ہفتہ, 8, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتشکنجۂ یہود سے شکنجۂ ہنود تک محمد طاہر ندوی

شکنجۂ یہود سے شکنجۂ ہنود تک محمد طاہر ندوی

اسلام روز اول سے ہی اتحاد و اتفاق کا علمبردار رہا ہے۔ انسانیت نواز کا پیکر رہا ہے۔ امن و امان کا داعی رہا ہے۔ پیار و محبت کا حامی رہا ہے لیکن ظلم و زیادتی اور فتنہ و شرانگیزی کی کبھی حوصلہ افزائی نہیں کی بلکہ فساد فی الارض اور ظلم و زیادتی کی حوصلہ شکنی کی ہے اور ضرورت پڑنے پر مناسب اقدام بھی۔ یہی وجہ ہے کہ محبوبِ خدا، وجہِ تخلیقِ کائنات، محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ تشریف آوری کے بعد بھی اہل یہود اپنی تمام تر مذہبی، سیاسی، سماجی و اقتصادی آزادی کے ساتھ مدینہ اور مدینہ کے قرب و جوار میں موجود تھے، مسلمانوں کے روابط تھے، کاروباری لین دین بھی ہوا کرتے تھے، مسلمان، اہل کتاب ہونے اور ذمی ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ رکھتے جبکہ دیگر قوموں کا رویہ اہل یہود کے ساتھ انتہائی اذیت ناک اور انتہا درجے کی ظلم و زیادتی کا تھا، ایک طرف اگر اسلامی سلطنت کی سرحدیں پھیل رہی تھیں تو اس کے سائے میں اہل یہود بھی بڑھ رہے تھے بلکہ عربوں نے مصر ، فلسطین، شام اور ایران میں یہودیوں کو پوری آزادی دے رکھی کہ وہ بےخوف ہو کر کھیتی باڑی اور تجارتی سرگرمیوں میں مصروف رہیں۔ اقوام عالم کی پوری تاریخ گواہ ہے کہ اہل یہود کو پھلنے پھولنے اور ترقی کرنے کے جو مواقع اسلامی ادوار میں میسر تھا وہ کسی حکمراں کے دور میں میسر نہیں تھا؛ لیکن جب انہوں نے سرکشی کا راستہ اختیار کیا، معاہدے کی خلاف ورزی کی اور اسلام و اہل اسلام کے خلاف سازشیں کرنے لگے تو اللہ کے رسول ﷺ نے سب سے پہلے حدود عرب سے باہر نکالا۔ عہد فاروقی میں خیبر سے نکالے گئے۔ اسی طرح دیگر اسلامی ریاستوں اور ان یورپی ممالک سے بھی بھگائے گئے اور قتل کئے گئے جہاں ان کی شر انگیزی ، بد معاشی اور مکاری سامنے آ گئی تھی۔

یہ بڑی حیرت کی بات ہے کہ ایک ایسی قوم جس کے ناپاک وجود کو دنیا کے کسی خطے نے قبول نہیں کیا۔ جن پر لعنتیں بھیجی گئیں۔ حقارت کی نظر سے دیکھے گئے۔ قتل کئے گئے۔ مارے گئے۔ لوٹے گئے۔ دھتکارے گئے۔ بھگائے گئے آج وہی قوم تسخیرِ عالم اور شکنجۂ یہود میں جکڑنے کے لئے تمام طرح کے ہتھکنڈے ، چال بازی ، مکاری اور جھوٹ اور فریب کا سہارا لے کر غیر یہودی کو ” زر خرید غلام ” اور پوری دنیا کو ” عالمی یہودی ریاست ” بنانے کے لئے کوشاں ہیں۔ تسخیر عالم اور پوری دنیا کو اپنے شکنجے میں لینے کا خواب یہودیوں کا ہر نو مولود اپنے سینے میں لے کر پیدا ہوتا ہے اور اس کے لئے وہ اپنے تمام ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے۔ انہوں نے” ہولو کاسٹ ” نامی عظیم جھوٹ کا سہارا لیا۔اقوام متحدہ کی ہمدردیاں اور پوری دنیا میں اپنی مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹ کر فلسطین پر شکنجہ کسا اور فلسطینیوں سے ان کی زمینیں ، مکانات اور عبادت گاہوں کو چھین کر خود قابض ہوگئے۔

فری میسن بھی یہودیوں کا ایک خطرناک ہتھکنڈہ ہے۔ جو ایک بین الاقوامی خفیہ تنظیم ہے جس کے ذریعے دجال اور دجالی ریاست کی راہیں ہموار کر رہے ہیں جو بظاہر ایک سماجی و فلاحی تنظیم معلوم ہوتی ہے لیکن ارادے انتہائی خطرناک ہیں ، مذہب سے بیگانہ اور بد ظن کرنا، جیسا کہ دور نبوی میں سادہ لوح مسلمانوں کو بدظن کیا کرتے تھے، آپ ﷺ کے خلاف، آپ کے صحابہ کے خلاف، آپ کی مشن کے خلاف وسوسہ ڈالتے اور شوشہ چھوڑ دیتے، اسی طرح اسلامی کتابوں اور مضامین کا تنقیدی مطالعہ کرنا، منفی نقاط کے ذریعے انتشار پھیلانا، مقتدر اور معتبر شخصیات کو باہم دست و گریباں کرنا، مسلکی اختلافات کو ہوا دینا، ماضی میں بھی یہ ایسی فتنہ انگیزی کرتے آئے ہیں، حضرت علی و امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کے درمیان نفاق پیدا کرنے والوں میں کئی یہودیوں کے نام بھی شامل ہیں۔ اسی طرح فحاشی اور عریانیت کو فروغ دینا، جگہ جگہ قحبہ خانے اور لواطت کے اڈے قائم کرنا، سودی بینکاری نظام کو تقویت پہنچانا یہاں تک کہ اپنی عورتوں کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں، انہیں سیاسی رہنماؤں اور ان کی محلوں تک رسائی کو ممکن بنانے کے لئے ہر طرح کا مکروہ کھیل کھیلتے ہیں۔ ان تمام سازشوں اور ہتھکنڈوں کے ذریعے اقوام عالم اور بالخصوص اہل اسلام کو اپنے شیطانی و طاغوتی شکنجے میں کسنے کی کوشش کر رہا ہے اور کافی حد تک اپنے مشن میں کام یاب بھی ہو چکا ہے۔

یہودیوں کی شیطانی و طاغوتی راہ پر یہ ملک کافی مدت پہلے ہی چل پڑا تھا جب سابق نائب وزیر اعظم ایل کے اڈوانی اور شیو سینا کے بانی بال ٹھاکرے نے علی الاعلان اسرائیل سے اپنے تعلقات کا اظہار کیا۔ اب اہل یہود کی وہ تمام خصلتیں اور عادتیں ہنود میں سرایت کر گئی ہیں۔ زمین میں فساد پھیلانا اور دنگے کرانا تو گویا عام سی بات ہو گئی ہے، زمینوں کو ہڑپنا، مندر کے نام پر مسجدوں کو مسمار کرنا، جیسا کہ بابری مسجد کے ساتھ ہوا اور اب گیان واپی مسجد اور ملک کی دیگر مساجد کے ساتھ ہو رہا ہے، مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کرنا، جیسا کہ جہانگیر پوری کے مسلمانوں کے ساتھ ہوا اور پریاگ راج ( الہ آباد ) میں محمد جاوید کے ساتھ ہوا۔ مذہب اور نسل پرستی کی بنیاد پر جو قتل ہوئے وہ کوئی اتفاقی نہیں تھے بلکہ پوری پلاننگ کے ساتھ یہ کاروائیاں کی گئیں تھیں، اسی طرح گائے کے نام پر تشدد کا نشانہ بنانا، ہندؤں کی بالا دستی کو ترجیح دینا، جمہوریت کے نام پر شریعت اسلامیہ پر قدغن لگانا، سیکولرازم کے پس پشت ہندوتوا کا گھناؤنا کھیل کھیلنا، آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیموں کے ذریعے مکروہ سازشیں رچنا اور پوری آبادی کو ہندوتو کے شکنجے میں جکڑنے کی کوشش کرنا، اسلامی تاریخ اور قرآنی آیات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنا، فحاشی اور عریانیت کو فروغ دینا، ملک کی سب سے بڑی اقلیت کے ساتھ نہایت ظالمانہ سلوک کرنا، بے قصور مسلم نوجوانوں کو قید کرنا، ان پر سخت قوانین لگا کر ان کے مستقبل کو خطرے میں ڈالنا، ملک کی عوام کو بالخصوص نچلی ذات کو غلامانہ زندگی گزارنے پر مجبور کرنا، یہ سارے ہتھکنڈے اور ناپاک سازشیں اسی یہودی ذہنیت سے متاثر ہو کر استعمال کئے جا رہے ہیں۔ یہود غیر یہودی کو اپنا غلام بنانا چاہتے ہیں اور ہنود مسلمانوں اور دلتوں کو اپنا غلام بنانا چاہتے ہیں۔ جس طرح یہود ایک عالمی یہودی ریاست کا خواب دیکھ رہا ہے اسی طرح آج کے ہنود ملک ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔

سازشوں اور شیطانی ہتھکنڈوں کے اس دور میں مسلمانانِ ہند کو ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے۔ آزادی سے قبل مسلمانوں کے ایسے حالات نہیں تھے لیکن اب حالات بد سے بد تر ہوتے جا رہے ہیں۔ چاروں طرف سازشوں کے تانے بانے بنے جا رہے ہیں۔ یہود پوری دنیا کو اور ہنود ملک ہندوستان کو اپنے شکنجے میں لینے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ شیطان کے ان ہتھکنڈوں اور دجال کے شکنجوں سے بچنے کے لئے اپنے اندر ایمان کی شمعیں روشن کریں۔ اپنے وجود کو باقی رکھنے کے لئے اللہ کی وحدانیت اور رسول ﷺ کی رسالت کو مضبوطی سے تھام لیں۔ اپنے اخلاق و کردار کو بلند کریں اور دنیا کی منصب امامت کو سنبھالنے کے لئے اپنے اندر نبوی اوصاف و خصائل کو زندہ کریں اور اس ملک کی قیادت کو حکمت عملی اپناتے ہوئے اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرے۔

محمد طاہر ندوی
امام و خطیب مسجد بلال ہلدی پوکھر جھارکھنڈ
رابطہ نمبر : 7667039936

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے