جمعرات, 29, ستمبر, 2022
ہوماعلان واشتہاراتساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتہ پروفیسر حسین الحق کا انتقال اردو دنیا کا...

ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتہ پروفیسر حسین الحق کا انتقال اردو دنیا کا ناقابل تلافی نقصان : مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی

پٹنہ(پریس ریلیز):پروفیسر حسین الحق مشہور افسانہ نگار، پرانی قدروں کے امین اور ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتہ تھے، ان کی وفات اردو دنیا کے لئے بڑا خسارہ اور ناقابل تلافی نقصان ہے۔ مذکورہ بالا خیالات کا اظہار بہار اسٹیٹ مومن کانفرنس کے صدر مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی نے پریس ریلیز میں کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پروفیسر حسین الحق بہار کے شہر سہسرام سے تعلق رکھتے تھے، وہ ۲۰۱۴ء میں مگدھ یونیورسٹی کے صدر شعبہ اردو کے عہدہ سے سبکدوش ہوئے، وہ اردو ادب میں اعلیٰ مقام رکھتے تھے، ان کی خدمات کے اعتراف میں ۲۰۲۰ء میں ساہتیہ اکادمی نے ایوارڈ سے نوازا، اس سے قبل وہ بنگال اردو اکادمی اور بہار اردو کادمی کی جانب سے ایوار ڈ سے نوازے جاچکے تھے، وہ غالب ایوارڈ سے بھی نوازے گئے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پروفیسر حسین الحق کا پہلا ناول ’’بولو مت چپ رہو‘‘ شائع ہوا، پھر دوسرا ناول ’’فرات‘‘ کے نام سے شائع ہوا، جس کی بڑی پذیرائی ہوئی۔ ۲۰۱۷ء میں ان کا تیسرا ناول ’’اماوس میں خواب ‘‘ منظر عام پر آیا، ان کی تحریروں اور ناول کے کرداروں نے قارئین کو متاثر کیا، اس ناول میں موجودہ صورت حال کی عکاسی پورے طور پر موجود ہے، اس میں ملک سے محبت، ہندومسلم بھائی چارہ ہندوستانی تہذیب وثقافت اور آج کی سیاست کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور اس میں وہ پوری طرح کامیاب ہیں، اسی ناول پر انہیں ساہتیہ اکادمی نے ایوارڈ سے نوازا۔انہوں نے مزید کہا کہ سمینار اور ادبی محفلوں میں ان سے ملاقات ہوتی رہتی تھی، وہ خلیق اور ملنسار تھے، جب بھی ملاقات ہوتی، محبت اور خوشی سے ملتے، ان کے انتقال کی خبر سن کر بہت افسوس اور غم ہوا۔ وہ آج ہمارے درمیان نہیں رہے، لیکن وہ اپنے علمی کارناموں کی وجہ سے زندہ رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے