ہوممضامین ومقالاتسونے سے پہلے بستر جھاڑنے کی سنت

سونے سے پہلے بستر جھاڑنے کی سنت

سونے کے آداب اور سنتوں میں سے ایک ادب اور سنت یہ بھی ہے کہ جب کوئی شخص سونے کے لیے بستر پر آئے تو سونے سے پہلے بسم اللہ پڑھ کر کسی چادر وغیرہ کے ذریعے اپنے بستر کو جھاڑ دے تاکہ اگر کوئی موذی جاندار اور کیڑے مکوڑے موجود ہوں تو وہ دور ہوجائیں اور ان کے نقصان اور شر سے حفاظت ہوسکے۔ کیوں کہ جو بستر مسلسل بچھا رہتا ہو یا جو سونے سے کچھ وقت پہلے بچھا دیا گیا ہو تو اس کے بارے میں یہ امکان ہوتا ہے کہ کوئی موذی جاندار اور کیڑے مکوڑے اس میں آگئے ہوں یا کوئی گندگی وغیرہ اس میں آگری ہو یا لگ گئی ہو تو ایسی صورت میں بستر جھاڑنے سے ان چیزوں سے حفاظت ہوجاتی ہے۔
▪️ جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’جب تم میں سے کوئی شخص بستر پر جائے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنے چادر کے اندرونی حصے سے بستر کو جھاڑ دے اور اللہ تعالیٰ کا نام لے کیوں کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کی غیر موجودگی میں کونسی چیز اس کے بستر پر آئی ہوگی۔‘‘
☀️ صحيح مسلم:
7067- حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِىُّ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ: حَدَّثَنِى سَعِيدُ بْنُ أَبِى سَعِيدٍ الْمَقْبُرِىُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ: «إِذَا أَوَى أَحَدُكُمْ إِلَى فِرَاشِهِ فَلْيَأْخُذْ دَاخِلَةَ إِزَارِهِ فَلْيَنْفُضْ بِهَا فِرَاشَهُ وَلْيُسَمِّ اللهَ فَإِنَّهُ لَا يَعْلَمُ مَا خَلَفَهُ بَعْدَهُ عَلَى فِرَاشِهِ. (باب مَا يَقُولُ عِنْدَ النَّوْمِ وَأَخْذِ الْمَضْجَعِ)
☀️ عمدة القاري شرح صحيح البخاري:
قوله: «إذا أوى» بقصر الهمزة، معناه: إذا أتى إلى فراشه لينام عليه. قوله: «بداخلة إزاره» المراد بالداخلة طرف الإزار الذي يلي الجسد، وسيأتي عن مالك: بصنفة ثوبه بفتح الصاد المهملة وكسر النون بعدها فاء وهي الحاشية التي تلي الجلد، وفي رواية مسلم عن عبيد الله بن عمر: «فليحل داخلة إزاره فلينفض بها فراشه»، وفي رواية يحيى القطان كما سيأتي: «فلينزع». وقال البيضاوي: إنما أمر بالنفض بالداخلة؛ لأن الذي يريد النوم يحل بيمينه خارج الإزار ويبقى الداخلة معلقة فينفض بها. قوله: «ما خلفه عليه» بفتح الخاء المعجمة وفتح اللام بلفظ الماضي، ومعناه: أنه يستحب أن ينفض فراشه قبل أن يدخل فيه لئلا يكون قد دخل فيه حية أو عقرب أو غيرهما من المؤذيات وهو لا يشعر، ولينفض ويده مستورة بطرف إزاره لئلا يحصل في يده مكروه إن كان شيء هناك. وقال الطيبي: معنى «ما خلفه»: لا يدري ما وقع في فراشه بعدما خرج منه من تراب أو قذارة أو هوام. (كتاب الدعوات)

✍️۔۔۔ محمد اشرف اقبال یکہتوی ضلع مدھوبنی بہار

کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے