جمعرات, 29, ستمبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتسعادت مند بیٹا

سعادت مند بیٹا

سعادت مند بیٹا

✍️انظار احمد صادق

اکملؔ اپنے والد کا اِکلوتا بیٹا ہے، مگروہ اپنے باپ کا انتہائی سعادت مند اور فرماں بردار بیٹا ہے،جس لاڈو پیار کے ساتھ اُس کے والد نے اُس کی پرورش کی تھی، اکملؔ بھی جوان ہونے کے بعد اپنے بوڑھے باپ کی ویسی ہی خدمت اور ادب واحترام کا جذبہ رکھتا ہے،جب تک گھر پر رہتا ہے وہ اپنے ابو کی دل وجان سے خدمت کرتا ہے، اپنی آپا اور گھر کے دیگر لوگوں پر سبقت لے جانے کی کامیاب کوشش کرتا ہے۔

ایک دن اکملؔ کے والد صبح میں سو کر اُٹھنے کے بعد بمشکل جیسے تیسے خود سے کمبل تہہ کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہوتے ہیں، اُسی درمیان اکملؔ اپنے والد کے کمرے میں داخل ہوتا ہے اور بولتا ہے: ’’ابّو جان! آپ یہ کیا کررہے ہیں؟ اس کو چھوڑیئے یہ ہمارا کام ہے،آخر ہم کس دن کے لیے ہیں؟ آپ منھ ہاتھ دھو کر فریش (Fresh) ہو جایئے، سُندُسؔ آپا نے ناشتہ تیار کردیا ہے۔

’’ ٹھیک ہے بیٹا!ہم فریش ہولیتے ہیں تم کمبل تہہ کرو، اور ہاں! دیکھونا آج سر کچھ بھا ری بھاری سا لگ رہا ہے‘‘ اکمل کے ابو نے کہا۔

اکمل نے نہایت شفقت ومحبت کے ساتھ اپنے ابو کے شانوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا: ’’ابو جان! پہلے آپ ناشتہ کرلیجیے، پھر ہم آپ کے سر میں تیل مالش کردیں گے، ان شاءﷲ آپ کے سر کا بھاری پَن دور ہوجائے گا‘‘۔

اکمل کے ابو فریش ہو کر دسترخوان پر بیٹھتے ہیں، نا شتہ لگ چکا ہو تا ہے، اکمل کے ابو ناشتہ شروع کرتے ہیں، روٹی کاایک نوالہ دودھ میں بھگو کر اپنے منھ میں لیتے ہیں، دودھ میں شکر نہیں ہوتی ہے، اس کے ابو بولتے ہیں: ’’بیٹا دودھ میں شکر نہیں ہے‘‘۔

 اکرم: ’’اُف! لگتا ہے آپی دودھ میں شکر ڈالنا بھول گئی ہیں، کوئی بات نہیں ابو جان! میں دودھ میں شکر ملائے دیتا ہوں،لیجیے شکر ملا دیا، اب آپ آرام سے کھایئے‘‘۔

اکمل کے ابو دودھ روٹی کھانا شروع کردیتے ہیں،ابھی دو چند نوالے ہی کھا پاتے ہیں کہ ان پر کھانسی کا دورہ آجا تا ہے اور منھ کے اندر کانوالہ باہر نکل آتا ہے اور دود ھ کا پیالہ بھی چھلک جاتا ہے، جس کی وجہ کر اُن کی داڑھی کے بال، آستین اوردامن وغیرہ خراب ہوجاتے ہیں۔

 اکمل فوراً اپنی جیب سے رومال نکال کر اُن کی داڑھی کے بال پر گرے دودھ کو صاف کرنے لگتا ہے اور بولتا ہے: ’’ابو جان! آپ آرام سے رہیے میں صاف کرنے کے بعد اپنے ہاتھ سے آپ کو دودھ پلا دیتا ہوں‘‘۔

 اکمل ایک ہاتھ سے دودھ کا پیالہ تھامتا ہے اور دوسرا ہاتھ نہایت مشفقانہ انداز میں ان کے شانوں پر رکھتے ہو ئے دود ھ پلاتا ہے، اُس کے ابو دودھ پینے کے بعد سبحانﷲ بولتے ہیں اوراکمل سے پانی طلب کرتے ہیں، اکمل بڑے پیار سے کہتا ہے: ’’ابو جان! ابھی آپ کو شہد لینا باقی ہے، ایک دو چمچی شہد لے لیجیے پھر پانی پی لیجیے گا‘‘۔

ناشتہ سے فراغت کے بعد چا ئے پیش کی جا تی ہے، پھر اُن کو دوائیں کھلا ئی جا تی ہیں،دوا کھانے کے بعد اُن کے ابو اکمل سے کہتے ہیں: ’’بیٹا اَب دھوپ میں بیٹھا دو‘‘۔

اکمل بولتا ہے: ’’ابوجان!آج آپ کا سر بھاری بھا ری سا لگ رہا ہے نا، تھوڑا سا تیل آپ کے سر میں مالش کر دیتے ہیں، ان شاءﷲ آپ کا سر ہلکا ہوجائے گا، پھر آپ کو دھوپ میں بیٹھادیں گے، وہاں آرام سے بیٹھ کر آپ اخبار بینی وغیرہ کیجیے گا‘‘۔

اکمل اپنے ابو کے سر میں تیل مالش کرنے کے بعد اُن کودھوپ میں چارپائی پربیٹھا دیتا ہے، اس کے بعدگھر کے دیگر کاموں میں مصروف ہوجا تا ہے۔

ابھی کچھ ہی دیر گزرے ہوتے ہیں کہ دروازے پر کسی کی دستک پڑتی ہے، اکمل نے دروازہ کھولاتو اُس کا دوست سبیل کھڑا مسکر ارہا تھا،علیک سلیک کے بعد اکمل نے اندر آنے کا اشارہ کیا،ڈرائنگ روم میں لے جا کر بیٹھایا، چائے وغیرہ پیش کی اور پوچھا: ’’کہو سبیلؔ کیسے آنا ہوا؟ سب خیرت ہے نا‘‘ سبیل نے کہا: ’’ہاں الحمدللہ سب بخیر ہے، سو چا کہ آج اتوار ہے، چھٹی کا دن ہے، آفس وغیرہ جاناتو ہے نہیں، خیال آیا کہ آج ہم لوگ موڈ فریش کرنے کہیں چلتے ہیں، تمہاری کیا رائے ہے؟‘‘۔

اکمل نے کہا: ’’سبیل! ہم نے اپنے لیے یہ طے کرلیا ہے کہ جب تک ابو جان کی حیات باقی ہے ہم چھٹیوں میں کہیں بھی سیر وتفریح کے لیے نہیں جا ئیں گے، کیوں کہ اُن کی دیکھ ریکھ، اُن کے پاس بیٹھنے، باتیں کرنے اور اُن کی ضرورتیں پوری کرنے میں جو وقت گزرتا ہے وہ تفریح سے ہزارہا درجہ بہتر ہے، البتہ ابوجان کے بعد زندگی نے وفا کیا تب ہی ہم کہیں جا سکتے ہیں، کیوں کہ جب ہم آفس چلے جا تے ہیں تو سُندُس آپاجان ہی ابو جان کی خدمت کرتی ہیں، مجھے بس یہی ایک اتوار کا دن ملتا ہے، اس دن آپا کو تھوڑآرام پہنچانے کی خاطر ہم ابو جان کے ساتھ لگے رہتے ہیں، اس لیے سبیلؔ ہم معذرت خواہ ہیں‘‘۔

ابھی یہ سب باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ اکمل کے ابو نے آواز دی: ’’بیٹا! اکمل ذرا اِدھر آنا‘‘اکمل نے اپنے دوست کو ابھی کچھ دیر اوربیٹھنے کے لیے کہتے ہو ئے فوراً اپنے ابو کے پاس گیا اور بولا: ’’جی ابوجان حاضر ہوں، کہیے کیا خدمت کروں!‘‘انہوں نے کہا: ’’بیٹا!اَب دھوپ کچھ زیادہ ہی تیز لگ رہی ہے،اب مجھے کمرے میں پہنچادو‘‘۔

اکمل نے فوراً اپنے ابو کے حکم کی تعمیل کی اور اُن کے کمرے میں پہنچادیا، اُن کی ضروریات کی چیزیں اُن کے آس پاس رکھ کراکمل فوراً اپنے دوست کے پاس آکر بیٹھ گیا، سبیل اکمل کی اِ س اطاعت وفرماں برداری اور خدمت گزاری سے بے حد متاثر ہو ا اور بولا: ’’ماشاءﷲ، واقعی تم اپنے والد صاحب کے بہت خدمت گزار ہو‘‘۔

اکمل نے کہا: ’’ارے کیسی بات کرتے ہو کیوں نہ خدمت کروں، ماں باپ کی خدمت کے سلسلے میںﷲ تعالیٰ کا حکم ہے کہ ’’تمﷲ کے سوا کسی کی بندگی مت کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو‘‘اس فرمان کوسورۂ بنی اسرئیل آیت نمبر 23 میں دیکھ سکتے ہو، اِس سلسلے میں پیارے نبی ﷺ کی وہ حدیث بھی سن لو، ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: ’’میں آپﷺکے ہاتھ پر ہجرت اور جہاد کے لیے بیعت کرتا ہوں اورﷲ سے اِس کا اَجرچا ہتاہوں ‘‘نبی کریم ﷺ نے پوچھا: ’’کیا تمہارے ماں باپ میں سے کو ئی ایک زندہ ہیں؟‘‘ اُس نے کہا: ’’جی ہاں، بلکہ دونوں زندہ ہیں‘‘آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تو کیا تم واقعیﷲ سے اپنی ہجرت اور جہاد کا بدلہ چا ہتے ہو؟‘‘ اُس نے کہا: ’’جی ہاں!‘‘ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’تو جاؤ اپنے ماں باپ کی خدمت میں رَہ کر اُن کے ساتھ نیک سلوک کرو‘‘۔

یہ روایت حدیث کی بہت ہی معتبر کتاب صحیح مسلم میں موجود ہے۔

اکمل کی باتیں سننے کے بعد سبیل نے کہا: ’’ﷲ کے فرمان اور پیارے رسول ﷺ کی پیاری حدیث کی روشنی میں واقعی تم بہت خوش نصیب ہواور کمال تو یہ ہے کہ تم نے حدیث کی روح کوسمجھ لیا ہے۔ پیارے رسول ﷺ نے ماں باپ کی خدمت کو جہاد پر فوقیت دی ہے، تو تم اپنے والد کی خدمت پرسیر وتفریح کوکیسے ترجیح دے سکتے ہو۔

آفریں اکمل! صد آفریں!میری دعا ہو گی کہﷲ تعالیٰ تمہارے ابو کا سایہ تم پر تادیر ایمان وصحت کے ساتھ قائم رکھے، آمین!‘‘بولتے بولتے سبیل کی آنکھیں چھلک پڑیں۔

اکمل نے گھبراتے ہو ئے پوچھا: ’’ ارے سبیل یہ کیا! تماری آنکھوں سے آنسو کیوں اُبل پڑے؟‘‘ سبیل نے ہلکی ہچکی لیتے ہو ئے آہستہ سے کہا: ’’کاش! آج ہمارے بھی ابو جان (علیہ الرحمہ)زندہ ہو تے تو ہم بھی اُن کی خدمت تمہاری ہی طرح کرتے اور اُن کی دعاؤں سے فیض حاصل کرتے‘‘۔

اکمل نے سبیل کو تسلّی دلا ئی اورکہا: ’’اس میں اتنا دل چھوٹا کرنے کی قطعی ضرورت نہیں، موت وحیات ﷲ کے ہاتھ میں ہے وہ جسے اور جب چا ہتا ہے اپنے پاس بلا لیتا ہے، آج تمہارے پاس تمہارے ابو نہیں ہیں لیکن پھر بھی اُن کو ہر دن، ہر پل اور ہر لمحہ تمہاری خدمت کا انتظار ہے اور وہ دعا ہے، تمہارے ابو جان تمہاری دعاؤں کے محتاج ہیں،تم اُن کے لیے جو نیک دعائیں کروگے وہ اُن کی خدمت میں تحفہ کی شکل میں پیش کی جا ئیں گی، دیکھو قرآن مجید نے کتنی پیاری دعا سکھلائی ہے: ﴿ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِيْ صَغِيْراً ﴾ دوسری دعا ﴿رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ﴾ [سورۂ ابراہیم: 41 ]، ان دعا ؤں اور اِسی جیسی پیارے رسول ﷺ کی سکھلائی گئیں دیگر دعاؤں سے تم اُن کی خدمت کرسکتے ہو‘‘۔

سبیل کا مرجھا یا ہوا چہرا پھر سے کِھل اُٹھتاہے،وہ اکمل کا شکریہ ادا کرتا ہے اور گھرجانے کی اجازت چاہتا ہے۔

عزیزو!میں سمجھتا ہوں کہ اکمل جیسے سعادت مند بیٹے کی ساری باتیں آپ کی سمجھ میں آگئی ہوں گی بس میری اتنی سی گزارش ہے کہ اپنے والدین کی موجودگی کو غنیمت جانیے، اُن کی خدمت کرکے اُن کی دعاؤں کا فیض بٹورئیے۔

 ﷲنے اُن کے قدموں تلے جنت رکھی ہے، اُس جنت میں اپنا ٹھکانا ڈھونڈیے، اُن کو راضی کرکےﷲ اور اُس کے پیارے رسول ﷺ کو راضی کرلیجیے اور اکمل جیسا سعادت مند بیٹا آپ بھی بننے کی کوشش کیجیے، ورنہ بقول شاعر:

اے ضیا ؔ ماں باپ کے سایے کی ناقدری نہ کر

دھوپ کاٹے گی بہت جب یہ شجر کٹ جا ئے گا

                                    ****

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے