بدھ, 5, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتسورۃ الفاتحہ کی تفسیر

سورۃ الفاتحہ کی تفسیر

سورة الفاتحة
جناب مولانامرغوب الرحمن صاحب،صدررابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہار،معاون مہتمم جامعہ مدنیہ سبل پورپٹنہ

سب تعريفيں الله ہی کو لائق ہیں جو مربی ہیں ہر ہر عالم کے ۔وہ بڑے مہربان نہایت رحم والے ہیں ۔جو مالک ہیں روز جزا کے ۔ہم آپ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور آپ ہی سے درخواست اعانت کی کرتے ہیں ۔بتلادیجئے ہم کو رستہ سیدھا ۔
رستہ ان لوگوں کا جن پر آپ نے انعام فرمایا ہے۔ نہ (رستہ) ان لوگوں کا جن پر آپ کا غضب کیا گیا ۔ اور نہ ان لوگوں کا جو (رستہ سے ) گم ہوگئے ۔
وجہ تسمیہ:سورۃ الفاتحہ مکی اور مدنی ہے۔اس سورت کانام ”فاتحۃ الکتاب “ اور ” ام القرآن“ بھی ہے، ”فاتحۃ الکتاب “ اس لئے کہتے ہیں چونکہ قرآن اسی سے شروع ہوتاہے اور ” ام القرآن“ اس لئے چونکہ قرآن کی اصل ہے۔اور اسی سورت کو سبع مثانی بھی کہتے ہیں کیونکہ اس کی بالاتفاق سات آیتیں ہیں اور نماز میں مکرر پڑھی جاتی ہیں ،یا اس لیے مثانی کہا گیا ہے کہ ایک بار مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے اور ایک بار مدینہ منورہ میں، زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ سورہ فاتحہ مکی ہے اور سورہ حجر سے پہلے نازل ہوئی تھی۔
سورۃ الحمدکا نام سورہ الکنز بھی ہے۔ اسحاق بن راہویہؒ نے حضرت علی ؄ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ یہ سورت اس خزانہ سے نازل ہوئی ہے جو عرش کے نیچے ہے۔ اس سورت کا نام سورہ شفاء بھی ہے۔یہ ہر بیماری کے لیے شفا ہے۔
”اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ“سب طرح کی تعریف خدا ہی کو(سزاوار) ہے جو تمام مخلوقات کا پروردگار ہے ۔کسی اختیاری خوبی پر زبان سے تعریف کرنے کو حمد کہتے ہیں۔ خواہ اس میں نعمت کی خصوصیت ہو یا نہ ہو۔ اس لیے حمد با عتبار متعلق شکر کی نسبت عام ہے کیونکہ شکر نعمت کے ساتھ مخصوص ہے اور باعتبار مورد کے خاص ہے، (ادائیگی کے اعتبار سے شکر سے خاص ہے )کیونکہ شکر زبان و دل اور دیگر تمام اعضاء سے صادر ہوسکتا ہے، ( اور حمد صرف زبان سے خصوصیت رکھتی ہے) اسی لیے رسول خدا ﷺنے فرمایا ہے : ”الحمد رأس الشُکر بما شَکر اللہ عبد لا یحمدہ “ کہ حمد شکر کی اصل ہے جس شخص نے خدا کی حمد نہ کی اس نے ذرا بھی شکر نہ کیا۔ اس حدیث کو عبدالرزاق نے بروایت قتادہ اور انہوں نے بروایت عبد اللہ بن عمر بیان کیا ہے ۔اور مدح حمد کی نسبت عام ہے، کیونکہ مدح صرف خوبی پر ہوا کرتی ہے۔اس کا اختیاری یا غیر اختیاری ہونا ضروری نہیں۔
الحمدمیں لام تعریف یا تو جنس کے لیے ہے اور حمد کے اُس مضمون کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ جسے ہر شخص جانتا ہے۔ یا استغراقی ہے کیونکہ ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے وہ افعال عباد کا خالق ہے خود فرماتا ہے : و ما بکم من نعمۃٍ فمن اللہ ( لوگو ! تم کو جو کچھ نعمت ملی ہے خدا ہی کی طرف سے ہے) اس میں اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ زندہ و قادر، ارادہ کا مالک اور عالم ہے۔ اس لیے ہر طرح کی حمد کا مستحق ہے۔
”لِلّٰہِ “( اللہ کو ہے) اس میں لام اختصاص کا ہے۔ ( یعنی ہر طرح کی حمد اللہ کے لیے مخصوص ہے) اور جملہ خبریہ اسمیہ استحقاق حمد کے استمرار پر دلالت کررہا ہے اور اس جملہ سے ثناء کرنا مقصود ہے اور بندوں کو حمد کی تعلیم دی گئی ہے۔ تقدیر جملہ یہ ہے قولُوْا اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ (لوگو ! الحمداللہ کہا کرو) اس تقدیر کی ضرورت اس لیے ہے کہ آیت اِیَّاکَ نَعْبُدُسے مناسبت پیدا ہوجائے۔ ( کیونکہ نَعْبُدُ کے قائل بندے ہیں۔ )
”رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ“(جو سارے جہان کا رب ہے) رب کے معنیٰ مالک کے ہیں۔ اور لفظ رب تربیت (مصدر) کے معنی میں بھی ہوسکتا ہے۔ آہستہ آہستہ درجہ کمال تک پہنچا دینے کو تربیت کہتے ہیں اس وقت مصدر کا اطلاق بطورمبالغہ ہوگا ۔ رب کا اطلاق بلاقید اضافت غیر اللہ پر نہیں ہوسکتا۔ اس آیت میں اشارہ ہے کہ عالم ابتداء کی طرح بقا میں بھی رب کا محتاج ہے اور عالَمِیْنَ عالَم کی جمع ہے ۔عالم اس چیز کو کہتے ہیں جس سے صان ۔
”اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ“ (بہت مہربان ،نہایت رحم والا۔)
”مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ“( انصاف کے دن کامالک ہے۔)
”اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ“(اے پروردگار)ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ۔ معنی یہ ہیں کہ اے خدا جو صفات مذکورہ کے ساتھ متصف ہے ہم خاص کر تیری ہی بندگی کرتے اور تجھی سے توفیق اطاعت کے خواستگار ہیں اور نہ صرف عبادت میں ہی تجھ سے امداد کے طالب ہیں بلکہ اپنے سارے چھوٹے بڑے کاموں میں تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔ چونکہ سلسلۂ کلام میں ایک طرز سے دوسرے طرز کی طرف انتقال کرنا غیبت سے خطاب، خطاب سے غیبت، تکلم سے خطاب و غیبت اور غیبت و خطاب سے تکلم کی جانب التفات کرنا عرب کی عام عادت ہے اور اس سے ان کی غرض صرف سننے والے کے دل میں رغبت وشوق کا پیدا کرنا منظور ہوتا ہے اس لیے یہاں بھی اس کی رعایت کی گئی اور غیبت کے اسلوب سے خطاب کی طرف انتقال کیا گیا۔
عبادت اصل میں انتہاء درجہ کے خضوع اور اظہار فروتنی کا نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل زبان اپنے محاورات میں بولاکرتے ہیں طَرِیْقٌ مُعَبَّدٌ یعنی پامال راستہ اور نَعْبُدُ و نَسْتَعِیْنُ دونوں فعلوں میں ضمیر جمع متکلم ہے۔ اس سے قاری اور اس کے ساتھ والے مراد ہیں اور اس میں التزام جماعت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔
حضرت ابن عباس ؄ نے فرمایا : نَعْبُدُ کے معنی ہیں نَعْبُدُکَ وَ لَا نَعْبُدُ غَیْرَکَ (یعنی خداوندا ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور تیری عبادت میں غیر کو شریک نہیں کرتے) اس اثر کو ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے بطریق ضحاک ابن عباس ؄ سے روایت کیا ہے۔
”اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ“(ہم کو سیدھے رستے چلا)اِھْدِنَایہ اُس اعانت اور مدد کا بیان ہے جو اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ میں طلب کی گئی تھی۔ (مطلب یہ ہے کہ خداوندا ہمیں سیدھی راہ دکھا) چونکہ سیدھے رستہ کی ہدایت تمام باتوں میں اہم اور مقصود اعظم تھی اس لیے اس کو علیحدہ ذکر کردیا گیا۔ ہدایت کے اصلی معنی لطف و مہربانی کے ساتھ رہنمائی کرنے اور رستہ بتانے کے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا استعمال ہمیشہ خیرو نیکی میں ہوا کرتا ہے یہ لفظ اور اس کے مشتقات اصل میں تو لام اور الی ہی کے ساتھ متعدی ہوا کرتے ہیں مگر کبھی کبھی بغیر کسی واسطہ کے خود ہی متعدی ہوجاتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ دعا ہے نبی کریم ﷺ کی اور نیز تمام مسلمانوں کی اور اگرچہ وہ پہلے ہی سے آسمانی ہدایت پر تھے، مگر پھر بھی خدا تعالیٰ نے استقامت و ثابت قدمی اور مزید ہدایت طلب کرنے کے لیے یہ دعا تعلیم فرمائی کیونکہ اہلسنّت کے مذہب کے مطابق خدا تعالیٰ کے الطاف و ہدایات کی کوئی انتہاء اور حد نہیں ہے۔
”المُسْتَقِیْمَ “کے معنی مستوی اور سیدھے کے کئے ہیں، مگر مراد طریق حق ہے اور بعض کہتے ہیں۔ ملت اسلام ان دونوں قولوں کی نسبت ابن جریر نے ابن عباس ؄ کی طرف کی ہے۔ ابو العالیہ اور امام حسن نے اِھْدِنَاالصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَکی تفسیر میں کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا اور ان کے دو اصحاب ابوبکر و عمر ؄ کا راستہ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :میرے بعد میری سنت اور خلفاء راشدین کی سنت کو خوب مضبوط پکڑو اور فرمایا میرے بعد دو شخصوں ابوبکر؄ و عمر؄ کی اقتدا کرو۔
”صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ : یہ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ “سے بدل ہے اور بدل بھی بدل کل جس کا فائدہ تاکید ہے اور اس بات پر استدلال ہے کہ ان لوگوں کا راستہ وہ ہے جس کے مستقیم ہونے کی شہادت دے دی گئی ہے ( مطلب یہ ہے کہ خداوندا ہمیں ان لوگوں کا راستہ دکھا جن پر تو نے اپنا فضل کیا) اور ان سے وہ باخدا اور نیک دل لوگ مراد ہیں جنہیں خدا نے ایمان اور طاعت پر ثابت قدم رکھا یعنی انبیاء علیہم السلام اور صدیقین اور شہداء اور صالحین۔
”غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْن : یہ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ “سے بدل ہے یعنی جن پر خدا نے اپنا فضل کیا۔ ان سے وہ لوگ مراد ہیں جو غضب خدا وندی اور گمراہی سے سالم و محفوظ ہیں یا صفت کا شفہ یا صفت احترازیہ ہے۔ بشرطیکہ موصول نکرہ کے قائم مقام فرض کیا جائے اور اس سے کوئی معین اور مقرر گروہ مراد نہ لیا جائے۔

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے