سلگتے آشیاں

96

*سلگتے آشیاں*

عرفان دفتر میں ضروری فائلوں میں الجھا ہوا تھاکہ موبائیل کی رنگ پر چونک گیا.
اسکرین پہ فوزیہ کا نام دیکھر اس کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ بکھر گئی.
اس نے کال ریسیو کی. فوزیہ نے ادائے دلبری سے سلام کیا. عرفان کا موڈ اور خوشگوار ہوگیا. کچھ شوخ جملوں کے تبادلے کے بعد فوزیہ نے کہا

“شام میں جلدی گھر آئیے. مجھے ممی کے گھر جانا ہے.”
یہ سنکر عرفان کا موڈ یکلخت بگڑ گیا. “کیوں. ؟ ابھی دو دن قبل ہی تم میکے گئی تھیں.”
“ہاں گئی تھی. آج پھر جانا چاہتی ہوں. باجی کا فون آیا تھا. وہ بھی آرہی ہیں.”

“فوزیہ. تمہارا اس طرح بار بار میکے جانا ٹھیک نہیں. ہر دو دن بعد تم میکے چلی جاتی ہو. امی کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی. بی پی اور شوگر کی مریضہ ہیں وہ. انہیں آرام کی ضرورت ہے. تمہارے میکے جانے سے انہیں کچن وغیرہ سنبھالنا پڑتا ہے. باجی تو آتی جاتی رہتی ہیں. پھر کبھی چلی جانا.”
اس نے نرمی سے سمجھایا
لیکن اب فوزیہ کا پارہ چڑھ گیا.
“آپکی امی سدا بیمار رہتی ہیں. اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ میں انکی تیمار داری کرتی رہوں. مجھے گھٹن ہوتی ہے آپکے گھر میں. یہ نہ کرو. وہ نہ کرو. ٹی وی کی آواز دھیمی کرو. موبائیل پہ دیر تک باتیں نہ کرو. وقت پہ نماز پڑھو. اونچی آواز میں نہ ہنسو….. گھر نہیں قید خانہ ہے جہاں میرا دم گھٹتا ہے. اس لئے جاتی ہوں ممی کے گھر تاکہ چند لمحے سکون سے گزار سکوں.!”
عرفان اس کی بد تمیزی برداشت نہ کرسکا اور اس نے غصے سے کہا
“ٹھیک ہے چلی جاؤ جہاں جانا چاہتی ہو.”
اور فون بند کردیا
فوزیہ کو توقع تھی کہ وہ اسے منائے گا اور اس کی بے تکی باتوں کی تائید کرے گا. لیکن عرفان کے اس طرح کال کاٹ دینے پر وہ چراغ پا ہوگئی. اور بیگ پیک کیا اور آٹو رکشا لے کر میکے چلی گئی. رضیہ بیگم پوچھتی ہی رہ گیئں کہ
“کیا ہوا. اس طرح کڑی دھوپ میں تنہا کیوں جارہی ہو. ؟” لیکن اس نے بدتمیزی سے جواب دیا
“اپنے لاڈلے سے پوچھیں !”
وہ بے چاری اپنا سا منہ لے کر رہ گئیں.
فوزیہ میکے پہونچی. وہاں رو رو کر عرفان اور اس کی ماں کی شکایتیں کرنے لگی. نصرت بیگم بیٹی کے بہتے آنسوؤں کو دیکھکر تڑپ اٹھیں اور عرفان کو برا بھلا کہنے لگیں. مرزا صاحب نے دبے لفظوں میں کہا کہ. “پہلے یہ تو جان لو کہ ماجرہ کیا ہے.؟ عرفان بہت سلجھے ہوئے مزاج کا نوجوان ہے. فوزیہ کی ہی غلطی ہوگی. ”
لیکن نصرت بیگم نے سختی سے انکی تردید کی
“آپکو تو اپنی بیٹی میں ہی خامیاں نظر آتی ہیں. ان ماں بیٹے کی شاطر چالوں سے میں اچھی طرح واقف ہوں. میری بیٹی کو ملازمہ بنا رکھا ہے. اب میں اسے بھیجونگی ہی نہیں. دیکھتے ہیں کیسے مزاج ٹھیک ہوتا ہے داماد جی کا. ہمیں کمزور سمجھ رکھا ہے. میری بیٹی لاوارث نہیں کہ اسے دبا کر رکھیں. ایسا سبق سکھاؤنگی کہ یاد رکھیں گے !”
فوزیہ مسلسل روئے جارہی تھی. نادیہ بھی اپنے بچوں اور میاں کے ساتھ آدھمکی. اور پھر سب نے عرفان کے خلاف محاذ کھڑا کر لیا.
شام میں تھکا ہارا عرفان گھر پہونچا تو رضیہ بیگم نے بتایا کہ کس طرح فوزیہ اکیلی میکے چلی گئی. عرفان نے سوچا تھا کہ اس کی ناراضگی کے خیال سے فوزیہ نے میکے جانے کا ارادہ ترک کر دیا ہوگا لیکن اتنی ڈھٹائی پر اسے بھی غصہ آگیا. کہ اب وہ وہیں رہے. وہ اسے لینے نہیں جائے گا.
ذرا سی بات طول پکڑ گئی.
فوزیہ کو ماں کہ شہہ حاصل تھی. نصرت بیگم تیز مزاج اور ضدی فطرت کی حامل تھیں. شوہر کو بھی زندگی بھر انگلیوں پہ نچایا تھا. وہ بے چارے شریف النفس انسان تھے. انہوں نے انکے مزاج کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا تھا. نادیہ کا شوہر بھی اسی مزاج کا تھا. وہ بھی بیوی کے اشاروں پہ چلنے لگا. فوزیہ بھی یہی چاہتی تھی کہ عرفان اسکی ہر جائز و ناجائز بات مانے. لیکن عرفان متوازن طبیعت رکھتا تھا. بیوی کے حققوق کے ساتھ والدین اور بھائی بہنوں کے حققوق کی بھی پاسداری کرتا تھا. والد ین ضعیف تھے. گھر کا بڑا بیٹا ہونے کے ناطے ذمے داریوں کا بوجھ اس کے شانوں پر تھا جو فوزیہ کو ناگوار لگتا تھا. وہ حددرجہ فیشن ایبل اور فضول خرچ تھی. گھومنے پھرنے کی شوقین. شاپنگ کی دلدادہ. ہوٹلوں میں کھانے کی فرمائش. بیوٹی پارلر کے چکر….. ٹی وی سیریئل کی دیوانی…. رضیہ بیگم نے اسے اپنے ماحول میں ڈھالنے کی کوشش کی. شفقت اور نرمی سے سمجھایا. لیکن اسے یہ روک ٹوک زہر لگنے لگی. اس نے عرفان سے شکایتیں کرنی شروع کیں. لیکن وہ ماں کی فطرت سے واقف تھا. اسلئے بہکاوے میں نہ آیا اور فوزیہ کو ہی سمجھانے لگا. جس پر وہ بری طرح پیچ وتاب کھانے لگی. نصرت بیگم کی غلط تربیت نے اسے بگاڑ رکھا تھا. یہ انہی کا مشورہ تھا کہ
“میکے چلی آ. عرفان خودبخود دوڑا چلا آئے گا. !”
لیکن عرفان کی غیرت نے یہ گوراہ نہ کیا. فوزیہ اسے بہت عزیز تھی لیکن اسکی حرکتوں سے وہ بھی نالاں تھا. اس نے نہ تو فوزیہ کو فون کیا اور نہ ہی اسکے میکے گیا.
دن گزرتے گئے. مرزاصاحب نے کئی بار نصرت بیگم سے کہا کہ
“سمجھا بجھا کر فوزیہ کو سسرال چھوڑ آؤ.”
لیکن وہ ہٹ دھرم تھیں. داماد کو جھکانا انکی منشاء تھی ۔ فوزیہ ماں اور بہن کے زیر اثر تھی اور یہی چاہتی تھی کہ عرفان اسے منا نے آئے.
کچھ ماہ اسی شش وپنج میں بیت گئے. عرفان کی خاموشی پر نصرت بیگم پریشان ہوگئیں اور انکے خرافاتی ذہن نے نئی چال چلی. داماد کو سبق سکھانے کے لئے انہوں نے پولیس میں شکایت درج کروادی کہ
“عرفان اور اس کے گھر والوں نے انکی بیٹی پہ ظلم و تشدد کیا. جس کے سبب وہ گھر چھوڑ کر چلی آئی ہے. !”
مصالحت کی راہ نکالنے کے بجائے انہوں نے معاملے کو پوری طرح بگاڑ دیا. پولیس نے عرفان اور اسکے والدین کو تھانے بلایا. پوچھ تاچھ کی. لیکن کوئی حل نہ نکلا. عرفان کو توقع نہ تھی کہ فوزیہ کے گھر والے اسے اس طرح ذلیل کریں گے. شرفاء کے لئے پولیس تھانے کے معاملات انتہائی اذیت ناک ہوتے ہیں. عرفان کے دل میں اب فوزیہ کے لئے صرف نفرت تھی. اس نے بھی انتقاماً کہہ دیا کہ

“اب نہ تو وہ فوزیہ کو گھر لے جائے گا نہ چھوڑے گا. بہت شوق ہے میکے میں رہنے کا تو رہے وہیں.!!! ”

اب نصرت بیگم نے عدالت کا در کھٹکھٹایا. اور مصالحت کے سارے دروازے بند ہوگئے. ماہ وسال پر لگا کر اڑنے لگے. مقدمے کی پیشیاں چلتی رہیں. عرفان اور فوزیہ تنہائی کی آگ میں جلتے رہے. عمر کا سہانہ دور بے کیف گزرتا گیا. لیکن کوئی بھی جھکنے کو تیار نہ تھا. ہنستے بستے گھر میں آگ لگ گئی. جھوٹی انا اور ہٹ دھرمی نے ایک گلشن کو آندھیوں کی نذر کردیا. پتہ نہیں کب مقدمے کا فیصلہ ہو اور عرفان اور فوزیہ کی زندگی میں خوشیوں کے نئے در وا ہوں……..!!!!

*رخسانہ نازنین*
*بیدر*
کرناٹک