شایان خان بنا حافظ قرآن

65

شایان خان بنا حافظ قرآن
ہمت مرداں مددخدا،فارسی زبان کا یہ محاورہ سبھی کے نوک زبان پر ہے،مگر اس کی توفیق اسی کو نصیب ہے جو اسے عمل میں لے آتے ہیں،اسی کی مثال شایان خان نے پیش کی ہے،شہر ارریہ کے ملت نگر میں واقع معہد ترتیل القران کا یہ ایک طالب علم ہے،لاک ڈاون کی وجہ کر ہاسٹل بند ہوا باوجود اس کے انہوں قرآن حفظ کرنے کا عمل جاری رکھا ہے،اور اپنے تعلیمی سلسلہ کو منقطع نہیں ہونے دیا ہے،کوروناوائرس کولیکرمدارس اور تعلیمی ادارے بند ہوئے،سبھی طلبہ اپنے گھروں کوچلے گئے،مگریہ باہمت طالب علم اپنی جگہ ڈٹا رہا ہے، اور عزم واستقلال کا پہاڑ بنکر استقامت کا ثبوت بھی پیش کردیا ہے،مدرسہ اورہاسٹل کا بند ہوجانا اس کے لئے کچھ بھی مانع نہیں ہے،کرایہ پر کمرہ لیکر اپنی تعلیمی سفر کوجاری رکھاہے، اور آج اپنے استاد جناب قاری ساجد صاحب کواپنا حفظ قرآن کا آخری سبق سنارہا ہے، مگر وہ آج تنہا نہیں ہے ،بلکہ ایک بڑا مجمع بھی اس کے اردگردموجود ہے،جوحافظ شایان خان کے آخری سبق کا گواہ بننے جا رہا ہے،سامنے استاد ہیں،اور استاد کے سامنے اس خوش نصیب حافظ قرآن کا پورا خاندان بھی ہے،ڈیڑھ سوکلومیٹر کی مسافت طے کرکے ان کے دادیہال والے آئے ہیں ،ضلع پورنیہ سے اس کے نانیہال والے آئے ہیں ،بھاگلپورسے ان کے چچاتشریف لائے ہیں، دور ودراز سے لمبی مسافت طے کرکے ان کے دیگررشتہ دار بھی آئے ہیں،اس تاریخی سبق میں استاد گرامی قدر کے سامنے سبھی زانوئے تلمذ تہ کئے ہوئے ہیں ،والد بھی ہیں اور خالو بھی ہیں،چچا بھی ہیں اور بھائی بھی ہیں،نانا جان ہیں اور ماموں بھی ہیں،دادا جان ہیں اور دیگر رشتہ دار بھی موجود ہیں،پردے سے دادی نانی ودیگر مستورات بھی ہیں،سبھی اس مبارک موقع پر اپنی شمولیت کوضروری سمجھ رہےہیں،علماء کرام کی ایک تعدادبھی یہاں موجود ہے،،سبق مکمل ہوا ہے،ادھر مبارکبادیوں کا سلسلہ شروع ہے،اور قیمتی تاثرات علماء کرام کی طرف سے آرہے ہیں،تمہیدی گفتگو میں بڑی کام کی باتیں مولانا حسان جامی نے کہی ہے،اصل حافظ قرآن خود رحمان ہے جس کا یہ کلام ہے،قرآن میں لکھا ہے کہ حافظ ہم ہیں ،اس کتاب کو ہم نے نازل کیا ہے اور اس کی حفاظت بھی ہم کرتے ہیں،خدا قرآن میں کہتا ہے کہ اس کے قاری بھی ہم ہیں اس کو پڑھ کر ہم سناتے ہیں،اس کے تالی بھی ہم ہیں ، اس کی تلاوت کرتے ہیں،قرآن پڑھنے والوں پر اس معنی میں خدا کا یہ بڑا احسان ہے کہ وہ جب قرآن یاد کر لیتا ہے تو حافظ قرآن ہے،جب اس کو پڑھتا ہے تو قاری ہے،تلاوت کرتا ہے تو تالی کہلاتا ہے۔مفتی انتخاب صاحب وجناب قاری نیاز احمد صاحب قاسمی نے کہا کہ اس طرح کا موقع میری آنکھوں نے آج پہلی باردیکھا ہے جسمیں علماء کرام کے ساتھ حافظ قرآن کا پورا خاندان جس کا گواہ بن رہا ہے،میری دعا ہے کہ اس کے قرآن کی قدر سبھی کریں گے،اور سب سے زیادہ اکرام یہی ہوسکتا ہے کہ اپنے گھر کے ماحول کو دینی سانچے میں ڈھال لیں،گھر میں اگر غیر اسلامی ماحول ہے اور یہ حافظ قرآن بھی ہیں، تو اس کا مطلب صاف ہے کہ ہم نے ان کا اکرام نہیں کیا ہے،معہد ترتیل القران کے ناظم وبانی عالم ربانی جناب مولانا طارق بن ثاقب صاحب نے بے شمار دعائیں موصوف کو دی ہے،مستقبل میں اس حافظ قرآن سے ڈھیر ساری نیک تمنائیں وابستہ کی ہے،
یہ درس میری ناقص نگاہ میں شہر ارریہ کے لئے بالخصوص تاریخی درس بن گیاہے،اور سب سے بڑی تاریخ اس نوعمر حافظ قرآن شایان خان نے رقم کی ہے،ان کو مبارکباد ہے،قرآن کریم کی تکریم کا ان کے خاندان والوں کو بھی بڑا پاس ولحاظ ہے،ان کو بھی مبارکباد ہے،اساتذہ معہد ترتیل القران بالخصوص قاری ساجد صاحب نے اپنا قیمتی وقت اس طالب علم کو دیا ہے،انہیں بھی مبارکباد ہے۔
راقم الحروف،
ہمایوں اقبال ندوی ارریہ
رابطہ،9973722710