شمع جل رہی ہے پھولوں کی انجمن میں : حافظ میر ابراھیم سلفی

52
آیا ہے آسماں سے اڑ کر کوئی ستارہ
یا جان پڑ گئی ہے مہتاب کی کرن میں
یا شب کی سلطنت میں دن کا سفیر آیا
غربت میں آ کے چمکا گمنام تھا وطن میں
فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ “قیامت سے پہلے فتنے اندھیری رات کے ٹکڑوں  کی طرح نازل ہونگے.آدمی ایمان کی حالت میں صبح کرے گا اور کفر کی حالت میں شام یا پھر شام ایمان کی حالت میں کرے گا اور صبح کفر کی حالت میں.کئی قومیں دنیاوی مال کے عوض اپنا دین بیچ ڈالیں گے.”(سنن ترمذی,کتاب الفتن وسندہ حسن) یہ حدیث پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کا منہ بولتا ثبوت ہے کیونکہ یہ حدیث مبارک ہمارے رہبر و رہنما صلی اللہ علیہ وسلم کو الصادق الامین ثابت کرنے میں نہایت ہی اعلی ہے.نبوی فرمان کے مطابق کی گئی پیشنگوئی آج سو فیصد سچ ثابت ہورہی ہے.اہل ایمان کفر و ضلالت کے دلدل میں ڈوبتے جارہے ہیں,اسلام کے متبعین دینار و درہم کے عوض اپنے دین و ایمان کا سودا کررہے ہیں. آج بلا جھجک اسلام سے تمسخر کیا جاتا ہے,نہ صرف اہل ایمان کا مذاق اڑایا جارہا کے بلکہ دین اسلام کو بھی فقط افسانہ سمجھ کر نظر انداز کیا جارہا ہے.سنتوں کو (معاذ اللہ) حقیر تصور کیا جارہا ہے.اسلام پر عمل پیرا غرباء کو طعنہ زنی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے.کفار سے دوستی اور مومنوں سے دشمنی اپنے عروج پر ہے.اسلام سے بغاوت جبکہ کفر کی اندھی تقلید عام ہے.ملت اسلامیہ دین سے منحرف ہوتی جارہی ہے.علماء اور طلباء کو غلاموں کی قدر کی جارہی ہے.اہل دولت خطباء و مبلغین کو اپنے اشاروں پر نچانا چاہتے ہیں.عبادات رسومات میں تبدیل ہوگئں.ماہ رمضان ہو,ماہ ذوالحجہ ہو,یوم الجمعہ ہو ,یوم عاشورہ ہو کلی طور پر رسومات بن کے رہ گئے ہیں.ائمہ مساجد کو مختلف طریقوں سے ذلیل کیا جارہا ہے.تنخواہ کے نام پر بھیک دی جارہی ہے.مروجہ تعلیم کی طرح اب مفتیان کرام و حفاظ کو گھر بلا کر بچوں کی خدمت کروائی جارہی ہے.لوگوں کی آخرت سنوارنے والے اپنی دنیا برباد ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں.علماء کی قدر و منزلت کا فقدان ہے .عوام الناس حق سننا گوارا نہیں کرتے .لہذا واعظین کو حق بیان کرنے پر اخراج کی سند دی جاتی ہے.قرآن کو فقط دکان و مکان کی برکت کے لئے رکھا گیا,آیات بینات کو تعویذ بناکر بیچا گیا,احادیث کو بحث و مباحثہ کے لئے استعمال کیا گیا.اہل دین کو نکاح کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے.داڑھی جیسی عظیم سنت پر عامل نوجوان ملت کو مختلف طعنوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے.قرآن و سنت کو نظام حیات بنانے کے لئے کوئی تیار نہیں.اگر کسی چیز کی طلب ہے تو وہ ہے زر,زن اور زمین.
اسلام جاہلی ترازوں کو بدل دیتا ہے تاکہ اللہ کے حکم  کے مطابق اس زندگی میں ہر چیز میں ایک منفرد قوم پیدا ہو.وہ اپنی سوچ,اپنے شعور,اپنے راستے اور اپنے ترازو میں منفرد ہو.جاہلیت اسلام کو ناپسند کرتی ہے اور اپنے متبعین کو اسلام سے متنفر کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے.اللہ کے دشمنوں کی شدید خواہش اور حرص ہے کہ اسلام کی صورت بگاڑا جائے اور مٹایا جائے اور اس کام میں اہل اسلام کو بھی معاون بنانے کی مخصوص کوشش کی جاتی ہے.امام احمد رحمہ اللہ نے اپنی مسند کے اندر ایک روایت نقل کی ہے کہ “آدمی ایک بات کہتا ہے تاکہ اس کے ساتھ اپنے ہم نشینوں کو ہنسائے لیکن اس بات کی وجہ سے جہنم میں ستاروں سے بھی زیادہ دور جاگرتا ہے”.(وسندہ صحیح) عصر حاضر میں جنت و جہنم ,سزا و جزا کو موضوع سخن بناکر امور غیبیہ کا مذاق اڑایا جاتا ہے. دولت کے نشے میں لت ہمارے نوجوان منازل برزخ و آخرت کو جھوٹی کہانی سمجھ کر محفل تفریح منعقد کی جاتی ہے.دین اسلام کو لہو و لعب کی بدعی محفلیں چمکانے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے.بدعات و خرافات دین بناکر پیش کیا جارہا ہے.فرمان ربانی ہے کہ “افسوس ہے بندوں پر کہ ان کے پاس جو بھی رسول آیا اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے”.(یس) یہ دنیاوی لہو و لعب اختتام ہونے کو ہے.یہ کھیل و تفریح کے انجمن جل کر راکھ ہونے کو ہیں.یہ سبز باغ خزاں کی لپیٹ میں آنے والے ہیں.عارضی حیات کو ابدی سمجھنے والو! تمہارا یہ تماشہ عنقریب فنا ہونے والا ہے.موت الفجاءۃ کا بازار گرم ہے.شریعت اسلامیہ کے مقابلے میں نسوانیت (feminism) کو فروغ دینے والو!
 اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے حیوانیت کا طریقہ تمہیں قبول ہے لیکن سرورکائنات کا پاک اور طیب اسوہ تمہیں قبول نہیں.دراصل یہ اکل حرام اور گناہوں کی وہ نحوست  ہے جس نے تمہارے دلوں کو زنگ آلودہ کردیا ہے.شرعی حدود کو انتہا پسندی (extremism)  کا نام دینے والے اصلاً بے غیرتی کی زندگی بسر کررہے ہیں.اسی طرح شرم و حیا  کے عظیم اصول ٹھکراکر حد سے تجاوز گزرنے ( liberalism) کو ترجیح دینے والے حقیقتاً بہیمتہ الانعام کی زندگی بسر گزانا محبوب رکھتے ہیں.صبح سویرے بیوی بناؤ سنگھار کرکے گھر سے نکل کر فحاشی کا بازار گرم کرتی ہے اور شوہر نوکر کی طرح پیچھے پیچھے بستہ پکڑ کر خدمت کی غرض سے نکلتا ہے.بعض مرد عورت کی کمائی کھانے کے عادی ہوگئے ہیں تبھی تو وہ اہل خانہ کی عورتوں کو کھلی آزادی دئے ہوئے ہیں.یاد رکھنا! تاجدار حرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ “وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہوگی جس نے اپنے معاملات کا حاکم عورت کو بنایا”.(سندہ صحیح) ملت ذلت و رسوائی کی شکار ہے ,وجہ ہمارا کردار ہے.
فرمان ربانی ہے کہ “اور جب تم نماز کے لئے پکارتے ہو تو وہ ہنسی کھیل و ٹھٹھا پکڑ لیتے ہیں یہ اس واسطے کہ وہ بے عقل قوم ہے “.(المائدہ) عرض کرتا ہوں کہ کورونا (covid-19) سے پہلے بھی بعض افراد مساجد آنے کو شرماتے تھے لیکن یہ  وبائی بیماری آنے کے بعد ان کو ایک قوی بہانہ ہی مل گیا.رات کے اندھیرے میں اپنی duty ادا کرنے کے لئے نکلا جاتا ہے مگر مساجد ویران….طلوع فجر ہوتے ہی morning walk کی قطاریں دیکھنے کو ملتی ہیں مگر مساجد خالی.کیا ہمیں شرم نہیں آتی؟ کیا ہمیں احساس نہیں؟ کورونا کے نام پر جتنا استحصال مساجد ,ائمہ,علماء اور خطباءکے  ساتھ ہوا شاید ہی کسی اور کے ساتھ ہوا ہو.ایک طرف دشمنان اسلام مساجد و مدارس ڈھانے پر کمر بستہ ہیں لیکن دوسری طرف حقیقی معنوں میں کلمہ گو مسلم ہی اسلام کی عمارت کو گرا رہے ہیں.بعض جہلا تو نماز ادا کرنے والوں پر طنز کرتے ہیں کہ تم یہ غلط کام کیوں کرتے ہو جبکہ تم نمازی ہو.جان لو حلال و حرام,جائز و ناجائز ,کبائر و صغائر ,مستحب و مکروہ ,فرض و واجب اور ثواب و گناہ ہر ایک کے لئے یکساں ہے,نماز پڑھنے والوں سے خطا سرزد ہوسکتی ہے مگر انہیں نشانہ عبرت بنانا ایک شرمناک فعل ہے.بچوں کو طلوع شمس سے پہلے ہی اسکول روانہ کرنے کی تیاری کی جاتی کے لیکن حقیقی علمی مدارس فقراء اور غرباء بچوں سے مزین ہے.تعلیمی اداروں کا حال بھی قابل ماتم ہے کہ سب سے کم تنخواہ عربی اسلامیات پڑھانے والے کی ہوتی ہے.مسئلہ ترجیحات کا ہے.راز تو یہ ہے کہ عربی اسلامیات کو فقط  publicity کے لئے نصاب میں شامل کیا جاتا ہے.صحابہ,علماء کے نام لگوا کر مدارس کا نام رکھنا marketting کا ایک اعلی ہتھیار بن چکا ہے.استاذ کا انتخاب کرتے وقت باضابطہ یہ شرط رکھی جاتی ہے کہ حجاب و پردہ  اتارا جائے…..انا للہ و انا الیہ راجعون.
ہمسفر کا انتخاب کرتے وقت بھی اب پردے کو  barrier بناکے پیش کیا جارہا ہے.ملت کی باپردہ بہنیں جگہ جگہ criticism سے گزر رہی ہیں.واقعی حوروں کو بھی ایسی بہنوں پر رشک آتا ہوگا.سلام ہے ایسے کردار پر.فرمان ربانی ہے کہ “کافروں کے لئے دنیا کی زندگی خوب زینت دار کی گئی ہے,وہ ایمان والوں سے ہنسی مذاق کرتے ہیں حالانکہ پرپیزگار لوگ قیامت کے دن ان سے اعلی ہونگے,اللہ تعالی جسے چاہتا ہے بے حساب روزی دیتا ہے”.(البقرۃ)دوسرے اور قرآنی آیات  اب سیاسی علم کو قابل توجہ بنانے کے لئے استعمال کی جاتی ہیں.سیدنا ابوہریرہ رضی الله عنہ سے نبی کریم علیہ السلام کا یہ فرمان مروی ہے کہ” بے شک الله پاک ہے اور وہ پاک مال ہی کو قبول کرتا ہے، الله رب العزت نے اہل ایمان کو اُسی بات کا حکم دیا ہے کہ جس کا حکم انبیائے کرام کو دیا ہے، چناں چہ اس کا ارشاد ہے : اے رسولو! پاکیزہ چیزیں استعمال کرو اور نیکیوں کو انجام دو۔(دوسری آیت میں اہل ایمان کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے ) اے ایمان والو! ہمارے دیے ہوئے پاکیزہ ررزق کو استعمال کرو۔ پھر آپ نے ایسے شخص کا تذکرہ کیا جو لمبا سفر کرکے آیا ہو، اس کی حالت پراگندہ اوربال بکھرے ہوئے ہوں، وہ ( بڑی الحاح وزاری سے) اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھا کر یا رب یا رب کی صدا لگا رہا ہو ،مگر اس کا کھانا پینا حرام، اس کا لباس حرام اور غذا حرام تو پھر اس کی دعا قبولیت کے درجہ کو کیسے پہنچ پائے گی؟ یعنی اس کے لیے قبولیت کے دروازے بند کردیے جائیں گے۔”(صحیح مسلم) کیا کوئی دعوی کرسکتا ہے کہ اس کا گزارا اکل حلال پر ہوتا ہے ؟ ہرگز نہیں.ابن آدم روحانی امراض میں مبتلا ہے.کثرت معصیت نے قلوب کو ظلمتوں سے بر دیا ہے.ہماری حیات کا ہر شعبہ مثلاً عقائد,عبادات,اخلاقیات,معاملات,معاشیت,
سیاست,تعلقات الغرض حقوق اللہ اور حقوق العباد میں اہل کتاب کی مماثلت اور مشابہت ہمارے دلوں میں رسوخ کرچکی ہے.گنے چنے بندے ان فتنوں سے محفوظ ہیں.
عصر حاضر میں  بعض خطباء حضرات بھی حسد کی بیماری میں مبتلا ہوگئے ہیں.طلب شہرت کی آگ نے ایمانی و روحانی نور کو بجھا دیا ہے.دل میں ظلمتوں کی نحوست ہے.خطباء ایک دوسرے کو پچھاڑنے میں لگے ہوئے ہیں.مرض غیبت نے محبتوں کو جلا کر راکھ بنا دیا ہے.ریاکاری نے حلم و بردباری کی دولت سے محروم کردیا ہے.منافقانہ کردار ہرسو عام ہوچکا ہے.فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ “أكثر منافقي أمتي قُراؤها” .یعنی—–“میری امت کے اکثر منافقین قاری قرآن ہونگے”.ایک دوسرے کی نقل اتارنے میں سبھی لگے ہوئے ہیں.علمی رسوخ سے کنارہ کشی اختیار کرکے ہمارے واعظین یوٹیوب (youtube) کی زینت بنتے ہوئے نظر آرہے ہیں.امر بالمعروف و نہی عن المنکر منبر و محراب تک محدود رہ گیا ہے
خطباء اور مبلغین پر لازم ہے کہ خود میں شوق علم اور ذوق مطالعہ پیدا کریں جیسا کہ امام احمد رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ” علم ایک وہبی چیز ہے جسے اللہ تعالی اپنی مخلوق میں سے اپنے محبوب بندے کو ہی عطا فرماتا ہے.یہ ایک ایسی چیز ہے جسے حسب و نسب کی بنیاد پر حاصل  نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اگر علم حسب و نسب کی بدولت حاصل ہوتا تو تمام لوگوں کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے اہل اس کے زیادہ حق دار ہوتے”.وقت کو ضایع نہ کریں.فضول مجالس اور برے ہمنشین اختیار کرنے سے محفوظ رہیں.اپنی خلوت کو پاک بنائیں.تنہائی کے گناہوں سے اجتناب کریں.اولاً اپنے عقائد و اعمال کی تصحیح کریں.امر و نہی کا فریضہ انجام دیتے وقت پہلے اپنے ذاتی نفس پر شرعی قوانین کو مافض کریں.مناظرہ بازی,مسلک پرستی ,طلب شہرت ,ریاکاری,بغض و عداوت سے پاک رہیں.ملت کے لئے روحانی پیشوا بن کے دکھائیں.نوجوان ملت ارتداد کا راستہ اختیار کررہے ہیں ,ہمدرد بن کر محبت و الفت سے انہیں جہنم کی آگ سے بچالیں.امت و ملت کے لئے درد نبوی پیدا کریں.علماء سے مقابلہ کرنا امر قبیح ہے جس سے دوری اختیار کی جائے.دعوت و اصلاح کا کام احسن طریقے سے انجام دیں.اپنی خودی کا سودا نہ کریں.حق گوئی اور حق پرستی اختیار کرکے رسم شبیری عام کریں.اصول دعوت ,منہج دعوت,شروط دعوت ملحوظ نظر رکھیں.جدید فقہی مسائل میں ٹانگ نہ اڑائیں بلکہ اہل علم کی طرف رجوع کیا جائے.جرح و تعدیل کرنا اہل فن و اصحاب علم و فقہ کا کام ہے ،منبروں پر اس امر سے پرہیز کریں.کسی کی ذاتی زندگی کو موضوع سخن نہ بنائیں.مرثیہ خوانی سے اجتناب کریں.اسلاف کا منہج,اسلاف کا فہم,اسلاف کا ایمان ,اسلاف کے شب و روز,اسلاف کی خلوت و جلوت اپنا مشعل راہ بنائیں.عصر حاضر کے فتنوں سے باخبر رہیں. توحید و سنت,ختم نبوت,عظمت و حجیت حدیث,عظمت صحابہ پر دروس منعقد کریں.اہل علم کی صحبت میں رہ کر فتنوں کا تعاقب کریں.اپنا زیادہ وقت کتب خانے و مجالس علماء میں صرف کریں.اپنے منصب کی لاج رکھیں.نماز تہجد,نماز فجر و عشاء,تلاوت و تدبر قرآن اپنا معمول بنائیں.جہاں اہل علم موجود ہوں وہاں سکوت اختیار کریں.تنقید,تحقیر و تذلیل سے بچا جائے.غیبت و حسد سے اپنے دل کو پاک رکھیں.
اے اہل ایمان! نفاقی روگ اور قلبی خیانت کا شکار ہر خاص و عام ہے.اپنی آنکھوں کو بدنگاہی سے بچالو.اپنے دل کو شیطانی مرکز بننے سے محفوظ رکھو.سلف و صالحین کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کریں جیسے امام ابن سیرین ,امام ابن شہاب ,امام ابن مخلد ,امام احمد بن حنبل,امام عبد اللہ بن مبارک,امام ابن تیمیہ,امام ابن قیم ,امام ابن رجب ,امام ابن حزم وغیرہ رحمہم اللہ تعالی علیہم اجمعین جنہوں نے اپنی عفت و عصمت کی حفاظت کی خاطر عظیم قربانیاں دی ہیں.ملت کی بہنوں,بیٹیوں کا تحافظ یقینی بنائیں.دلوں کی پاکیزگی سنت انبیاء ہے.خادم رسول سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت کی کہ “اے میرے پیارے بیٹے! اگر تجھے اس با ت پر قدرت ہو کہ تیری صبح اور شام اس طرح گزرے کہ تیرے دل میں کسی کے لیے کینہ اور دغا نہ ہو تو ایسا ضرور کرنا۔‘‘ پھر فرمایا: ’’اے میرے پیارے بیٹے !یہ بھی میری سنت میں سے ہے، اور جس نے میری سنت سے محبت کی اس نے در حقیقت مجھ سے محبت کی، اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میری معیت میں ہوگا‘‘۔(جامع ترمذی)
دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابی
افق سے آفتاب ابھرا گیا دور گراں خوابی
میرے غیور دوستو! ہمارے افعال,منکرات,لغویات اور محرمات کی وجہ سے نظام کائنات کا توازن بگڑ چکا ہے.ایک طرف حقوق کی پامالی ہے تو دوسری طرف باطل کی پیروی.کتمان حق اور پرچار ناحق عام ہے.جائز راہ اختیار کرکے حلال کمانا معیوب سمجھا جاتا ہے جبکہ حرام مال جمع کرنا باعث فخر و غرور ہے.انسانت کا خون سرعام بہایا جارہا ہے.مسلمانی رشتہ آنکھوں سے اوجل ہے.جذبہ ایثار زیر خاک دفن ہوچکا ہے.لیکن شرعی تربیت دیکھئے.سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ کو کون نہیں جانتا. یہ ابو جہل کے فرزند تھے.یہ وہی صحابی جلیل ہیں جنہوں نے ایمان لانے سے پہلے سمندری طوفان کی لپیٹ میں آکر اعلان کیا تھا کہ” اللہ کی قسم اگر سمندر میں ایک اللہ کے سوا کوئی نجات نہیں دے سکتا تو خشکی میں بھی اس کے سوا کوئی نجات دہندہ نہیں ہے۔اے اللہ !مجھ پر عہد ہے اگر میں یہاں سے صحیح سلامت نکل گیا تو میں سیدنا محمد ﷺ کے ہاتھ رکھ دوں گا اور میں آپ ﷺ کو ضرور رؤف و رحیم پاؤں گا”.(تفسیر ابن کثیر) ایمان لانے کے بعد ان کی شہادت کا واقعہ  امت کے لئے قابل تقلید و قابل اتباع ہے.غزوہ یرموک (15ھ)  کا درد بھرا منظر کسے یاد نہیں جب سیدنا ابو جہم بن حزیفہ رضی اللہ عنہ زخمیوں کو پانی پلانے کی غرض سے میدان میں آئے.
جب معرکہ یرموک میں مسلمانوں کو عظیم فتح حاصل ہو چکی تو سرزمین یرموک میں تین مجاہد لیٹے ہوئے تھے۔ یہ سب زخموں سے چور تھے اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے سے قاصر تھے۔ ان میں ایک حارث بن ہشام، دوسرے عیاش بن ابی ربیعہ اور تیسرے عکرمہ تھے.تینوں سخت پیاس میں تھے.راوی کا بیان ہے کہ ” اب زندگی کے کچھ لمحے ان کے جسم میں باقی تھے کہ انھیں بہت پیاس لگی۔ انھوں نے ساتھ لیٹے اپنے ساتھی کی طرف دیکھا۔ کسی نے پانی کا پیالہ بڑھایا تھا۔ یہ حارث تھے ۔ انھوں نے پلانے والے کو اشارہ کیا کہ پہلے عکرمہ کو پلائے۔ جب پانی ان کے قریب لایا گیا تو عیاش نے ان کی طرف دیکھا ۔ حارث کی طرح انھوں نے اشارہ کیا کہ پانی پہلے عیاش کو پلایا جائے۔ پانی پلانے والا جب عیاش کے قریب پہنچا تو ان کی روح بدن کا ساتھ چھوڑ چکی تھی۔ وہ جب واپس عکرمہ کے پاس آیا تو وہ بھی اپنے کفارے پر شہادت کی مہر ثبت کر چکے تھے۔ اور جب حارث کے پاس پہنچا تو وہ بھی اللہ کو پیارے ہو چکے تھے.” میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ہی فرمایا تھا کہ ”  مومنوں کی مثال ایک جسم کی مانند ہے اگر اس کے ایک حصہ کوتکلیف پہنچتی ہے تو اس کے تمام اعضاء بے چین ہو اُٹھتے ہیں”.(مسند احمد)
میرے معزز دوستو! کائنات ہم سے مطالبہ کررہی ہے کہ قرون مفضلہ کا کردار پھر سے زندہ ہو.یہ ارض و سماوات روحانی مجدد کی تلاش میں ہے تاکہ پھر سے بنجر زمین پر رحمت کا نزول ہو.ہم پر فرض ہے کہ اسوہ اسلاف اختیار کرکے  ایک نئے دور کا آغاز کریں جہاں امن و سکون ہو,راحت و قرار ہو……………………….ان شاء اللہ
یہ چاند آسماں کا شاعر کا دل ہے گویا
واں چاندنی ہے جو کچھ یاں درد کی کسک ہے
انداز گفتگو نے دھوکے دیے ہیں ورنہ
نغمہ ہے بوئے بلبل بو پھول کی چہک ہے