سڑک پر نصب بم دھماکے میں تین ڈاکٹر اور ڈرائیور ہلاک

60

3fa90e01 bca4 45d5 8635 416e22135010 w800 h450

افغانستان کے دارلحکومت کابل کے جنوبی حصے میں منگل کو ہونے والے ایک بم دھماکے میں تین ڈاکٹر اور ان کا ڈرائیور ہلاک ہو گئے۔

تینوں ڈاکٹر منگل کی صبح افغانستان کی سب سے بڑی جیل میں کام کرنے کے لیے جا رہے تھے کہ وہ سڑک کے کنارے بچھائی گئی باردوی سرنگ کے دھماکے کا نشانہ بن گئے۔ یہ واقعہ صبح ساڑھے سات بجے کے قریب پیش آیا۔

پل چرخی جیل کے حکام نے ایک بیان میں انسانی زندگیوں کے اس نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ خبر انتہائی افسوس ناک ہے اور اس دھماکے میں جیل کے شعبہ صحت کی قائم مقام ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر نزیفہ ابراہیمی، ہلاک ہونے والے ڈاکٹروں میں شامل تھیں۔

خاندانی ذرائع نے بتایا ہے اس دھماکے میں ہلاک ہونے والے ڈاکٹر عبدالمتین، ڈاکٹر نریفہ ابراہیمی کے شوہر تھے۔

اس حملے میں ہلاک ہونے والی ایک اور خاتون ڈاکٹر ایک مقامی اسپتال میں فرائض انجام دے رہی تھیں، جسے کووڈ نائنٹین کے علاج کے مرکز کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔

افغان وزارت صحت کے ڈپٹی ترجمان نوراللہ ترکئی نے بتایا کہ بارودی سرنگ کے دھماکے میں کئی راہ گیر بھی زخمی ہوئے۔

امریکہ کے قائم مقام سفیر راس ولسن نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جیل کے ڈاکٹروں کی ہلاکت ایک انتہائی دردناک بات ہے، کیونکہ یہ ڈاکٹر دن رات کام کر کے ان لوگوں کی جانیں بچانے کا فریضہ انجام دیتے ہیں، جن کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ اور اس واقعہ کا کرونا کی عالمی وبا کے دوران ہونا بہت المناک ہے کیونکہ اس وقت ڈاکٹروں کی شدید ضرورت ہے۔

ابھی تک کسی بھی گروہ نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، جو کہ ملک میں ہونے والے کئی ایسے واقعات میں سے ایک ہے۔