ساگ سبزی اور بیٹےکی قربانی مفتی ہمایوں اقبال ندوی

69

ارریہ(توصیف عالم مصوریہ)نمائندہ نوائے ملت
چند ہی ایام باقی رہ گئے ہیں،عیدقرباں کی آمد ہونے والی ہے۔اس سے قبل سوالات کا موسم رہتا ہے ۔اس معاملے میں اس بارریاست اترپردیش نمبرایک پر ہے،وہاں کےایک ریاستی وزیر نے مسلمانوں کو نصیحت دی ہے کہ ساگ سبزی سے قربانی کرلیجئے۔ جبکہ سائنسی تحقیقات سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ ساگ سبزیوں میں بھی جان ہوتی ہے،ان کی نسل بھی بڑھتی ہے،پیڑپودوں میں خوشی وغم کےجذبات ہوتےہیں۔گاجرمولی اوربھینس بکری کوہم ایک ڈنڈےسے یہاں پرہم ہانک نہیں رہےہیں بلکہ یہ باورکراناچاہتےہیں کہ وہ جاندارہیں جس کےبغیرایک انسان رہ نہیں سکتاہے۔بلکہ انسان اس دھرتی پر جتنی بھی غذائیں کھا رہا ہے وہ سب کے سب جاندار ہی ہیں۔بے جان شئی کوایک انسان بطور غذا کے کھاتا بھی نہیں ہےاورنہ ہی کھاسکتا ہے۔اگر بالفرض کوئی یہ طےکرلےکہ ہمیں بے جان چیزیں ہی کھانی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے مٹی اور پتھر کھانا ہوگاجس کوکھانے کے لئےاسوقت کوئی بھی تیار نہیں ہے،خواہ کسی دھرم اورکسی مذہب سے اس کاتعلق ہو۔
اسی قربانی کے تعلق سے دوسرا سوال جو ٹیلیویژن ڈبیٹ کے درمیان مرکزمیں حکمراں جماعت کےایک ترجمان نےاٹھایاہےجو عجیب بھی ہے اور غریب بھی، آج تک کسی نےایسابےتکاسوال نہیں کیاہےاورنہ آئندہ اس کی امیدکی جاسکتی ہے،وہ اس لئے بھی حقیقت واقعہ کے بالکل خلاف ہے اسے اس جملے سے ادا کیا جاسکتا ہے کہ؛ بے سر پیر کا یہ سوال ہے ،لیجئے آپ بھی ملاحظہ کرلیجئے؛جب حضرت ابراہیم ع نےاپنےبیٹےکوقربان کیاتوآپ مسلمان بکراکیوں ذبح کرتےہیں؟                                     یہ بالکل صحیح ہےکہ قربانی کی تاریخ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے جڑی ہے، خود آقائے مدنی محمد صلی اللہ علیہ سے جب پوچھا گیا تو آپ نے بھی یہی کہا کہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے ،اسے اسلام میں لازمی قرار دیا گیا ہے البتہ یہ کہنا کہ حضرت ابراہیم ع نے اپنے بیٹے کو ذبح کردیا تو مسلمانوں کو بھی ایسا کرنا چاہئے یہ کسی بھی اعتبار سے درست نہیں ہے ۔قربانی کامطلب اپنےبیٹےکوذبح کرناہرگزنہیں ہےاورنہ خداکویہ مطلوب ہے،اورنہ اس کی کوئی دلیل ہے۔             قرآن میں لکھا ہے کہ حضرت ابراہیم نے خواب میں دیکھا تھا کہ وہ اپنی اکلوتی اولاد حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کررہے ہیں تو یہ معمولی خواب نہیں تھا بلکہ نبی کا تھا، اپنے بیٹےحضرت اسماعیل علیہ السلام سے اس کاذکرکیاتو ان کا بھی یہی جواب تھا کہ جو آپ کو اللہ کا حکم ہوا ہے اسے ضرور کیجئے ۔یہ باپ بیٹے جب اس خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لئے تیار ہوگئے، اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربانی کرنے کے ارادے سے لٹادیا ،خدا کے حکم پر بیٹے کی محبت کوئی حیثیت نہیں رہ گئی اوراس کا عملی ثبوت مل گیا تو خدا نے جبریل کے ذریعے ان کواس سےالگ کردیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کے بجائے ایک دنبہ قربانی کی، اور یہی قیامت تک کے لئے سنت جاریہ بن گئی ۔ ایک مسلمان آج کی تاریخ میں بھی اسی سنت کو زندہ کرتا ہے گواپنے کو خدا کے حکم پر جھکاتا ہے اور اپنی خواہشات کی قربانی کرتا ہے اسی لئے وہ مسلمان کہلاتا ہے ۔جب حضرت ابراہیم ع وحضرت اسماعیل ع نے اپنے کو خدا کے سپرد کردیا تھا، ایک باپ خدا کے حکم پر ذبح کرنے کے لئے تیار ہوئے تودوسراذبح ہونے کے لئے ،قرآن نے اس موقع سے دونوں کو مسلمان کہا ہے:فلما اسلما وتلہ للجبین؛ (قرآن )جب ابراہیم اور اسماعیل اسلام لائے یا فرمانبرداری کی یا اپنے کو خدا کے سپرد کردیا ،
قربانی کے ذریعے دراصل اسی فرمانبرداری اور جاںسپاری کے عزم کو ہر سال مسلمانوں کے ذریعے دہرایا جاتا ہے جس کا بدل نہ ساگ سبزی ہے اور نہ بیٹا ہی ہوسکتا ہے ،نہ اسے نماز کے ذریعے ادا کیا جاسکتا ہے اور نہ زکوۃ سےاس قربانی کی یاد تازہ کی جاسکتی ہے ۔بلکہ ان ایام میں سب سے زیادہ ثواب کا کام خون بہانا ہےانسانوں کا نہیں بلکہ قربانی کے جانوروں کا ،اور یہ خون گوشت خدا تک نہیں پہونچتا ہے خود قرآن کہتا ہے وہاں تو دل کے ارادے اور جذبے کی قدر ہوتی ہے ۔اور ہاں اس بات کا عزم ضرور لیا جاتا ہے کہ خدا کا حکم ہو تو بیٹا کیا ہے اس سے زیادہ محبوب چیز اپنی جان بھی اس کی راہ میں قربان کردینے میں کوئی دریغ نہیں ہے۔
افسوس کی بات ہے کہ جو خداکو منظور نہ تھا اور جس کو خدا نے ہونے نہ دیایعنی یہ کہ ایک باپ اپنے بیٹے کو ذبح کرے اس پر آج کی تاریخ میں اصرار ہے۔اور جو خدا کو منظور ہے یعنی جانور کی قربانی  اور حضرت ابراہیم علیہ السلام سے لیکر اب تک پوری دنیا میں جاری ہے اور یہ سنت ابراہیمی قیامت تک جاری وساری رہے گی اس پر چند لوگوں کو اعتراض ہے ۔