شہر ادب کامعزز شہری :سیّداحمد قادری

46

شفق

بعض شخصیتیں بڑی خاموشی سے دل میںداخل ہوکرچپ چاپ بیٹھ جاتی ہیں ۔ بہت دنوںبعد ان کی موجودگی کااحساس ہوتاہے ۔اب لاکھ یاد کرنے کی کوشش کیجئے کہ ان سے کب اورکہاںملاقات ہوئی تھی۔ یہ دل میںکیسے داخل ہوگئے ،اپنے رہنے کی جگہ بھی بنالی یاد نہیںآتا ،ایسا لگتاہے وہ کہیں آئے نہیںہمیشہ سے وہیں تھے ۔
سیداحمد قادری بھی ایسی ہی شخصیت کے مالک ہیںان سے میری ملاقات کب ہوئی ،کس نے کرائی یاد کرنے کی کوشش کرتاہوں،پیچھے مڑکربہت دوردیکھ آتاہوں ۔
کوئی سراغ نہیںملتا۔قدموںکے نشانات نہیں ملتے ،دھندلادھندلااتنا یاد ہے کہ شاید ان کے والد ’’اندرپوری ‘‘میں پوسٹڈ تھے تب قادری سہسرام میںمجھ سے ملے تھے یاکہیں اورمگر یہ شناسائی زندگی میںسینکڑوں لوگوںسے ہونے والی شناسائی سے مختلف نہ تھی ،نہ دوستی کی خواہش نہ کوئی اورتجسس ،جوانی کے دن تھے ،زندگی بھرپور اوررواں دواں تھی آنکھوں میںخواب تھے پلکوں پران کی تعبیر یں ،ساری بلند یاں روندڈالنے کے حوصلے ہمارے تعارف کاسبب ہماراشوق مشترک تھا۔ میںبھی کہانیاں لکھتاتھا قادری بھی کہانیاں لکھتے تھے یہ بندھن سماجی اورخالص ادبی تھا ، ہمیں ایک دوسرے کی ذاتیات سے کوئی دلچسپی نہ تھی قادری شادی شدہ تھے یاکنوارے ،ان کی اب بھی شادی ہوئی ہے یاوہ پیدائشی شادی شدہ ہیں ہمارا موضوع ادب ہوتاکہاں
کہاں کہانیاں چھپ رہی ہیں ،کون کون سے نئے رسالے نکلے ہیں ان دنوںکون سی کہانی لکھی جارہی ہے ،یہ گفتگو بھی زیادہ طویل نہ ہوتی ۔
جب قادری گیا میںمنتقل ہوئے اورمجھے یونیورسیٹی کے کام سے گیا جاناہوتا توقادری سے ملاقاتوں کاسلسلہ بڑھا،صبح ٹرین سے جاناپھریونیورسیٹی کاکام کرنا اوراسی دن لوٹ آناایسے میں ملاقات ہوتی توگھڑی کسی سنتری کی طرح دروازے پر پہر ہ دیتی رہتی ملاقات کاوقت ختم ،ٹرین کاوقت شروع ،شاید اپریل کاآخری ہفتہ تھااور اتوار کادن ایک کہانی مکمل ہوئی تھی اسے صاف کرکے ’’شب خون ‘‘ کوبھیجناتھا ۔ کہانی مکمل کر کے گھر میںرکھنا مجھے ہمیشہ بھاری لگا ،اسے اسی دن صاف کرکے بھیج دیتاہوں ، مگر اس دن روشنائی ختم ہوگئی تھی اوردوات بھی خالی تھی ،دن کے گیارہ بجے ہی دھوپ سخت ہوگئی تھی اوراتوار کی وجہ سے دوکانیں بند،میںکوئی کھلی ہوئی دوکان ڈھونڈ تاجی ٹی روڈ پرچل رہاتھا ،اچانک ٹھنڈی ہواکاجھونکا میرے چہرے سے ٹکرایا،رکشہ پروہ چہرہ ایساہی تھا ،پہلی بارمجھے شاعری کے الہامی ہونے کایقین ہوا،بعض چہرے ایسے ہی فرحت بخش اورآنکھیںمدہوش کرنے والی ہوتی ہیں،میںاس ٹھنڈک کودل میںاس طرح بھرتا رہاجیسے اونٹ کوہان میںپانی جمع کرتا ہے ، رکشہ اورنزدیک آگیا ٹھنڈک اوربڑھ گئی،ابھی یہ میرے پاس سے گزرجائے گااور جمع کی ہوئی ٹھنڈک بوند بوند اس کڑی دھوپ میںجل جائے گی ،میںنے سوچاہی تھا کہ رکشہ سے السلام علیکم کی آواز آئی ۔
تب مجھے احساس ہواکہ یہ چھاؤں دھوپ کی چادربغل میںلے کرنکلی ہے اب مجھے یاد نہیں کہ میںنے لاحول پڑھاتھا یاوعلیکم کہاتھا جب آدمی گڑبڑا تاہے تومادری زبان میںبھی غلطیاں کرجاتاہے عربی زبان توویسے بھی نادری زبان ہے جسے ہم بغیرمفہوم سمجھے بولتے ہیں۔
اس دھوپ میں چہل قدمی؟ قادری رکشہ سے نیچے اترآئے تھے ۔
روشنائی کی تلاش میں نکلاہوں مگرآپ ۔
ہم آپ ہی کے گھر جارہے ہیں۔
لفظ ہم سے مجھے زیادہ خوشی ہوئی ،ٹھیک ہے آپ گھر چلئے میںآرہاہوں ۔
آگرہ میںجوحیثیت تاج محل کی ہے ، سہسرام میںوہی شیر شاہ کے مقبرے کی ہے ، دونوں مقبرے ہیں،ایک محبت کی دوسرابہادری کی یادگار ،تاج محل سنگ مرمر سے بنا ہے ، محبت کی تعمیر میں نفاست نزاکت اورچکنائی ضروری تھی،شیر شاہ کامقبرہ کھردرے مضبوط گندمی پتھروں سے ایک جری دلیر انسان کے مضبوط ارادوں کے شایان شان ہم اہل سہسرام اپنے مہمانوں کوبڑے فخر سے یہ مقبرہ دکھاتے ہیں مقبرے کے چاروں طرف پھیلاہواوسیع تالاب ،تالاب کے کنارپختہ سڑک ، پھر پارکنگ ہریالی ،دورکیمور پہاڑی سلسلہ ،آسمان میں منڈلاتاہوا کبوتر وںکاغول اور کپڑوں پرسر سراتی ملائم ہوا۔
ہم دیر سے پانی کے قریب سیڑھیوںپربیٹھے ہیں قادر کی کہانیوںکی باتیں کررہے ہیں ،ان کی بیگم لہروں پرنظر یںجمائے ہیںجہاں سے کبھی کبھی کوئی چاندی جیسی مچھلی تڑپ کرفضامیں بلند ہوتی ہے پھر واپس لہروںمیں سماجاتی ہے ، بچپن میںمیں بھی یہ کھیل بڑے شوق سے دیکھتا تھا تالاب پرمنڈلانے والی وہ اجلی سی لمبی چونچ والی چڑیاجب ان مچھلیوںکوچونچ میں دباکر اڑجاتی ہے تو بہت دکھ ہوتا۔
دفعتاً،میرے گیان کی آنکھیںکھلیںمیںاس رومانی ماحول میںوہ سفید سی چڑیا بن گیا تھاجورنگین لمحات کوچونچ میںدبائے سرپر منڈلارہی تھی ۔
قادری صاحب کیامیںکچھ دیر کے لئے ٹل جاؤں۔
کیوں ؟انہوںنے مجھے حیرت سے دیکھا۔
یہ رومانی ماحول ،دلوں کوگدگداتی ہوئی یہ لہریں ،میرامطلب ہے زندگی میںکچھ مزید رنگین لمحات کااضافہ ۔
ارے نہیںبھائی اب یہ سب کہاں۔قادری نے عام شوہروں والی بے نیازی کا مظاہرہ کیا۔
اچھا توکچھ دیر کے لئے آپ ہی ٹل جائیے ؟ میںنے بیگم قادری کی طرف دیکھا۔
آپ بڑے چالاک ہیں،وہ گلابی ہوگئیں اورقادری ٹھٹھار مارکرہنسے تھے ۔میں نے بچپن میںیہ لفظ ٹھٹھاسناتھا ہم توزور سے ہنسنے کوقہقہہ پڑھتے اورلکھتے رہے ہیں، پھرٹی وی سیریلوں اورفلموںمیںویلنوں کوظلم وستم اورقتل وغارت گری کے مناظر میں قہقہے لگاتے دیکھے ہیں ، ہذیانی قہقہے ،وحشیانہ قہقہے گولیوںکے قہقہے آگ کے قہقہے بچارہ عام آدمی ان قہقہوںکے خلاف ہنسنااورمسکرانابھول کراندرہی اندر سہما جارہاہے ، اب قہقہے زندگی کی نہیںموت کی علامت بن گئے ہیں۔
مگرقادری کے دل کھول کرہنسنے کے انداز کے لئے اس سے بہتر کوئی لفظ نہیں ہو سکتا ۔خدا نے انہیںہنستا ہواچہرہ دیا ہے وہ بات کہنے سے پہلے مسکراتے ضرور ہیں اور ہنسنے کی بات میںکنجوسی نہیں کرتے اس شام وہ بہت خوش تھے میںنے ان کی بیگم کو گیامیںبھی دیکھاتھا مگرسسرال کی موجودگی میںعورت نہ صرف جسم چھپائے رہتی ہے بلکہ ساری خوبیاںچرائے رہتی ہے ،یہاں بیگم قادری پوری رعنائیوںکے ساتھ کوئی دوسری عورت نظرآرہی تھیں۔میںنے اتنے دھیرے سے کہ ان کی بیگم سن لیں، قادری سے پوچھاتھا ۔
یہ واقعی آپ کی بیگم ہیں؟ پچھلی بارتو دوسری بیگم آپ کے ساتھ تھیں۔
قادری چلتے چلتے رک گئے ،ان کی بیگم کے چہرے کارنگ بدلا تھا،اورقادری بال پڑے، خداکی قسم بہت خطرناک مذاق ہے یہ سچ مان جائیںگی ۔
پھرقادری کئی بار سہسرام آئے ،کبھی انٹرویولینے ،کبھی یوںہی ملنے ،کبھی کسی کام سے ،کبھی کسی شادی میں،ایک شادی میںوہ خصوصی مہمان تھے اورہوٹل میںان کے ٹھہرنے کاانتظام تھامگروہ میرے یہاںآگئے ،میںنے ہوٹل کی یاد دلائی توکہنے لگے ، آج ہوٹل میںٹھہرگیاتوکل آپ اپنے گھر میں گھسنے نہیں دیںگے ؟
اوربہت سی طویل ملاقاتوںکے بعد مجھے احساس ہواکہ شخصیت کے اعتبار سے سے سید احمد قادری ،پیازنہیںخربوزہ ہیں۔بعض لوگ پیاز ہوتے ہیں خصوصیت کی تلاش میںانکی پرتیں اتارتے جائیے آخرمیںکچھ ہاتھ نہیںآتا ،قادری کومیںنے خربوزہ اس لئے کہاہے کہ نہ جانے کیوںانہیںدیکھ کرخربوزے کاخیال آتاہے ۔ چھلکااتارئیے اندرسے میٹھے اورخوشبودار قادری برآمد ہوںگے ،کہیںتصنع اور بناوٹ نہیں ،کوئی نقاب نہیںجوکچھ اندر ہیںوہی باہربھی ہیں۔اسی لئے قادری ادبی حلقے میں پسندیدہ شخص ہیں،کسی کوقادری کے ادب سے اختلاف ہوسکتاہے مگران کے اچھا آدمی ہونے سے ان کے دشمن کوبھی انکار نہیں۔ہم پہلے آدمی سے ملتے ہیںپھرادیب سے، افسوس تب ہوتاہے جب ہم نامی گرامی ادبی شخصیت سے ملتے ہیںاور اسے انسانی کمزوریوںکامرکب پاتے ہیں،تکبر ،کینہ پروری ،خوشامد پرستی اورپسندی ، ضد ،ہٹ دھرمی اور بڑاادیب ؟ جوشخص اچھا انسان نہیںوہ اچھا مفکر اورادیب کیسے ہوسکتاہے مگر اب شہرت اورنام وری کے لئے اچھا انسان اوراچھا ادیب ہونے کی نہیں، اچھا سیاست داںہونے کی ضرورت ہے، جوڑتوڑ کی مہارت ،گروپ بندی کاسلیقہ اور ارباب اقتدار سے مراسم ہیں توسارے اعزاز وانعامات ساری عظمت اوربلندی اس کا مقدرورنہ کمرے میںبیٹھ کر کاغذ سیاہ کیجئے ،کون گھاس ڈالتاہے ۔
قادری نے میری کہانی’’ مہم ‘‘کاتجزیہ کیااور لکھنے کی دھن میںکئی باریک غلطیوںکے مرتکب ہوئے ،میںنے خط لکھ کرنشاندہی کی تو انہیںاحساس ہوااور معذرت کرلی ۔ ادب بحث وتمحیص کاگہوارہ ہے اورکوئی تحریرحرف آخرنہیں،قادری ہٹ دھرمی پراترآتے تومیںان کاکیابگاڑ لیتا ،زیادہ سے زیادہ کسی خط یاتبصرے میںاس کی گرفت کرتا ،وہ اپنی حمایت میںدس گواہ لے آتے ،اب سچ کے کم اورجھوٹ کے گواہ زیادہ آسانی سے ملتے ہیں،وہ کوشش کرتے کے بحث آگے بڑھے تاکہ وہ دیر تک نیوز میںرہیںمگروہ ایک سلجھے ہوئے انسان ہیںاسی لئے سچ سچ سمجھااوربا ت ختم ہوگئی۔
قادری نے ادب کے لئے بہت محنت کی ،ادب کوانہوںنے اوڑھنابچھونا بنالیاوہ ہفتہ واربودھ دھرتی کے مدیر ہیںاور غوثیہ پبلی کیشنز کے کرتادھرتا ،انہوںنے غیاث احمد گدی کی کتابیںبھی مرتب کی ہیں وہ ناقد ،صحافی اورافسانہ نگار بھی ہیںاگرچہ اتنی توجہ اپنی بیگم پردیتے توگھر گل گلزار ہی نہیںمرغ زار بھی بن جاتا اورہرشاخ سے گانے کی آواز آتی ، مان مرااحسان ارے نادان ۔
تبصرے کے لئے انہیںاچھی بری مفید اورغیر مفید کتابیںپڑھنی پڑتی ہیں اس لئے جہاںان کی ادبی معلومات اپٹوڈیٹ ہیںوہیں علمیت میںبھی اچھابرااضافہ ہوتا رہتاہے اب کوئی ادبی سوپئر اس ٹوکری کی صفائی کرے گا تومعلوم ہوگا کہ اس میںکتنی چیزیںکام کی ہیںاورکتنی فالتو ۔
قادری کی دوتنقیدی کتابیںہیں’’فن اورفن کار‘‘اور ’’افکار نو‘‘ شائع ہوچکی ہیں، دو افسانوی مجموعے ’’ریزہ ریزہ خواب‘‘ اور’’دھوپ کی چادر‘‘ منظرعام پرآچکے ہیں۔ان کہانیوںکے مطالعہ سے یہ اندازہ ہوتاہے کہ سید احمد قادری نے شروع سے تخلیقی بیانیہ کواپنے افسانوی اظہار کاوسیلہ بنایا،جدید یت کے دنوںمیں بھی وہ بیانیہ کہانیاں لکھتے رہے ایسا لگتاتھا علامتیں ان کی بس کی نہیںاسی لئے وہ دوسرے جدید افسانہ نگاروںکی طرح علامتی اور تمثیلی کہانیاں نہیںلکھتے مگر یہی رویہ سلام بن رزاق کاتھا ، جب جدیدیت عروج پرتھی سلام ،پریم چندکی اسٹائل اپنائے رہے دراصل جس کے پاس کہنے کوبہت کچھ ہوتاہے اوروہ پورے اعتماد کے ساتھ اپنی بات قاری سے کہناچاہتاہے وہ ڈائمنشن کے نام پرقاری کوبھٹکنے کے لئے نہیں چھوڑتا،ممکن ہے اس سے کہانی اکہری ہوجاتی ہو، لیکن خالق کوتخلیقی سکون ضرور ملتاہے اوراگرکہانی پسند کی جاتی ہے توگویایہ اس کے یقین کی فتح ہے اس سے اپنے افکار پراس کااعتماد پختہ ہوتاہے ۔
موضوع کے اعتبار سے قادری کے افسانے وسیع انسانی مسائل کے ترجمان ہیں جوذات سے شروع ہوکر عصر میںاپنی شاخیںدراز کرتے ہیںاورآنگن سے بازار پھر سیاست کے اونچے ایوانوں تک پہنچتے ہیں اس راہ میں ظلم ،جبر ،تشدد، استحصال مایوسی و نامرادی کے عفریت بھی ملتے ہیںاورمتوسط اور پست طبقے کے افراد کے ارمانوں کی چتائیں بھی ،قادری بڑے موضوعات کی تلاش میںنہیںبھٹکتے بلکہ اپنے اردگرد پھیلی کہانیوںسے جھولی بھرتے ہیں۔
بہت کم ایسے خوش نصیب ہوتے ہیںجنہیںفوراًان کی محنت کاثمرہ ملتاہو، قادری کے فکروفن پرترسیل ،گیا اورسہیل گیانے دوخصوصی شمارے شائع کئے اور اب ان کے فن ا ورشخصیت کی اشاعت کیلئے فخرالدین علی احمد میموریل کمیٹی لکھنؤ نے شیریں اخترکو تعاون دیاہے ۔
حکومت ہند کے محکمہ ثقافت نے انہیں فیلوشپ ایوارڈ سے سرفراز کیااور ہندوستان ٹائمز گروپ کے کے برلا فاؤنڈ یشن نے ان کی صحافتی کارگذاریوںکوتسلیم کرتے ہوئے فیلوشپ ایوارڈدیا۔ یہ کامیابیاں یقیناقابل ستائش ہیں۔
اب علامتی افسانے کادور ختم ہوااور اسے مردود گردانا گیا ،کہانی بیانیہ کی طرف واپس ہوئی توقادری زیادہ سرخروہوئے گویا ان کی راہ ہی راہ مستقیم تھی ۔
میں سوچتا ہوں قادری کی ان کامیابیوں کی مبارک باد کامستحق کون ہے ؟
ان کی کامیابیوںکاساراکریڈٹ میںان کی بیگم کودیتاہوں ۔نیک اورخوبصورت خاتون کو، مردبیچارہ کیا۔تاریخ گواہ ہے کہ یہ عورت ہی ہے جومرد کوجہاںچاہتی ہے پہنچادیتی ہے ، قبرمیںجیل میںیاپھرشہرت کی بلندی پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اورقادری آج شہر ادب کے معزز شہری ہی نہیںادبی مہاجن بھی ہیں ۔
(بشکریہ جدید اسلوب:۳ )
٭٭٭