جمعرات, 6, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتسوشل میڈیا اور اسلام

سوشل میڈیا اور اسلام

امانت علی قاسمی
استاذ ومفتی دارلعلوم وقف دیوبند
اسلام ایک عالمی و آفاقی دین ہے جس میںزندگی کے ہر نیے چیلنجوںکو قبول کرنے کی بھر پور صلاحیت ہے۔اسلام کی بنیادی ذمہ داریوںمیںتبلیغ ہے۔ حدیث میں ہے بلغوا عنی ولو آیۃ آج کا دور انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا دور ہے۔ اس وقت اسلام دشمن طاقتیں،اسلام مخالف پروپیگنڈوں کے لیے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا بھر پور استعمال کررہی ہیں،مسلمانوںکا ایک بڑا طبقہ بھی انٹرنیٹ سے جڑا ہوا ہے اور اپنی دینی معلومات کے لیے گوگل اور یوٹیوب کو امہات الکتب شمار کررہا ہے اوراس پر موجود مواد کو ہی صحیح دین کا مصدر و مرجع سمجھ رہاہے،مستشرقین اور یہودیوںکے گہرے تعلقات انٹرنیٹ، بلاگس اور سوشل میڈیا سے شروع ہی سے رہے ہیں۔ اس کے ذریعہ وہ اسلام و مسلمانوں کے خلاف پوری دنیا میں طرح طرح کی افواہیں، پروپیگنڈے پھیلاتے ہیں اور تعلیمات اسلامی کو توڑ مروڑ کر پیش کر تے ہیں۔ ا س کا استعمال اپنے مفادات کے لیے کرتے ہیں اوراور اس دائرہ کار میں اضافہ کے لیے کثرت سے لوگوں کو جوڑتے ہیں۔ ا س کے برے نتائج ا س وقت بر آمد ہوتے ہیں جب نسل نو کے معصوم صارفین اسلام سے متعلق کچھ جاننا چاہتے ہیں تو یہو دیوں و مستشرقین کے سلجھے اور لچھے دار اسلوب و اندازسے متاثر ہو جاتے ہیں اور اسی کو حقیقی اسلام تصور کرنے لگتے ہیں اوراپنی زندگی کو انہی کے بتائے ہوئے اصول کے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔ ان کا معصوم ذہن اس چیز کا ادراک کرنے سے قاصر رہتا ہے کہ حاصل شدہ مواد و مضامین اورافکارو خیالات خام اور تعلیمات اسلامی کے بالکل منافی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نسل نو کے نوخیز نوجوانان فکری و عقلی انحراف کے زیادہ شکار ہیں اور ان کے ذریعہ سے وہ ان جماعتوں میں بھی اپنی گٹھ جوڑ کرلیتے ہیں جن کی دین اسلام سخت نکیر کر تا ہے۔یہودیوں اور دیگر اسلام دشمن طاقتوں کے ساتھ اس میدان میں قادیانی بھی بہت آگے ہیں انہوں نے اسلامی نام سے بہت سے ویب سائٹ بنائے ہیںجس کے بارے میں عام مسلمانوںکاخیال یہ ہوتا ہے کہ یہ اسلامی سائٹس ہیں جن سے استفادہ کرنا چاہیے جب کہ حقیقت میںوہ گمراہی کا مخزن اور تحریفات کی آماجگاہ ہوتے ہیںجن سے استفادہ کرکے یا متاثر ہوکر ہمارے بہت سے سادہ لوح مسلمان اسلامی عقائد و تعلیمات سے بہت دور ہوجاتے ہیںاور بسا اوقات اپنے ایمانی جسم پر کفر کا لباس زیب تن کر لیتے ہیںاس سے واقف ہونا اور عام مسلمانوںکے ایمان کی حفاظت کی فکرو کوشش کرنا یہ ہمارا ایمانی فریضہ اور شرعی ذمہ داری ہے۔
بہت مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ ہم تحریری طورپر اسلامی تعلیمات کو پیش کرتے ہیںاور ہر طرح کا مسکت جواب دیتے ہیںجب کہ آج لوگ پڑھنے سے بیزار ہوکر موبائل اور انٹرنیٹ پر آگیے ہیں، وڈیو دیکھ کر اطمنان کرلیتے ہیں؛بلکہ وڈیو پروگرام کی لَت ان پر اس قدر مسلط ہوگئی ہے کہ وہ ہر مرض کا علاج یوٹیوب کے میڈیکل میںتلاش کرتے ہیںاور ہر درد کی دوا گوگل کے سرچ ہاسپیٹل میں دھونڈتے ہیں،کتابوں سے بیزاری کے ساتھ یہ نشہ اس قدر حاوی ہوگیا ہے کہ وہ انٹرنیٹ کی دنیا کو ہی اپنا مے خانہ،گوگل کو جام و سبو اور یوٹیوب کو ساغرو میناتصور کیے ہوئے ہیں ،یوٹیوب کے اس قدر عادی ہوچکے ہیںکہ بغیر یوٹیوب پر کچھ دیکھے ان کو نیند نہیںآتی ہے گویا کہ یوٹیوب موجودہ نسل کی نیند کی گولی ہے جسے سونے سے قبل وہ ضرور لیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہماری تحریریںجو صحیح اسلام کی نمائندگی کررہی ہوتی ہیںوہ لوگوںکی دسترس سے دور رہ جاتی ہیں اور باطل افکار و خیالات کے حامل لوگوںکی طرف سے بنائی گئی دڈیوز لوگوںکی زندگی اور ان کے اعمال پر اثر انداز ہوجاتی ہیںیہ کوئی ایک دو واقعہ نہیں ہے؛ بلکہ سوشل میڈیا پر رہنے والا ہر شخص اس صورت حال سے واقف ہے۔ ابھی کورونا کے دور میںخود میں نے بہت سے مسائل پر تحریریں لکھیں اور ہمارے پاس اسی مسئلہ سے متعلق بعض وڈیو ز آئے کہ اس میںجو کہا گیا ہے وہ درست ہے یا نہیں؟ جب کہ میری وہ تحریر بھی ان کے پاس موجود ہے؛ لیکن میری تحریر ان کے استفادے کے قابل نہیںہے؛اسی لیے وہ وڈیو دیکھ کر یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ ہم اس وڈیو پر عمل کرسکتے ہیںیا نہیں؟
انٹرنیٹ پر بہت سے لوگ اپنے آپ کو اسلام کا ترجمان با ور کراکر موجودہ آلات سے لیس ہوکر اسلام کی ترجمانی کرتے ہیںدارالافتا میںاس طرح کے سوالات آئے دن آتے رہتے ہیںکہ ہمیں فلاںصاحب کی بات بہت اچھی لگتی ہے ہم ان کا بیان سن سکتے ہیں یا نہیں؟ہم چوںکہ انٹرنیٹ سے دور ہیںاور مذکورہ بیان سے ناواقف ہیںاس لیے کوئی صحیح جواب دینے سے قاصر ہوتے ہیں اور یہ لکھ دیتے ہیںکہ ہمیںان کے بارے میںمعلومات نہیںہیں؛لیکن ارباب تحقیق جانتے ہیںکہ یہ سوال کا جواب نہیں ہے اور نہ ہی ہم اس طرح کے جواب سے اسلام کی صحیح ترجمانی کر پاتے ہیں؛اس لیے آج ضرورت ہے کہ اسلام کے آفاقی پیغام کو آفاق تک پہونچانے کے لیے موجودہ زمانے کے آلات استعمال کیے جائیں اور لوگوںسے ان کی زبان میںبات کی جائے ان کے اسلو ب اورمانوس طریقہ میںگفتگو کی جائے۔
اسلام ایک داعی مذہب ہے اس کا تقاضا بھی یہی ہے کہ لوگوں سے ان کی متعارف و مانوس زبان میںگفتگو کی جائے، انٹرنیٹ کا ایک مثبت پہلو اور مفید استعمال یہ ہوسکتاہے کہ بحیثیت داعی قوم کے پوری دنیا کو دعوت کا میدان بنایاجائے اور انٹرنیٹ کے وسیع پنڈال کے ذریعہ معمولی خرچ کے ساتھ پوری دنیا کے لوگوںتک دین کی دعوت پہونچائی جائے،اور اسلام کے عالمی دعوتی مشن کے لیے انٹرنیٹ کے اسی فارمیٹ کو استعمال کیا جائے جس کے لو گ زیادہ دیوانے ہیں۔
ہندوستان میںاسلاموفوبیاکا مرض بھی بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے،اسلام کے تعلق سے برادران وطن کے دل میںخوف و ہراس پیدا کرکے ان کے اندر مسلمانوں کے تئیں نفرت پیدا کرنا اسلاموفوبیا ہے ۔یہ مرض یورپ سے شروع ہوا اور اب ہندوستان میں اس کی جڑیں مضبوط ہورہی ہیںآئے دن ہم نفرت اور پرتشدد واقعات اورماب لنچنگ دیکھتے ہیںیہ سب اسلاموفوبیا کا حصہ ہے ا س پرقابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ اسلام کی حقیقی تصویر سامنے لائی جائے، اسلام کا پیغام امن و اخوت، مساوات، انسانی ہمدردی، انسانی حقوق کی پاسداری اور اسلام کے نظام عدل و انصاف کی بالادستی کو لوگوں کے سامنے لایا جائے۔
اس سلسلے میں جو سب سے بڑی رکاوٹ ہے وہ وڈیو گرافی ہے۔ حضرات اہل علم تحریروں کے ذریعہ سے انٹرنیٹ پر اسلامی مواد شیئر کررہے ہیں؛لیکن میںسمجھتاہوںکہ اس کا خاطر خواہ فائدہ نہیںہورہاہے اسی طرح آڈیو پیغامات کا بھی ایک سلسلہ ہے جس سے بہر حال بہت سے لوگ جڑ رہے ہیںلیکن جس درجہ کی ضرورت ہے اس کی تکمیل نہیں ہورہی ہے اس لیے کہ اس وقت لوگ وڈیو دیکھنے اور سننے کے عادی ہوچکے ہیںاس کے بغیر سوشل میڈیا پر اسلام کے تئیںمنفی رویو ںکا مسکت جواب نہیںدیا جاسکتاہے ہماری تحریریںان حلقوںاورذہنوں تک نہیں پہونچ پاتی ہیںجن کے ذہنوںکو پراگندہ کیا گیا ہے۔
ضروری ہے کہ تصویر پر بھی مختصر گفتگو کی جائے، تصویر کی جو ممانعت اور سخت وعید قرآن و حدیث میں ہے وہ اہل علم سے مخفی نہیں ہے اورموبائل یا انٹرنیٹ پر جو تصاویر آتی ہیںوہ تصاویر محرمہ کے دائرے میں ہے یا نہیں؟یہ ایک مختلف فیہ بحث ہے۔ ہندوستان کے ارباب افتاء کی بڑی جماعت کی رائے یہی ہے کہ ڈیجیٹل تصاویر بھی تصاویر محرمہ کے دائرے میںآتی ہیں؛لیکن اسی کے ساتھ ایک دوسر اسوال جڑا ہوا کہ اسلام کی تبلیغ و اشاعت،اسلام پر ہونے والے منفی تبصرے،اسلام کے تعلق سے کیے جانے والے بے جا اعتراضات کے جوابات، صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت،غلط افکار و نظریات اور غلط مسائل کے مقابلے میںصحیح افکار و نظریات کو پیش کرنے کے لیے انٹرنیٹ اور وڈیو کا استعمال کیاجاسکتا ہے یا نہیں؟ اس سلسلے میںجمعیۃ علماء ہند کے ادارہ مباحث فقہیہ؛ اسی طرح فقہ اکیڈمی انڈیا کی تجاویز ہے کہ ان مقاصد کے لیے انٹرنیٹ او رویڈو پروگراموںکا استعمال جائز ہے۔اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیاکے بارہویںسیمینار کی تجاویز ملاحظہ کریں ۔
(1)اسلام کی نشر و اشاعت اور اس کی حفاظت و بقاکے لیے ہر ممکن جدو جہد و سعی امت مسلمہ کا اہم فریضہ ہے۔
(2) و اعدو لہم ما استطعتم من قوۃ کے مطابق اس فریضہ کی انجام دہی کے لیے جدید و قدیم ہر ممکن جائز ذریعہ و وسیلہ کا استعمال کرنا درست ہے بلکہ ضرورت و حالات کے مطابق مفید و موثر وسیلہ استعمال کرنا ضروری ہے۔
(3) بنیادی طورپر انٹرنیٹ آج کے زمانے کا سب سے اہم ذریعہ ابلاغ ہے اس کی حیثیت اپنی بات دوسروںتک پہنچانے کے لیے ایک ذریعہ اور وسیلہ کی ہے اور ذرائع کا حکم شرعی متعین کرتے وقت یہ دیکھنا ہوگا کہ ان ذرائع کا استعمال کن مقاصد کے لیے ہورہا ہے ذرائع و وسائل کا استعمال جائز مقاصد کے لیے شرعا جائز اور ناجائز مقاصد کے لیے ناجائز ہے،پھر ان کا شرعی حکم اس طرح متعین ہوگا کہ ان مقاصد کا حصول فرض و واجب ہے یا مستحب ہے یا مباح ہے اور ان وسائل کا استعمال مکمل طورپر ان مقاصد کے حصول کے لیے جس حد تک ضروری ہو اسی کے بقدر ان وسائل کا استعمال فرض یا مستحب یا جائز ہوگا۔اس اصولوںکی روشنی میںشرکاء سیمینار کی رائے ہے کہ انٹرنیٹ کا استعمال ایک شرعی، دینی،دعوتی،اجتماعی فلاح کے ذریعہ اور وسیلہ کی حیثیت سے جائز اوربعض دفعہ ضروری بھی ،تاہم ضروری ہے کہ عرض اور پیشکش کے طریقے میںمنکرات اور محرمات شرعیہ سے بچاجائے۔
(4)ایک اہم سوال ان چینلس کے حکم شرعی کا ہے جو خالص دینی و دعوتی مقاصد کے لیے قائم کیے گیے ہیں اور قائم کیے جارہے ہیں اور ہر طرح کی فحاشی،، عریانی سے پاک اور خالی ہیں کیا ایسے چینلس کا قائم کرنا اور ان سے استفادہ کرنا جائز ہوگا یا نہیں ؟ تمام شرکاء سیمینار اس کو جائز قرار دیتے ہیںجب کہ بعض حضرات ان حالات میں بھی اجازت نہیں دیتے ہیں (ان میں چھ حضرات کے نام ہیں) (نئے مسائل اور فقہ اکیڈمی کے فیصلے ص: 303)
اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے تیسویں فقہی سمینار ’’المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد‘‘ میں منعقدہ۳-۴? اکتوبر ۱۲۰۲ء کی تجویز ہے۔
1 سوشل میڈیا موجودہ دور کی ایک اہم ایجاد ہے، جس سے منافع اور مفاسد دونوں وابستہ ہیں اور اس وقت یہ ابلاغ کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
2 اسلام کی اشاعت، دینی معلومات کی فراہمی، اخلاقی تعلیمات اور جائز معاشی فوائد وغیرہ کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے؛ لہٰذا اس کے استعمال میں کوئی قباحت نہیں ہے۔
3 اگر آڈیو یا ویڈیو کے مشتملات شرعی اعتبار سے درست ہوں تو ان کوسننے، دیکھنے اور دوسرے شخص کو بھیجنے پر کمپنی جو پیسہ دیتی ہے،اس کا لینا جائز ہے۔
4 ویڈیو کی نشر و اشاعت کے لئے ناجائز یا غیر مصدّقہ اشتہارات کو اختیاری طورپر شامل کرنادرست نہیں ہے۔
5سوشل میڈیا کے استعمال میں شرعی و اخلاقی اُمور کا لحاظ رکھنا ضروری ہے اور جو اُمور غیر شرعی اور غیر اخلاقی ہوں، ان سے اجتناب لاز م ہوگا۔
6 سوشل میڈیا پر باطل اور گمراہ فرقوں کی طرف سے اسلام کے نام پر بنائی گئیں بہت سی سائٹس موجود ہیں؛ لہٰذا شرکاء سیمینار کی نوجوان نسل سے اپیل ہے کہ وہ ایسی سائٹس کے استعمال سے اجتناب کریں اور اس سلسلہ میں اپنے معتمد علماء سے رُجوع کریں (تجاویز اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا)۔
مباحث فقہیہ جمعیۃ علمائے ہند کے آٹھویںاجتماع کی تجویزہے:اسلام میںبلا ضرورت شرعی تصویر کھنچوانا ناجائز ہے لیکن اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ٹیلی ویزن اور دیگر ذرائع ابلاغ پر اعدائے اسلام یا شرپسند فرقہ پرست طاقتوںکی طرف سے کوئی ایسی چیز سامنے آئے جس سے اسلام کی شبیہ بگڑنے یا مسلمانوںکے حقوق کے ناقابل تلافی نقصان کا اندیشہ ہو تو اس کے دفاع کے لیے ٹیلی ویزن کے کسی پروگرام پر آنے کی ضرروتا گنجائش ہے (فقہی اجتماعات کے اہم فقہی فیصلے و تجاویز،ادارۃالمباحث الفقہیۃ جمعیۃ علماء ہندص:73)
تاہم حضرات علماء نے اس فتوی میں بہت احتیاط سے کام لیا ہے اس لیے کہ علی الاطلاق اجازت تصویر کشی اور وڈیو سازی کی قباحت و حرمت کو دلوں سے کم کردے گی اور اس کا بے جااستعمال اور غلط استعمال کثرت سے ہونے لگے گا جیسا کہ آج کل اس کا مشاہدہ بھی ہے اس لیے حتی الامکان جائز ذرائع کو استعمال کیا جائے اور ضرورت کی وجہ سیجدید آلات و اسباب کو اختیار کرتے ہوئے اسلام کی نشر و اشاعت اور اسلامی تعلیمات کے فروغ کی ہر ممکن جد و جہد و سعی کی جائے، اسلام کے خلاف جو منفی سوالات ہیں وہ جن ذرائع کے ساتھ استعمال ہورہے ہیں انہی ذرائع کے ساتھ جواب دیا جائے۔ یہ قرآنی تعلیمات واعدوا لہم ما استطعتم کے تحت آتاہے۔ آج ضرورت ہے کہ اس کے مفید اور مضر پہلو پر تفصیلی گفتگو کی جائے او راس کے نقصان سے بچتے ہوئے اس کے مثبت استعمال کو بروئے کار لایا جائے ایسا نہ ہو کہ ہمارے بیدار ہوتے ہوتے وقت نکل ہوچکا ہو۔

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے