سرحدوں کے بغیر ،راشٹر،یا دنیا کا تصور معراج احمد نئی دہلی

31

سرحدوں کے بغیر ،راشٹر،یا دنیا کا تصور
معراج احمد
نئی دہلی
مکرمی: قوم پرستی’ کے تصور سے مراد ‘آئیڈیا’ اور ‘تحریک’ ہے جو کسی قوم کے مفاد کو اس کی مادر وطن پر ترجیح دیتی ہے۔ قوم پرستی کا واضح مطلب یہ مطالبہ کرتا ہے کہ قوم خود کو کسی بیرونی مداخلت کے بغیر چلائے ، جو خود اپنے فیصلے لینے میں آزاد ہے اور وہ قوم ہی سیاسی طاقت کا ایک فطری ذریعہ ہے۔ قوم پرستی کا مقصد ایک ایسی قومی شناخت بنانا اور برقرار رکھنا ہےجوثقافتی ،نسلی،جغرافیائی محل وقوع،زبان،سیاست،مذہب،روایات اور عقیدے کا مشترکہ معاشرتی کردار ہے، جو واحد تاریخ میں اٹل عقیدہ ہے۔ تاہم آج کے عالمی دنیا میں ‘قوم پرستی مختلف طریقوں سے ایک بار پھرابھر رہی ہے اور وہ دنیا کی سیاست کو متاثر کررہی ہے۔ اسرائیل،فرانس،چین ، انگلینڈ اور امریکہ جیسے مختلف ممالک آہستہ آہستہ آگے آرہے ہیں اور اپنی قوم پرستی کو بچانے کے لئے کوشاں ہیں اور عالمی سیاست میں اپنی شناخت دوبارہ قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہاں قوم پرستی صرف تعصب کے احساس کی بناء پر ہی موجود نہیں ہےبلکہ یہ ثقافت ، زبان ، علاقائیت ، نسل پرستی جیسے بہت سے طریقوں سے موجود ہے۔ بھارت میں بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد ، 2014 سے قوم پرستی پر ایک بڑی بحث چل رہی ہے۔اس عالمی دنیا میں ، جہاں نسلی یا ثقافتی اقدار تقریبا ختم ہوچکی ہیں ، قوم پرستی کا عروج کسی تحفہ سے کم نہیں ہے اور یہ موجودہ دنیا کے لئے ‘نجات دہندہ’ ثابت ہورہا ہے ، جو نہ صرف ثقافتی اقدار کو تقویت دیتا ہے۔ معاشرے کی بقا ہے۔اس نے خود کو معاشرے کی بقا کے لئے ایک اہم عنصر بھی ثابت کیا ہے۔معراج نے مزید کہا کہ سرحدوں کے بغیر ‘راشٹر راج’ یا ‘دنیا’ کا تصور کرنا صرف ناممکن ہی نہیں ہے ، لیکن ایسا کرنے سے تباہی اور بربادی پیدا ہوسکتی ہے۔ وہ تمام لوگ جو ‘خلیفہ راج’ کے تصور کو بڑھانے کے مقصد سے قوم پرستی کے تصور کو ختم کررہے ہیں ، چاہتے ہیں کہ یہ عالمی نظام منہدم ہو۔ یہ حال ہی میں ختم ہونے والی جنگوں سے بھی ظاہر ہے۔ امن کو برقرار رکھنے کے لئے دنیا میں ایک نظام جنگ کا ہونا لازمی ہے اور جب تک ‘قوم پرستی کی روح کو برقرار رکھا جاتا ہےتب تک یہ عالمی نظم برقرار رہ سکتا ہے۔