سیوابھارتی اور مسلم لڑکیاں ارتدادکے دہانے پر

36

سنگھی برہمن ہمیشہ دو مونہا سانپ کی طرح معاملات کرتے ہیں، یہ دشمن پر اسی عنوان اور ٹائٹل سے زبانی حملہ کرتے ہیں، جو کام یہ خود کرتے ہیں۔ آج کل بڑے زور و شور سے “لو جہاد” کا شوشہ انھوں نے اٹھا رکھا ہے، جب کہ اس جرم کے مرتکب خود یہی لوگ ہیں۔

اس ہو ہلا کے پیچھے درحقیقت لومہابھارت (ایشیاء کے ایک حصے میں مسلسل خون خرابہ) کا منصوبہ کام کررہا ہے۔

اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایس سی، ایس ٹی، او بی سی کے لڑکوں کو تربیت دے کر مسلم لڑکیوں کے پیچھے لگایا جاتا ہے۔کہ وہ مسلم لڑکیوں کو ورغلائیں اور ان سے شادی کرنے کا ناٹک کریں، ان لڑکوں کو پیسہ، موٹر سائیکل، اور دیگر سہولیات دی جاتی ہیں۔

اس کے لیے دو جگہیں خاص طور سے استعمال کیے جاتے ہیں: ٹیوشن سینٹر اور بیوٹی پارلر.

یہ دو جگہیں مسلم لڑکیوں کو بہکانے کے لیے اہم ہوتے ہیں، ٹیوشن سینیٹرس پرجو اتالیق یا ٹیچرس ہوتے ہیں، وہ منووادی زہر سے بھرے ہوتے ہیں، یا روپیہ پیسہ کی لالچ میں سیوابھارتی جیسی فتنہ پرور تنظیم سے جڑے ہوتے ہیں۔ مسلم لڑکیوں کو گمراہ کرنے کے لیے بیوٹی پالرس مسلم لڑکیوں کی ذہن سازی کرتی ہیں۔ انھیں مختلف طرح کی لالچیں دی جاتی ہیں۔ انھیں عیاشی اور مستی کا سبز باغ دکھا کر گمراہ کر دیا جاتا ہے۔

اسی طرح ٹیو شن سینٹرس پر میل فیمیل اسٹوڈینٹس کی مخلوط کلاسیں لگائی جاتی ہیں۔ خاص طور پر بالغ لڑکیوں کو لبھانے کے لیے لڑکوں کے ساتھ بیٹھایا جاتا ہے۔ سنگھی ٹیچر کلاس میں تاخیر سے آتا ہے تا کہ سنگھی لڑکے مسلم لڑکیوں سے مراسم قائم کرسکیں، اور اسی مقصد سے کلاس سے قبل از وقت وہ نکل بھی جاتا ہے۔ اس طرح ہائی ہللو کا موقع دینے کے بعد جب کوئی لڑکی دوسرے لڑکے کے ساتھ چلی جاتی ہے تو پھر “سیوا بھارتی” کے ممبران کو اس لڑکے کی مدد کے لیے لگایا جاتا ہے، جوان مفرور جوڑوں کے رہنے وکھانے کا انتظام کرتے اور ان کی قانونی مدد کرتے ہیں۔

جب شادی کی یہ نوٹنکی پوری ہوجاتی ہے، تب “سیوا بھارتی” اور دوسری اسلام مخالف تنظیموں کے ارکان ان مفرور مسلم لڑکیوں کو اپنے ممبران کے ساتھ ہمبستری کے لیے مجبور کرتے ہیں۔ ایک ایک لڑکی کو کئی کئی غنڈے زنا بالجبر کرتے ہیں۔ اور لاوارث بنا کر چھوڑ دیتے ہیں؛ نتیجتاً ان کا مستقبل خودکشی ہوتا ہے یا پھر آخری کام جسم فروشی بن جاتا ہے۔

جب تک یہ مفرور لڑکیاں ان ساری باتوں کو سمجھ پاتی ہیں اس وقت تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ برہمن وادی یہ چاہتے کہ اس مہابھارت میں مسلمانوں کو دلتوں کے مقام پر لایا جائے۔ اسی لیے مسلم بچیوں کو نیچی ذات کے لڑکوں کے ساتھ بھگایا جاتا ہے۔ آپ نے کبھی نہیں دیکھا ہوگا کہ کوئی برہمن یاراجپوت لڑکا مسلم لڑکی کو بھگا کر لے گیا ہو۔ وجہ اس کی یہی ہے کہ اس تماشہ وسازش کے ذریعہ منووادی مسلمانوں کو ذلیل اور رسوا کرنا چاہتے ہیں، تاکہ او بی سی، ایس سی، ایس ٹی کی طرح مسلمان ذلیل ہوکر ان کی غلامی قبول کرلیں۔

یہ خطرناک منووادی سازش ہے جس روز بروز بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے۔ اس منووادی سازش کو ناکام بنانے کی فکر کرنا ہر مسلمان کی دینی وملی ذمہ داری ہے۔

مختلف تدبیروں میں درج ذیل کام بھی مفید ہو سکتے ہیں۔

1).مسلمان اپنے محلوں میں اپنے کوچنگ سینٹرس قائم کریں اور مسلم لڑکیوں کو وہاں تعلیم دیا جائے۔

2).لڑکیوں اور عورتوں کے لیے ضروری سامان مثلا کاسمیٹکس، بیوٹی پارلر کے سامانوں کی دکانیں اپنے محلوں میں کھولیں، خانگی خواتیں کے ذریعہ اس قسم کی دوکانیں بڑی آسانی سے چلائی جا سکتی ہیں۔

3).علماء کرام اپنا دینی وملی فریضہ سمجھ کر غیر مسلموں کے ساتھ فرار ہونے والی لڑکیوں کے برے انجام سے ملت کو باخبر کریں۔ ملت کی بیٹیوں کو فتنوں سے بچانے کے لیے فکر کریں اور عملی بیداری پیدا کریں۔

خاص طور سے اسکول وکالج میں پڑھنے والی بچیوں کی دینی کونسلنگ کی بھر پور کوششیں کریں۔

4).جو بچیاں فتنوں میں مبتلاء ہوچکی ہیں، انھیں فتنوں سے نکالنے کی بہتر تدبیریں کی جائیں۔ اور ان کو فوری طور پر اس دلدل سے نکالا جائے۔

5).مسلم لڑکوں کی بھی اچھی تعلیم و تربیت کی جائے؛ تا کہ اسکول و کالج میں وہ بھی گمراہ نہ ہوں اور جو مسلم لڑکیاں شکار بنائی جاتی ہیں، ان کی حفاظت کر سکیں اور رشتے کے جھانسے میں آکر اپنے متاعِ ایمان کا سودا کرنے والیوں کو بچایا جا سکے۔

6).لڑکیوں کے بالغ ہونے کے بعد جلد از جلد ان کانکاح پڑھا کر دیا جائے، یا کم ازکم ان کی سگائی کردی جائے؛ تاکہ انھیں ذہنی یکسوئی حاصل ہوجائے اور وہ ارتدادی فتنے سے محفوظ رہ سکیں۔

یہ اس وقت کا سب حساس اور خطرناک مسئلہ ہے۔ اس پر غور کرنے اور کام کرنے کی ضرورت ہے۔ علماء، ائمہ اور ذمے داران اس پہلو پر فوراً عمل شروع کریں۔

القلم : ابن محمد، محمد پوری