سلام میں سلامتی ہے،اجازت بھی شامل ہے

105

تعلیم یافتہ ومہذب آدمی ہونے کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ وہ جب کسی سے ملتا ہے توآداب وتسلیمات بجا لاتا ہے،اور جب کسی گھر میں داخل ہوتا ہے تو اجازت حاصل کرلیتا ہے۔مسلمانوں میں بالخصوص داڑھی ٹوپی والے کو غیر مسلم احباب مولوی کہتے ہیں اور مہذب سمجھتے ہیں۔مولوی یا مولوی نما لوگوں کی چھوٹی سی چوک پر بھی نشاندہی کرنے لگتے ہیں۔میرا خود کا سابقہ وراٹ نگر نیپال کے نیورولوجسٹ ڈاکٹر وریندر کمار بسٹ جی سے ہوا ہے۔موصوف نے ملتے ہی یہ جملہ مجھ سے کہا کہ:مولوی صاحب!سلام نہ آداب آگئے میرےپاس “یہ سنکر وقتی طور پر حیرت بھی ہوئی کہ باضابطہ آواز دیکر ہمیں بلایا گیا ہے باوجود اس کے یہ اجازت معتبر نہیں ہے۔اس سے دوباتیں میری سمجھ میں آئی ہیں، ایک یہ کہ ہم مولویوں سے غیرمسلم احباب کو بھی بڑی امیدیں وابستہ ہیں، شعار اسلام اپنے چہرے پر سجانے والے مسلمان یہ ہرکسی کی نگاہ میں بہت مہذب خیال کئے جاتے ہیں۔
دوسری بات یہ سامنے آئی کہ بغیر سلام وآداب کے اجازت ادھوری ہے۔قرآن کریم میں لکھاہے:”اے ایمان والو مت جایا کرو کسی گھر میں اپنے گھر کے سوائے جب تک بول چال نہ کرلو،اور سلام کرلوان گھر والوں پر یہ بہتر ہے تمہارے حق میں تاکہ تم یاد رکھو” (النور:۲۷)
قران کریم کی اس آیت سے بھی اس بات پر روشنی پڑتی ہے کہ اجازت کے بغیر کسی گھر میں داخل ہوجانے کی اجازت نہیں ہے۔ساتھ ہی سلام کاذکربطور خاص اجازت کے باب میں کیا گیا ہے۔
حدیث وفقہ کی کتاب میں اس کی پوری صراحت موجود ہے؛
ایک ایمان والے کے لئےدوسرے گھر کے اندر داخل سے پہلے آواز دیکر اجازت حاصل کرلینا ضروری ہے۔اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ تین مرتبہ سلام کرے اور اس کے ذریعہ اندر داخلہ کی اجازت حاصل کرے،اگر تین بار سلام کے ذریعہ بھی اجازت نہ ملے تو واپس چلا جائے۔
اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سلام میں اجازت بھی شامل ہے اور بغیر سلام کے ایک صاحب ایمان کی اجازت ادھوری ہے۔
ہرچند کہ مذکورہ واقعہ میں تاویل کی بڑی گنجائش ہے اور ایک مولوی بآسانی تاویل کرسکتا ہے کہ یہ مسئلہ خاص کسی کی ملکیت میں داخل گھر کے لئے ہے،قرآن کریم میں بھی” غیر مسکونہ” یعنی ایسے مکانات جو کسی خاص فرد کی ملکیت میں داخل نہیں ہیں وہاں اجازت لینا ضروری نہیں کہا ہے۔اسی لئے مسجد، مدرسہ، خانقاہ وسرائے کو اس سے مستثنٰی رکھا گیا ہے۔ہاسپٹل کے تعلق سے بھی یہ تاویل کی جاسکتی ہے، مگر یہاں تاویل نہیں بلکہ تامل ضروری ہےاورمحاسبہ کی ضرورت ہے۔
بچپن کےدنوں جب اپنے علاقہ میں جہالت زوروں پر تھی اورتعلیم وتربیت کی بڑی کمی تھی باوجود اس کے اپنے گھر آنگن میں داخل ہونے والوں کو دیکھتے کہ وہ گلی میں آکر بتکلف کھانس رہے ہیں، اس کے ذریعہ وہ اندر آنے کی اجازت طلب کیا کرتے تھے۔
آج ہم تعلیم یافتہ ہونےکاڈھنڈھورہ پیٹ رہے ہیں جبکہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔اس تعلق سے بڑی توجہی دیکھنے میں آرہی ہے۔ایک مسلمان پڑھا لکھا بھی شتر بےمہارکی طرح بےمحاباکسی گھر میں داخل ہوجاتا ہے اور اہل خانہ سے اس کی اجازت تک لینے کی زحمت گوارا نہیں کرتا ہے۔جبکہ یہ تہذیب یافتہ کہلانے ہی کے لئے نہیں بلکہ صاحب ایمان ہونے کے لئے ازحد ضروری ہے۔یہ مسلمانوں کاشان امتیاز ہے اور خاص پہچان ہے۔اسی لئے اس معاملے میں ہمارے غیر مسلم احباب کو بھی ہماری چوک پسند نہیں ہے،وہ بھی ہمارے آداب وتسلیمات کے منتظر ہیں، وہ اس لئے نہیں کہ اس سے ان کا مقام ومرتبہ بلند ہوجاتا ہے بلکہ اس اجازتی سلام وآداب میں دراصل ہماری شناخت چھپی ہوئی ہے اور اس سے ہماری پہچان ہوتی ہے۔یہ قیمتی شعار مسلمانوں کا ہے مگر اس وقت ہم سے زیادہ غیروں کا اس پر عمل ہے۔آج پھر ہمیں اپنے گھروں کے سامنے “لاتدخلوهاالابسلام “لکھ کر نصب کر لینے اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔
ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ