رسید تحریک کے علم بردار، مشہور علمی شخصیت ماسٹر شاہد علی نم آنکھوں سے سپرد خاک اور اظہار تعزیت،

88

سمری بختیار پور(جعفر امام قاسمی) سہرسہ ضلع کے تحت سمری بختیارپورسب ڈویژن کے پورینی گاؤں باشندہ سرسید تحریک کے علمبردار ہمہ جہت علوم کے حامل استاذ الاساتذہ ماسٹر شاہد علی آج نم آنکھوں سے اپنے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کیے گئے،

IMG 20201108 WA0009

انہوںنے کل بروز سنیچر سہرسہ کے ایک نرسنگ ہوم میں آخری سانس لی،انہیں کل صبح ہی دل کا دورہ پڑا تھا،آنا فانا انہیں سہرسہ لے جایا گیا لیکن وہ جاں بر نہ ہوسکے،غور طلب رہے کہ وہ کافی زمانے سےذیابیطس کے مریض تھے،لیکن اس کے باوجود اپنی علمی سرگرمیوں میں دیوانہ وار مصروف رہے۔مرحوم کی پیدائش 30 جنوری1967 کو ہوئی،ابتدائی تعلیم اسلامیہ ہائی اسکول سمری بختیاپور سے پائی،1982 میں ہائی اسکول کا امتحان امتیازی نمبرات سے پاس کیااور اسکول کے ٹاپر رہے،بعد ازاں اعلی تعلیم کے لیے ایشیا کی عظیم دانش گاہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا رخ کیا جہاں سے انہوں نے جیولوجی میں بی ایس سی اور ایم ایس سی کیا،دوران طالب علمی خارجی اوقات میں وہ مختلف علوم و فنون کے مطالعہ میں غرق رہتے،ان کی علمی قابلیت کی بنا پر اے ایم یو کےمرکز برائے فاصلاتی نظام تعلیم کی جانب سے انہیں فاصلاتی کورس کی ایک دوکتابیں تالیف کرنے کی ذمہ داری دی گئی،جسے انہوں نے بحسن و خوبی انجام دیا،دوران طالب علمی انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلے کے خواہشمند بچوں کی رہنمائی کے لئے ایک راہنما کتاب بھی شائع کی تھی،مرحوم شاہد علی صاحب چونکہ سر سید تحریک سے جڑے ہوئے تھے اور اپنے علاقہ میں اس کو عملی جامہ پہنانے کے فکر مند تھے،اس لیے وہ ایم یوسے فراغت کے بعد گاؤں لوٹ آئے اور ریڈ روز اسکول تریاواں پھر انٹگرل اسکول رانی باغ سے وابستہ رہ کر تشنگان علوم کو اپنی علمی صلاحیتوں سے تاحیات سیراب کرتے رہے،اس دوران انہوں نے اپنے طلبہ و طالبات کے اندر علمی مقابلہ آرائی کی صلاحیت کوٹ کوٹ کر بھر دی تھی۔جس کے سبب اے ایم یو،جامعہ ملیہ اور دوسری تعلیم گاہوں میں ان کے تربیت یافتہ بچے با آسانی ٹیسٹ نکال لیا کرتے تھے،درس و تدریس کے علاوہ ان کے اندرانتظامی صلاحیت بھی بدرجہ اتم موجود تھی،چنانچہ وہ ان دونوں اسکول کے پرنسپل بھی تھے اوراسلامیہ پلس ٹو ہائی اسکول کی منتظمہ کمیٹی کے رکن اور مدرسہ اسلامیہ تریاواں کی منتظمہ کمیٹی میں صدر کے عہدہ پربھی فائز تھے۔انہیں گوناگوں صفات کی بنا پر علاقے کے لوگ انہیں سرسید ثانی کہا کرتے تھے،ان کے انتقال کی خبر ملتے ہی پورا علاقہ سوگوار ہو گیا اور ان کے آخری دیدار اور اہل خانہ سے تعزیت کے لیے ان کے گھر پر لوگ جوق در جوق پہنچنے لگے،کھگڑیاایم پی چودھری محبوب علی قیصر،مقامی ایم ایل اے ظفر عالم اور راجد امیدوار یوسف صلاح الدین نے بھی ان کے گھر پر پہنچ کر مرحوم کا آخری دیدار کیا اوراہل خانہ سے تعزیت کی۔آج صبح دس بجے مرحوم کی تدفین عمل میں آئی،نماز جنازہ علاقہ کی مشہور روحانی شخصیت پیر زادہ سید شاہ پروفیسر قسیم اشرف صاحب نے پڑھائی،

IMG 20201108 WA0008

اورمقامی قبرستان میں سپردخاک کیے گئے،تدفین میں ایم پی محبوب علی قیصر،ان کے صاحبزادے یوسف صلاح الدین،مفتی سعید الرحمٰن قاسمی،حافظ کوثر امام،پروفیسر ڈاکٹر ابوالفضل،ڈاکٹر معراج عالم،پروفیسر ڈاکٹر موصوف عالم،فیروزعالم،منہاج عالم،جلال الدین لطیفی،سراج الدین لطیفی،مولانا شفاء الدین لطیفی،مولانا مظاہر الحق قاسمی،صحافی شاہنوازبدرقاسمی،صحافی وجیہ احمد تصور،حافظ ممتاز عالم رحمانی،اےایم یو طلباء لیڈر ابوالفرح شاذلی،قاری جاوید اختر آسی،مولانا افسر امام قاسمی،مفتی فیاض عالم قاسمی،مولانا انظر عالم قاسمی سمیت علاقہ سمری بختیار پور،پپرا لطیف کھگڑیا اور دیگر مقامات سے تعلق رکھنے والے ان کے عقربہ،محبین اور ان کے شاگردوں کی جم غفیر نے شرکت کی،علاقے کے اس بحرالعلوم کو سدا کے لیے رخصت کرتے وقت سب کے دل غمگین اور آنکھیں اشکبار تھیں۔اس موقع پر نمائندہ سے بات چیت کے دوران کھگڑیاایم پی محبوب علی قیصر نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ ہمارے علاقہ کے لیے ماسٹر شاہد صاحب سر سید ثانی تھے،اپنی علمی سرگرمیوں کے ذریعے انہوں نے سرسید کی تحریک کو پروان چڑھایا،مرحوم کو بیک وقت سائنس،ریاضی،انگریزی،اردو،فارسی اور ہندی زبان پر مکمل دسترس حاصل تھی،ان کے جانے سے بڑا خلا پیدا ہوا ہے،جس کی بھرپائی مشکل ہے،وہیں راجد امیدوار یوسف صلاح الدین نے کہا کہ ہم لوگوں نے آج ایک ہیراکو کھودیا ہے،اس کی تلافی نہیں ہوسکتی،لیکن جس تحریک کو یہ لے کر چلے تھے ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس کو مزید پروان چڑھائیں۔اس موقع پر امارت شرعیہ کے نائب صدر مفتی سعید الرحمن قاسمی نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ مرحوم ہمہ جہت علوم کے حامل،کثیر المطالعہ،نہایت شریف، سلیم الطبع اور ملنسار تھے،وہ دنیاوی علوم کے علاوہ دینی علوم میں بھی مہارت رکھتے تھے،چنانچہ وہ قرآن و حدیث اورعلم تصوف میں بھی دلائل کے ساتھ کلام کیا کرتے تھے،ان کے جانے سے بڑا خلا پیدا ہوا ہے،علاقے والوں کی ذمہ داری ہے کہ ان کے مشن کو جاری و ساری رکھیں تاکہ جو خلا پیدا ہوا ہےکسی قدراس کی بھرپائی ہو سکے۔