سرور چشتی اور نفرت انگیز ایجینڈے،شفیق الرحمٰن نئی دہلی

71

سرور چشتی اور نفرت انگیز ایجینڈے
شفیق الرحمٰن
نئی دہلی
مکرمی:پیغمبر اسلام کے خلاف توہین آمیز تبصرےپر دنیا نے متعدد پر تشدد رد عمل دیکھے۔مختلف مذاہب، ذات اور نسلوں کی موجودگی کے پیش ے نظر ہندوستانی تناظر میں صورتحال حساس ہو جاتی ہے۔حال ہی میں، سرور چشتی، ایک خود ساختہ صوفی نے اجمیر میں حضرت محمد پر توہین آمیز تبصرے کے خلاف مظاہرہ کرنے کے لیے ایک مظاہرہ کیا۔ انہونے عدالتی نظام پر سوالیہ نشان لگایا اور ہندوستانی مسلمانوں سے انتقامی کاروائ کے طور معاملہ کو اپنے ہاتھ میں لینے کو کہا۔سرور چشتی کے مظاہرے نے ہمارے پاس دو اہم چھوڑے ہیں:پیغمبر اسلام کی شان کو مجروح کرنے والوں کے بارے میں اسلام کیا کہتا ہے اور دسرا یہ کہ وبائ امراض کے درمیان ایک بڑے مظاہرے کے انعقاد کے بارے میں اسلام کیا کہتا ہے؟
اسلام کی محبت، معافی اور بھائ چارہ کا مذہب ہے جو تشدد کو نظر انداز کرتا ہے جسے نبی اکرم(ص) اور ان کے صحابہ اکرام نے کبھی نہیں مانگا تھا۔
وہ ہمیشہ اسلام کی عظیم تر ترقی کے لئے معافی پر یقین رکھتے ہیں۔ بہت ساری مثالوں میں یہ عکاسی کی گئ ہے کہ حضرت محمد(ص) نے اپنے پیروکاروں کو صبر کا مظاہرہ کرنے اور دوسروں کو معاف کرنے اور کسے پر تشدد اقدام اٹھانے اور ہنگامہ آرائ کرنے والے لوگوں کو اس کی بے عزتی کرنے کا درس دیا۔ انہونے اپنے پیروکاروں سے کہا کہ وہ اللہ کی قدرت کے لئے صبر سے انتظار کریں جو ایک دن کسی کا دل بدل سکتا ہے۔شیخ صالح بن فوز انال فوزان نے کہا کہ کسی مومن کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ نبی کریم(ص)کی بے عزتی کرتے ہوے کسی بھی واقعے کی تشہیر کریں یا اس کو اجاگر کریں۔ یہ واجب ہے کہ یہ پوشیدہ ہے اور نہ پھیلائے۔ اس پر تنقید کی جا سکتی ہے لیکن پھیل نہیں سکتی۔ ایسے لوگوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوے، مسلمانوں کو ان کو معاف کرنا چاہئیے اور تعمیری معاشرے کی ترقی کے ان کی طرف ان کی محبت کو آگے بڑھانا ہے۔یہاں مختلف صحاح حدیث اور قرآنی آیات موجود ہیں جو خاص طور پر مسلمانوں کو وبائ امور کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کرتی ہیں جیسے معاشرتی فاصلہ بر قرار رکھنا، ایک جگہ سے دوسرے جگہ جانے سے گریز کرنا وغیرہ۔ وبائ امراض کے درمیان مظاہرے کرکےسرور چشتی نے اسلام کے دو اصولوں کے خلاف ورزی کی۔ انہونے پیار اور شفقت سے متعلق پیش گوئ کی تعلیم کی نہ صرف نا فرمانی کی بلکہ وبائ امراض سے متعلق اسلامی اصولوں کی بھی خلاف ورزی کی۔ جیسا کہ صحیفوں سے پتا چلتا ہے کہ، اس کے عمل اسلام کے ساتھ یقینی طور پر تصدیق نہیں کرتے ہیں۔ایک انسان کی حیثیت سے، ہر ایک کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ قادر متعلق خدا ہر چند اور ہمہ جہت ہے جو کسی کا بھی دل بدل سکتا ہے۔کچھ سستے فوائد کے لئے چھوٹی موٹی سیاست میں ملوث رہنے کے لئے، سرور چشتی جیسے سیاستدان اور دوسرے تمام مسلمانوں کو معاملات میں پیغمبر اسلام کی تقلید کرنی چاہئے۔ جو نفرت اور فرقہ وارانہ بد نظمی پھیلاتے ہیں اور پوری دنیا کے لئے ایک مثال پیش کرتے ہیں۔ رمضان المبارک کے اس مقدس مہینے میں، محبت اور بھائ چارے کو پھیلانے اور ہندوستانی باشندوں کی بنیاد رکھنے کی کوشش کرنے والوں کو شکست دینے دیں۔