سحری کی برکت اورہمارے جوانوں کی غفلت

117

سحری کی برکت اورہمارے جوانوں کی غفلت
ابھی گذشتہ کل کی بات ہے،ایک جوان نے اپنے روزے کی روداد سنائی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں بغیر سحری کے روزہ رکھتا ہوں ، یہ ہماراہرروزکا معمول ہے۔مجھےان کی باتوں سے یہ اندازہ ہوا کہ یہ بندہ اپنا یہ عمل فخریہ بیان کررہاہے، لیکن مزیدپوچھنے پر معلوم ہواکہ جناب موبائل پر دیر رات مصروف رہتے ہیں اورسحری کی ساعت ہمایوں نصیب نہیں ہوتی ہے۔یہ ایک واقعہ نہیں ہے بلکہ ان جیسےڈھیروں واقعات ہیں جہاں سحری کو لیکر بڑی غفلت سامنے آرہی ہے، سحری کے فوائد وبرکات سے نوجوان طبقہ محروم ہواجارہاہے،تسلسل اور عام مزاج کو دیکھ کر خطرہ تو اس بات کا بھی ہے کہ کہیں سحری نام کی چیز سے یہ ناواقف نہ ہوجائیں، ماہ مبارک کے فرض روزوں کا بھی بغیر سحری کے رواج عام نہ ہوجائے۔اسی ضرورت کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ تحریر لکھی جارہی ہے، مزید اس عنوان پر بولنے اور لکھنے کی ضرورت درپیش ہے۔ آج کی تاریخ میں شب بیداری کی بھی نئی تشریح سامنے آگئی ہے، پہلےیہ لفظ عبادت وریاضت کے لئے خاص تھا، اب اسمارٹ فون کی دین ہے کہ ہمارا نوجوان طبقہ دیر رات تک اسمیں صحرا نوردی کرتا ہے،نتیجتاسحری و سحرخیزی کےعمل سےمحروم ہوجاتا ہے،اور ایک ایسے روزہ کا رکھنے والا بن گیا ہے جو بغیر سحری کے شروع ہوتا ہےاورافطاری پر تمام ہوتا ہے۔سحری کاصحیح فہم نہ ہونے کی وجہ کر ان کے نزدیک اس کی حیثیت صرف کھانے پینے کی ایک چیز بن گئی ہے۔ اسی لئے ہمارا جوان بھائی یہی کہتا ہے کہ میں نے کھالیا ہے،مزید کھانے کی خواہش نہیں ہے،مجھے جگایا نہیں جائے پلیز!!!!!!!جبکہ سحری صرف کھانے پینے کے عمل کا نام نہیں ہے بلکہ روزہ کی نیت سے کھاناپیناسحری ہے،اوریہ مستقل عبادت کا نام ہے۔رات کے کھانے کا نام سحری نہیں ہے اورنہ رات کا کھانا سحری کے قائم مقام ہے۔یہ روزہ رکھنے کی نیت سے صبح صادق سے پہلے کھایا اور پیاجانے والا عمل ہے۔ مسئلہ کی رو سے اگر ایک آدمی بالکل شکم سیر ہے،اسے کچھ بھی کھانے کی خواہش نہیں ہے باوجود اس کےسحری کے طور پرکچھ نہ کچھ کھانا اس کےلئےمسنون ہے،اگر نہیں کھا سکتا ہے تو دوچار گھونٹ پانی ہی پی لے۔جبھی یہ سحری کہلائی جاسکتی ہےاوراس کے اجر کا یہ سزاوار ہوسکتا ہے ۔ورنہ ماقبل کا کھانا پینا نہ سحری ہے اور نہ یہ عمل حدیث کی روشنی میں اجر و ثواب کا حامل ہے،حدیث تو یہ کہتی یہ سحری کا کھانامسلم وغیر مسلم کے درمیان، اور اس کے روزے کے مابین حد فاصل ہے۔مسلم شریف کی حدیث ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ہمارے اور اہل کتاب کے روزہ میں فرق سحری کا لقمہ ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بڑی تاکید فرماتے، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، مسلم شریف کی حدیث ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:سحری کھایا کرو اسمیں برکت ہوتی ہے۔یہاں لفظ برکت کہ کر شریعت نے سمندر کو کوزے میں بند کردیا ہے،برکت ثواب کا بھی نام یے اور مختلف قسم کے فوائد کے فوری حصول سے بھی تعبیر ہے،اس عمل کے ذریعے جہاں آخرت میں اجر و ثواب ملتا ہے وہیں دنیا میں ایک روزے دار کو طاعت وعبادت ودیگر عبادت کی قدرت بھی ملتی ہے،سحری والے روزے دار اور بدون سحری کے روزہ داروں میں نمایاں فرق دیکھنے میں آیا ہے،کسی کودن بھر عبادت وتلاوت اور تسبیح ومصلی نصیب ہے،تو کوئی بستر پر پورا دن گزار دیتا ہے نوافل کیا فرائض کی ادائیگی پر بھی قدرت نہیں رکھتا ہے۔
طبی لحاظ سے بھی آج کی تاریخ میں سحری ایک ناگزیر عمل بن گیا ہے، یہ کرونا وائرس نے جہاں خدا کی طاقت کے سامنے انسان کو زیر وزبر کردیا ہے، وہیں سحری کی اھمیت کا بھی قائل بنادیا ہے، جسم میں دفاعی طاقت کے لئے صبح وشام کا کھانا ازحد ضروری ہے، حدیث میں بالخصوص ان دونوں وقت کے کھانے کی بڑی تاکید آئی یے،ایک روزہ دار کے لئے سحری وافطاری اس کے قائم قام ہے۔
اس عنوان پر بیداری لانے کی ضرورت ہے،سحری کے کھانے کو ہلکے میں لیناروزہ ورمضان ہی کے لئے نہیں بلکہ یہ دنیا وآخرت میں بڑے نقصان کا ذریعہ بھی ہے۔نوجوان بھائیوں کو بالخصوص اس پر سنجیدہ نوٹ لینے کی ضرورت ہے۔یہ سمجھنا کہ یہ عمل سنت ہی ہے فرض تونہیں ہے،یہ بھی سم قاتل ہے،فرائض کی تکمیل سنتوں سے ہی ہوتی ہے، فرض روزہ بھی مسنون سحری سے پایہ تکمیل کو پہونچتا ہے اور عنداللہ قبولیت سے ہمکنار ہوتا ہے ۔بلکہ اگر جان بوجھ کر کوئی مسلمان اپنا یہ معمول بنالے کہ اسے سحری نہیں کرنی ہے تو یہ غیروں کی مشابہت اختیار کرنا لازم آتا ہے، اور اس عنوان پر صریح حدیث موجود ہے کہ جوغیر کی مشابہت اپناتا ہے وہ غیر ہی کہلاتا ہے، الامان والحفیظ۔اللہ ہماری اور ہمارے نوجوانوں کی حفاظت فرمائے ،اس مبارک عمل وعبادت کو ہماری روزے اور رمضان کی زندگی کا لازمی حصہ بنادے، آمین ۔
ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ
رابطہ، 9973722710