بدھ, 5, اکتوبر, 2022
ہومنقطہ نظرساون کا پہلا پیر ہمایوں اقبال ندوی ارریہ

ساون کا پہلا پیر ہمایوں اقبال ندوی ارریہ

ساون کا پہلا پیر سوموار کے دن کو برادران وطن کے نزدیک بڑی اہمیت حاصل ہے،خاص پوجا ارچنا کا یہ دن ہوا کرتا ہے،شیوا کو خوش کرنے کے لئے اس دن برت رکھا جاتا ہے، یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ایسا کرنے سے بدحالی دور ہوتی ہے، زندگی میں خوشیاں آتی ہیں ،خوشحالی ودولت مندی کا دور شروع ہوجاتا ہے، یہی وجہ ہے ایک دوسرے کو اس کی مبارکبادی بھی دیتے ہیں، شوشل میڈیا پر ایسا کہتے ہوئے میں نےسنا ہے اور آپ بھی سنتے ہی رہتے ہیں، گزشتہ سوموار کے دن کو یادگار بنانے کی کوشش کی گئی ہے،روزنامہ اردو اخبار انقلاب میں بھی محکمہ موسمیات کی طرف سے پیش گوئی کی گئی کہ ساون کے پہلے پیر سے جھماجھم بارش ہونے جارہی ہے، ۱۵/اضلاع میں الرٹ کیا گیا ہے، شمالی بہار کے دواضلاع ارریہ اور کشن گنج میں موسلادھار بارش ہونےکی خبردی گئی،ساون کا پہلا پیر آکر چلا گیا ہے، آج منگل کا دن بھی گزر گیا ہے، تاہنوز کوئی بارش نہیں ہوئی ہے،فضا کچھ ابر آلود رہی مگر ایسا محسوس ہورہا ہے جیسے بارش اٹک گئی ہے اور برسنے کا نام نہیں لے رہی ہے، کہیں ضرورت سے زیادہ اس پیش گوئی پر یقین کو لیکر خدا ناراض تو نہیں ہوگیا ہے،
موبائل پر تکیہ کرنے والے بھی عاجز آگئے ہیں، بارش کے تعلق سے موبائل ایپ پر روزانہ بارش ہورہی ہے، اس کی مقدار بھی بتلائی جارہی ہے مگر سرزمین پر کچھ بھی نہیں ہے،دھان کی کاشت کو لیکر یہ علاقہ مشہور رہا ہے، آج یہاں خشک سالی ہے،کھیتاں دھوپ میں جل رہی ہیں اور انمیں دراڑیں پڑ رہی ہیں، کسان پریشان حال ہیں ،سیمانچل کایہ نشیبی علاقہ جو سیلاب زدہ کہلاتا ہے آج خشک سالی کا شکارہوگیا ہے،قدرت نےمحکمہ موسمیات کا دعوی بھی خارج کردیاہے اور موبائل ایپ بھی فیل ہوگیا ہے،
اس تعلق ساری پیش گوئیاں بیکار گئی ہیں اور قرآن وحدیث کی بات ہی ہرزمانے میں صادق وغالب آئی ہے، بارش جب آتی ہوئی معلوم ہوتی ہے تو پیش گوئی کردی جاتی ہے، ان مشینوں سے اس وقت بھی یہی ہورہا ہے، مگر کہاں بارش ہونی ہے،کتنی مقدار میں ہونی ہے اور کب ہونی ہے اس کا صحیح علم خدا ہی کو ہے۔
بخاری شریف کی حدیث میں لکھا ہوا ہے کہ بارش کب ہوگی اس کی صحیح خبر اللہ رب العزت ہی جانتا ہے، اللہ کے سواکوئی اس کا حتمی علم نہیں رکھتا ہے،سیٹلائٹ بھی زبان حال سے یہی اعلان کررہا ہے۔
حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ یہ پانچ چیزیں غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اللہ کے علاوہ کوئی نہیں رکھتا ہے، ماں کے حمل میں کیا ہے؟آئندہ کل کیا واقع ہونے جارہا ہے، بارش کب ہونے جارہی ہے، زمین کے کس خطہ میں کس کی موت واقع ہونے والی ہےاور قیامت کب قائم ہونے جارہی ہے، (بخاری )
غیب کی صرف یہی پانچ باتیں نہیں ہیں بلکہ غیب کا سارا علم یہ خدا کے لئے خاص ہے،اہل مکہ کاہنوں کے ذریعہ ان باتوں کو بالخصوص معلوم کیا کرتے اور اس راستے سے خود گمراہ ہوتے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا کرتے تھے،اس لئے بطور خاص اس کا ذکر قرآن وحدیث میں کیا گیا ہے،
آج ان کاہنوں کی جگہ مشینوں نے لے رکھی ہے، ہم اس کو آخری تحقیق اور آخری بات سمجھنے لگے ہیں اور اس کے ذریعہ گمراہی کے دہانےپر پہونچ رہے ہیں،سب سے سنگین مسئلہ شوشل میڈیا اور اخبارات کے ذریعہ ان امور میں بھی بڑی جرات وجسارت دیکھنے میں آرہی ہے، ساتھ خاص فکر کی اشاعت وترویج بھی کی جارہی ہے اس کا خیال ہمارے ذہن ودماغ نہیں آرہا ہے۔
مسلم شریف کی حدیث میں اس تعلق سے بڑی سخت بات کہی گئی ہے کہ جو یہ کہتا ہے کہ فلاں نچھتر کی وجہ سے بارش ہوئی ہے، ایسا شخص اسی پر ایمان رکھنے والا ہے، اللہ ہماری اور ہماری ایمان کی حفاظت فرمائے، آمین
آج جب مخلوق پریشان ہےاور علاقہ خشک سالی کا شکار ہے،یہ موقع قرآن وحدیث کے علم کو عام کرنے کا ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ رہی ہے کہ پریشانی اور مصیبت کی گھڑی نماز ودعا کے ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خدائی مددکےطلب گاراورحق دار ہوئے ہیں، خشک سالی میں آپ نے پانی کے لئے دعائیں بھی کی ہےاور نماز بھی پڑھی ہے، اسی لئے بارش کےلئے پڑھی جانے والی نماز کو نماز استسقاء اور اس کے لئے کی جانے والی دعا کو بھی استسقاء کہتے ہیں، آج نہ ہماری زندگی میں یہ نماز استسقاء ہے اور نہ ہی اس کے خاص دعا کا اھتمام ہے، بخاری شریف کی حدیث میں جمعہ کےدن خطبہ میں بارش کی دعا کی تعلیم کی گئی ہے،اس جانب ہمارے ائمہ کرام کو متوجہ کرنے کی بھی ضرورت ہے، اپنے گناہوں سے ہم توبہ کریں، صدقہ کا خاص اھتمام کریں،اور اس دعا کو پڑھتے رہیں، اللهم اسقنا غيثا مغيثا، مريءا مريعا،نافعاغيرضار،عاجلاغيراجل (ابوداؤد )
ترجمہ:ہمیں بھرپور،خوشگوار، شادابی لانے والی،نفع بخش غیر نقصان دہ، جلدی نہ کہ تاخیر والی بارش عطا فرما،( آمین )

ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ
۱۹/جولائی ۲۰۲۲ء

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے