ہومبریکنگ نیوزسی،ایم،بی،کالج،گھو گھر ڈیہا میں للت نارائن مشر کو خراج عقیدت پیش کیا...

سی،ایم،بی،کالج،گھو گھر ڈیہا میں للت نارائن مشر کو خراج عقیدت پیش کیا گیا

سی،ایم،بی،کالج،گھو گھر ڈیہا میں للت نارائن مشر کو خراج عقیدت پیش کیا گیا
،
متھلا کے عظیم سپوت جناب للت نارائن مشر جی کو ان کے یوم وفات کے موقع پر این،ایس،ایس،اکائی سی ایم،بی،کالج،ڈیوڑھی گھو گھر ڈیہا، مدھوبنی میں بڑی عقیدت ومحبت سے ان کی تصویر پر کالج کے جملہ تدریسی وغیر تدریسی ملازمین نے گل پوشی کی اس کے بعدموجود طلباء وطالبات سے این، ایس،ایس کے پروگرام افیسر ڈاکٹرعبدالودودقاسمی اور ڈاکٹر کرتن ساہو پرنسپل کالج نے تفصیل سے للت بابو کی سیاسی ،سماجی اور تعلیمی خدمات کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ”للت نارائن مشر” کی پیدائش 02 فروری 1923 کو سپول ضلع کے باسوپتی گاؤں (بلوا) میں ہوئی۔ طالب علمی کے زمانہ میں ہی سیاست میں آگئے، انہوں نے 1945-48 میں پٹنہ یونیورسٹی سے معاشیات میں ایم اے کیا اور 1950 میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے رکن بن گئے۔ 1972 میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن چن لئے گئے ،اپنے سیاسی کیرئیر کے دوران انہوں نے پارلیمانی سکریٹری، منسٹری آف پلاننگ، لیبر اینڈ ایمپلائمنٹ (1957-1960) وغیرہ کے طور پر کام کیا اور 1973 سے 1975 تک ہندوستان کے وزیر ریلوے کے طور پر خدمات انجام دیں۔ غیر ملکی تجارت کے وزیر کے طور پر، نیپال بھارت کے درمیان سیلاب کنٹرول اور کوسی اسکیم میں مغربی نہر کی تعمیر کے معاہدے پر دستخط کیے ۔ انہوں نے ملک اور بیرون ملک متھلا پینٹنگ (مدھوبنی پینٹنگ) کی ساکھ کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ بطور ریلوے وزیر متھلانچل میں 36 ریل پروجیکٹوں کے سروے کی منظوری دی، جھنجھار پور-لوکہا ریلوے لائن بھپٹیاہی سے فاربس گنج ریلوے لائن وغیرہ۔ اپنی مادری زبان میتھلی کے فروغ کے موصوف تا عمر کوشاں رہے ۔ 3 جنوری 1975 کو سمستی پور بم دھماکے میں ان کی موت ہوگئی۔ ایشور ان کی ا تمام کو شانتی دے۔خراج عقیدت پیش کرنے والوں میں ڈاکٹر کیپٹن ساہو،ڈاکٹر اجے کمار،ڈاکٹر پریم سندر،ڈاکٹر ہری شنکر رائے،ڈاکٹر محمد نوشاد انصاری،ڈاکٹر جیتیندر کمار،ڈاکٹر سجیت کمار،ڈاکٹر بریندر کمار،ڈاکٹر بھاگوت منڈل،ڈاکٹر اوپیندر کمار راوت،ڈاکٹر آلو ک کمار،ڈاکٹر رتن کماری جھا،دلیپ کمار،سچیدانند،ودیانندمنڈل، کے نام شامل ہیں۔

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے