنگا ،مگر میرا اندازہ صحیح نہیں نکلا ،18/ دسمبر 2021 کو پٹنہ پہنچا ،ھوائی اڈہ سے باہر نکلا تو مجھے اس کا احساس ھوگیا کہ یہاں سردی زیادہ ھے ،گھر پہنچنے کے بعد سردی ستانے لگی ،پھر کئی دن بارش ھوئی ،جس کی وجہ سے سردی اس قدر زیادہ بڑھ گئی کہ میں برداشت نہیں کرسکا ،اور مجھے ایسا محسوس ھونے لگا کہ میں کسی بھی وقت دوبارہ مرض کا شکار بن جاؤنگا ،مگر اللہ تعالی نے حفاظت کی ،چونکہ میں فورا ھی بیماری سے اچھا ھوا تھا ،شاید اسی وجہ سے سردی برداشت نہیں ھوپائی ،مجبورا میں 1/جنوری 2022 کو 3.45 کی فلائٹ سے بنگلور آگیا ،رات 8/ بجے ڈیرہ پہنچا ،اللہ کا شکر ھے کہ یہاں کا موسم معتدل اور خوشگوار ھے ،رات میں صرف چادر اوڑھنے کی ضرورت پڑی ، میری طبیعت اچھی ھے ، موسم خوشگوار ھونے کی وجہ سے اچھا لگ رہا ھے ،البتہ کورونا اور اومیکرون کے بڑھنے کی خبر عام ھے ،2020/ کے نومبر میں بنگلور آیا تو کورونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن لگ گیا ،تو تقریبا 5/ مہینے بنگلور میں رہ جانا پڑا ،پھر بیماری کے بڑھنے کی خبر ھے ،اللہ تعالی حفاظت فرمائے ،

کورونا یا اومیکرون وبائی بیماریاں ہیں ، اس طرح کی بیماریوں کے وقت حوصلہ سے کام لینا چاہئے، احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا چاہئے ،ساتھ ھی اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہئے ،نماز ،توبہ استغفار کرنا چاہئے ،اللہ تعالی سے دعاء ھے کہ وہ تمام لوگوں کو ہر طرح کی آفات سے حفاظت فرمائے

ابوالکلام قاسمی شمسی

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے