سیکولرزم کا جنازہ نکالنے والی پارٹیاں جے ڈیو راجد کانگریس بی جے پی اور مسلمانوں کا استحصال. مولانا ارشد ندوی

42

دربھنگہ25ستمبر(ممتازاحمدحذیفہ) پآج ہمارا دیش بھارت جو دنیا کا سب سے بڑا کامیاب اور ممتاز جمہوری نظام حکومت کا نمونہ ہے دستوری اعتبار سے جسکے دستور اور اصول کو دنیا کا سب سے ممتاز دستور مانا گیا ہے وہ اس لئے کہ ہمارے دستور کی بنیاد مذہب کے اصول پر نہیں بلکہ سیکولرزم کے اصول پر رکھی گئی ہے.واضح رہیکہ جب کانسٹی ٹیوشن کے آ رٹیکل کو لکھا جا رہا تھا تو اسکی شروعات کسی مذہبی جملہ یا مذہبی رسم و رواج کے ذریعے نہیں کی گئی بلکہ سیکولرزم کو سامنے رکھتے اسکی شروعات ہوئ تاکہ مذہبی تشدد یا آئندہ کسی ایک مذہب کی بالا دستی کی بات نہیں ہو اسی لئے نہ اللہ کا نام لیا گیا نہ ایشور نہ لارڈ نہ بھگوان کا نام بلکہ آ رٹیکل کی بنیاد بھی۔سیکولرزم پر ہی رکھی گئی اور 35پینتیس ایسے بنیادی حقوق طے کئے گئے کہ اگر حکومت کرنے والے کتنے بھی ظالم ہوں وہ ایک رکشہ چلانے والے کے حق نہیں چھین سکتا اور نہ ہی اسکی مذہبی آزادی کو ختم کر سکتا ہے اور ڈاکٹر امبیڈکر نے کہا کہ ہر ایک ووٹر برابر ہے ان بنیادی حقوق میں سے کچھ یہ ہیں کہ مذہبی آزادی. تعلیمی اداروں کو قائم کرنے کی آزادی. مذہبی افکار کا اظہار. مذہبی تنظیموں تبلیغ کی آزادی. مذہبی تقریر و تحریر کی آزادی. تمام ہندوستانی کو برابر کی حصہ داری. تمام انسان کے ساتھ برابری کے ساتھ انصاف حاصل کرنے کی آزادی. اپنی۔عبادت گاہوں کو بناے جانے کی آزادی وغیرہ یہ وہ حقوق ہیں جنکا تعلق اس وطن عزیز کے کانسٹی ٹیوشن کے بنیادی حقوق کے آرٹیکلس سے ہےمگر آج کیا ہو رہا ہے کہا حکومت کرنے والے ان حقوق کا تحفظ کر رہے ہیں مذکورہ باتیں ملک جید عالم دین اور مجلس گوڑا بورام۔سے امیدوار مولانا ارشد ندوی نے تمام سیاسی۔جماعتوں کو آ ئنہ دکھاتے ہوئے مسلمانوں اور دلتون کمزوروں سے سے اپیل کی ہیکہ آپ سیکولرزم کا دعوہ کرنے والی اور جھوٹ بولنے والی پارٹیوں کےبہکاوے نہ آ کر مجلس کو کامیاب کریں مولانا نے مزید کہا ہمیں بتائے کہ کون پارٹی اس وقت پورے دیش میں سیکولر ہے اور دستور ہند کی روشنی میں سیاست کرتی ہے بلکل نہیں آپ کانگریس کو دیکھیں تو وہ برہمن واد پارٹی رہی ہے اور مسلم دشمن خفیہ طور پر اور برادری کی بنیاد پر ہی سرکار میں رہی ہے اسکے بعد بھارتی جنتا پارٹی اب یہ سرکار چلانے والے برہمن واد بھی ہیں اور ہندوزم کی برادری کی بنیاد پر سرکار میں ہے اور ہندو مسلم فسادات کے نتیجہ میں یہ کامیاب ہیں اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی کی سرکار پندرہ سال رہی یادو برادری کی بنیاد پر اور مسلمانوں نے مدد کی چونکہ مسلم نیتاوؤں نے کہا بہوجن سماجوادی پارٹی کاشی رام جی کی کامیاب ہوئ سرکار بھی بنائ دلت برادری کی بنیاد پر جسکی تعداد مسلمانوں سے بہت کم ہے اسی طرح بہار میں کانگریس رہی برہمن واد کی بنیاد پر اسکے بعد راجد نے پندرہ سال سرکار یادو برادری کی بنیاد پر چلایا اور مسلمانوں نے ساتھ دیا اسکے بعد جے ڈی یو پندرہ سال سے سرکار میں ہے کرمی برادری کی بنیاد پر اور مسلمان ساتھ دے رہے ہیں اب آ پ دیکھیں مذکورہ تمام پارٹیوں کی طاقت سیکولرزم ہے یا برادری مسلمانوں آپ فیصلہ کیجئے اب آئے ہم اپنا جائزہ لیں کہ جب ہندوستان میں تمام پارٹیوں نے برادریوں کی بنیاد پر سرکار بنایا ہے اور دلت نے بھی تو کیا اس دیش کی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کو کس نے روکا ہے وہ اپنی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال نہ کرے اور اپنی سیاسی طاقت کا استعمال نہ کرے اس لئے اس فکر سے ہم نکلیں کہ مجلس اتحاد المسلمین کو ساتھ دینگے تو کمیونلزم کو فروغ ہوگا سب پارٹی کمیونلزم کی بنیاد پر سیاست کرتی ہے آج وقت اچکا ہے اب کہ اپنی قیادت کو تلاش کیجئے اور آبادی کے اعتبار سے حصہ لیجیے کیونکہ کوی پارٹی سیکولر نہیں ہے ہر پارٹی کی مجبوری ہے سکتہ کرسی اگر یہ پارٹیاں سیکولر ہوتیں تو اسی بہار کے مگدھ کمشنری کے چھبیس 26مسلم سیٹوں پر مسلم کو ٹکٹ دیتیں پچھلے دس سالوں میں راجد نے ایک بھی ٹکٹ مگدھ کمشنری کے چھبیس مسلم سیٹوں میں سے کسی ایک مسلم کو نہیں دیا ہے۔لہاذا آئے اور اب برابری کی بات ہوگی پارٹی پارٹی سے کریگی اب کام فقیرون کا سا نہیں ہوگا بلکہ اپنے حقوق لئے جائینگے یہ وقت کا تقاضہ ہے حالات کا مطالبہ ہے اور مجلس اتحاد المسلمین کے صدر محترم انقلاب ہندوستان اویسی صاحب کی کوشش ہے اور میری صدا ہے. بس ہم کو ڈرنا نہیں چاہیے کیونکہ ہم زندہ قوم ہیں ہم پوری دُنیا قیادت کے امین ہیں اور مستحق بھی کاش ہم بیدار ہوں .