شمس الرحمن فاروقی :اردو تنقید کا اہم ستون گر گیا. مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی.

90

پٹنہ 25 دسمبر(عبد الرحیم برہولیا وی )شمس الرحمن فاروقی (ولادت:15 جنوری1935) اردو ادب
و تنقید کے اہم ستون تھے.انہوں نے ادب میں جدیدیت کے فروع اور اس کو مقبول بنانے کے لیے بے انتہا جدو جہد کی غیر تدریسی مشغولیت کے باوجود انہوں نے لغت، تحقیق، داستان، تنقیداور افسانے کے حوالے سے جو خدمات انجام دیں وہ وقیع بھی ہیں اور وسیع بھی. انہوں نے اپنے خیالات ادبی دنیا تک پہونچا نے اور نئ نسل کی جدیدیت والی ادبی تحریر وں کو وقار، اعتباراور اعتماد بخشنے کے لیے الہ آباد سے شب خون کےنام سے ادبی رسالہ نکالا اور کئ نسل کو جدید یت کی تر بیت دینے کا کام کیا انکی بعض تحریر وں کو حقیقتاً اردو ادب میں شب خون مارنا سمجھا جاتا ہے اسکے باوجود اسکی اہمیت و افا دیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا. واقعہ یہ ہے کہ انکے انتقال سے اردو ادب و تنقید کا ایک اہم ستون گر گیا. ان خیالات کا اظہار مشہور ادیب، ناقد، تبصرہ نگار مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ نے ایک تعزیتی بیان میں کیا ہے. انہوں نے کہا کہ داستان نگاری کو انہوں نے نیا رنگ و آہنگ بخشا. انکے علامتی افسانے مختلف ناموں سے شب خون میں شایع ہوتے رہے. ان علا متی افسا نوں کے قاری کا حلقہ وسیع تو نہ ہو سکا کیونکہ اس کے معانی ومطالب تک رسائی عام قاری کی نہیں ہو پارہی تھی لیکن ایک طرح اس نے ضرور ڈالی.اسی طرح انہوں نے شبخون کے ٹائٹل پر تجریدی آرٹ کے نمونے شایع کرکے اسے بھی مقبول عام بنانے کا کام کیاہفت روزہ نقیب کے اڈیٹر مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی نے شمس الرحمن فاروقی کے 25دسمبر2020کو گیارہ بجے دن الہ آباد میں انکےانتقال پر گہرے صدمہ کا اظہار کرتے ہوئے انکی مغفرت اور پس ماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا فرمائی