سروجہ پنچایت کو دو حصوں میں تقسیم اورچکمکہ میں ہائی اسکول قائم کیاجائے

54

سروجہ پنچایت کو دو حصوں میں تقسیم اورچکمکہ میں ہائی اسکول قائم کیاجائے
سماجی کارکن شاہنوازبدرقاسمی نے مقامی ایم پی و ممبراسمبلی سے ملاقات کرکے مطالبہ کیا
سہرسہ، وژن انٹرنیشنل اسکول کے ڈائریکٹر وسماجی کارکن شاہنواز بدر قاسمی نے مقامی ایم پی چودھری محبو ب علی قیصر اور ممبراسمبلی یوسف صلاح الدین سے ملاقات کرکے سمری بختیار پور بلاک کے مسلم اکثریتی گاؤں چکمکہ میں ایک ہائی اسکول کے قیام اور سروجہ پنچایت کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کامطالبہ کیاہے۔
شاہنواز بدر نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ ہمارا پنچایت سروجہ 18وارڈ پر مشتمل ہے،بڑی آبادی اور رقبہ کے اعتبار سے زیادہ پھیلاؤ کی وجہ سے پنچایت سطح پر ترقیاتی کام صحیح طریقے پر نہیں ہوپاتا ہے،جس کی وجہ سے سروجہ پنچایت کو بلاتاخیر دو حصوں میں باٹنا بیحد ضروری ہے۔انہوں نے بتایاکہ اس تقسیم کیلے گزشتہ دس سالوں سے مقامی باشندے کوشش کررہے ہیں لیکن ابھی تک کامیابی نہیں ملی ہے،بلاک اور ضلعی سطح کے افسران ٹال مٹول اور دلاسہ کے علاوہ اب تک کوئی کاروائی نہیں کی ہے۔پنچایت سطح کے جو ترقیاتی اسکیم ہیں اس سے زیادہ تر لوگ فائدہ نہیں اٹھاپاتے ہیں اس کی بنیادی وجہ بڑی آبادی ہے جب تک اس پنچایت کو دو حصوں میں تقسیم نہیں کیاجائے گا ترقیاتی کام ممکن نہیں ہے۔
شاہنواز بدر نے مقامی ایم پی اور ایم ایل اے سے ملاقات کرکے یہ مطالبہ بھی کیاکہ چکمکہ گاؤں میں ایک ہائی اسکول قائم کیاجائے تاکہ آس پاس کے بچے خاص طورپر لڑکیاں زیورتعلیم سے آراستہ ہوسکے،اس علاقہ کی پسماندگی کی بنیادی وجہ اچھے اسکولوں کا نہ ہوناہے،تعلیم ہی واحد سہارا ہے کہ ہم اپنے نونہالوں کو روشن مستقبل فراہم کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ دیہی سطح پر گاؤں اورپنچایت کی ترقی اور خوشحالی کیلئے بلاتفریق ہم سب کو آگے آناہوگا،پنچایت سطح کے جو نمائندے ہوتے ہیں وہ اتنے باشعور اور دوراندیش نہیں ہوتے اس لیے تعلیم یافتہ اور سماجی کاموں میں دلچسپی رکھنے والے حضرات اس کام کیلے ضرور آگے آئیں تاکہ ترقیاتی کام کے ساتھ اگلے پنچایت چناؤ میں ایسے امیدوار کو منتخب کیاجاسکے جو ترقیاتی کام کے ساتھ پر امن سماج کو بہتر بنانے میں اہم کرداراداکرسکے۔