ہومبریکنگ نیوزسودن میں تکمیل حفظ قرآن کریم یہ رتبہ بلندملاجس کومل گیا ...

سودن میں تکمیل حفظ قرآن کریم یہ رتبہ بلندملاجس کومل گیا 🖋️ محمدانظرحسین قاسمی بانکوی

🖋️ محمدانظرحسین قاسمی بانکوی
استاذجامعہ رحمانی خانقاہ مونگیربِہار

سرزمین بہارکے بارے میں یہ بات بہت کہی جاتی ہے کہ,, بہارکی سرزمین مردم خیزہے،،اوراس کااندازہ یہاں کے علماء، فضلاء محدثین،مفسرین،مؤرخین اورمختلف میدانوں میں یہاں کے باشندوں کی محنت ،لگن کچھ کرگذرنے کےجذبے اور اپنے اپنے میدان میں گراں قدرخدمات اور ان کے چھوڑے ہوئے انمٹ نقوش سے بخوبی لگایاجاسکتاہے۔
سردست تحریردرحقیقت صوبہ بہار کے ضلع بانکاکے,, بنسی پور،،گاؤں سے تعلق رکھنے والے حافظ محمدشعیب ابن محمدارشاد کے ایک ایسے کارنامے پرخراج تحسین ہے جسے معجزات قرآن کریم ہی میں سے کہاجاسکتا ہے،محمدشعیب نامی طالب علم نے اپنی جدوجہداورمحنت سے جامعہ اشاعت العلوم اکل کواں مہاراشٹر میں محض سودن(یعنی3ماہ دس دن)میں حفظ قرآن کریم مکمل کیاہے۔
ظاہر ہے کہ یہ بہت انوکھاکارنامہ ہے ماضی میں بہت سے جلیل القدرعلماء اور اساطین علم ایسے گذرے ہیں جنہوں نے اللہ تعالٰی کے فضل و کرم اور اپنی محنت سے بڑی کم مدت میں حفظ قرآن کریم مکمل کیا، چنانچہ مولانا عتیق الرحمن صاحب اعظمی نے اپنے ایک مضمون میں ایسے ہی چند حفاظ کے نام ذکر کئے ہیں، وہ لکھتے ہیں کہ امام محمدؒ جب امام ابوحنفیہؒ کے پاس علم حاصل کرنے کے لیے حاضر ہوئے تو امام صاحب نے آپ کو قرآن شریف حفظ کرنے کا حکم دیا، امام محمدؒ ایک ہفتہ غائب رہے پھر آکر فرمایا پورا قرآن یاد کرلیا۔ (الجواہر المضیئۃ ۲/۵۲۸)
شیخ عزالدین ابن جماعہ تیس علوم میں مہارت رکھتے تھے، قرآن مجید کوایک ماہ میں یادکرلیاتھا۔(اسلاف کے حیرت انگیزکارنامے ۹۹)
ہشام کلبیؒ کا بیان ہے کہ میں نے ایسا یاد کیا ہے کہ کسی نے نہ کیا ہوگا اور بھولا بھی ایسا کہ کبھی بھولا نہ ہوگا، فرماتے ہیں کہ میرے چچا ہمیشہ مجھے قرآن یاد نہ کرنے پر ملامت کیا کرتے تھے، ایک دن مجھے بڑی غیرت آئی میں ایک گھر میں بیٹھ گیا اور قسم کھائی کہ جب تک کلام باری تعالیٰ حفظ نہ کرلوں گا اس گھر سے باہر نہ نکلوں گا؛ چنانچہ پورے تین دنوں میں قرآن کریم کو حفظ کرکے اپنی قسم پوری کرلی اور بھول جانے کا قصہ یہ ہے کہ میں نے آئینہ میں دیکھا کہ داڑھی لمبی ہوگئی ہے تو میں نے اس کو چھوٹی کرنا چاہا ایک مشت سے زائد کو قطع کرنے کے لیے داڑھی مٹھی میں لی اور بجائے نیچے کے اوپر قینچی چلادی؛ چنانچہ داڑھی صاف ہوگئی۔ (وفیات الاعیان (۶/۸۲) واسلاف کے حیرت انگیز کارنامے ۸۴ و شامی ۵/۲۶۱ یا ۶/۴۰۷ تاریخ خطیب بغدادی ۱۶/۶۸)
اللہ تعالیٰ نے ایسااس لیے کرایاکہ ان کے اندراس سے کبرنہ پیداہوجائے کہ تین دن میں قرآن حفظ کرلیاتھا۔ (ملفوظات فقیہ الامت ۲/۲۵۳ طبع جدید کراچی)
قاضی ابوعبداللہ اصبہانی نے فرمایا کہ میں نے پانچ سال کی عمر میں قرآن حفظ کرلیا تھا۔ (مقدمہ ابن الصلاح ص۱۳۱، النوع ۲۴ واسلاف کے حیرت انگیز کارنامے ص۲۰۲)
مولانا فضل حق خیرآبادیؒ (م۱۲۷۸ھ) نے صرف چار ماہ میں قرآن حفظ کرلیا تھا۔ (ایضاً، ونزہۃ الخواطر ۷/۴۱۳)
حضرت روح اللہ لاہوریؒ نے مکہ معظمہ میں ماہ رمضان مبارک کے اندر بیس دنوں میں پورا قرآن حفظ کرلیا۔ (ایضاً ص۲۰۶)
حضرت مولانا محمدقاسم نانوتویؒ جب حج کے لیے تشریف لے جارہے تھے تو سمندر میں جہاز پر رمضان شریف کا چاند نظر آگیا، رفقاکی خواہش ہوئی کہ تراویح پڑھی جائے؛ مگر کوئی حافظ نہیں تھا لوگوں کے اصرار پر ایک پارہ روزانہ دن میں حفظ کرتے اور رات کو تراویح میں سنادیا کرتے؛ اس طرح پورا قرآن (ایک ماہ میں ) یاد کرکے سنادیا۔ (اسلاف کے حیرت انگیز کارنامے ۲۰۷)
معلوم ہوا کہ ماضی میں ایسے بہت سے حفاظ گذرے ہیں جنہوں نے بڑی کم مدت میں حفظ قرآن کریم کی سعادت حاصل کیں، لیکن موجودہ وقت میں سو دن میں حفظ قرآن کریم کی تکمیل بندۂ ناچیز نے پہلی مرتبہ سنی ہے۔
اس کارنامے پر طالب علم اور ان کے والدین نا صرف اپنے جامعہ اور اپنے علاقہ، بلکہ پورے ملک اور پوری امت مسلمہ کی طرف سے مبارک بادی اور حوصلہ افزائی کے مستحق ہیں، ساتھ ہی ساتھ ہمیں ایسے لعل و گہر کی قدر و قیمت کو پہچاننا چاہئیے کہ ۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پے روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتاہے چمن میں دیدہ ور پیدا
حافظ صاحب نے اس مقام کو حاصل کرنے کے لئے بڑی محنت کی ہے، جس کا اندازہ ان کے استاذ کے بیان سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے استاذجب انہیں بسکٹ وغیرہ کھانے کے لئے دیتے تووہ بسکٹ ان کی جیب میں اگلے دن اسی طرح ملتی،جب استاذ محترم ان سے بسکٹ نا کھانے کا سبب پوچھتے تو طالب علم جواب دیتے ہیں میرے پاس کھانے کا وقت نہیں ہے، قربان جائیے اس جذبہ پر ! یہ جذبہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے جذبہ سے ملتا جلتا جذبہ ہے، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے معالج سے فرمایا تھا کہ سالن کے ساتھ روٹی کھانے کا میرے پاس وقت نہیں ہے، خدا کرے کہ موصوف طالب علم کی محنت اور کچھ کر گذرنے کے جذبہ سے طالب علم کو ایسا علمی مقام حاصل ہوجس کی روشنی سے سماج سے جہالت کی تاریکی کافور ہو اوروہ دوسرے طلبہ کے لیے ایک تحریک ثابت ہو!

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے