بدھ, 5, اکتوبر, 2022
ہومبریکنگ نیوزارریا نیوزسانسوں کی قدر کیجئے؛یہ انمول تحفہ ہے! محمد اطہر القاسمی نائب...

سانسوں کی قدر کیجئے؛یہ انمول تحفہ ہے! محمد اطہر القاسمی نائب صدر جمعیت علماء بہار

*سانسوں کی قدر کیجئے؛یہ انمول تحفہ ہے!*

*محمد اطہر القاسمی*
نائب صدر جمعیت علماء بہار
12/ ستمبر 2022
__________________________
کائنات میں بسنے والا ہر انسان ان گنت رشتوں کے بندھن میں بندھا ہوا ہے۔انسان ان ہی چھوٹے بڑے اور قدیم و جدید رشتوں کی بدولت سماج میں ایک خوشگوار زندگی بسر کرتاہے۔رشتوں کے یہ خوبصورت دھاگے اگر ٹوٹ جائیں تو انسان کے لئے یہ دنیا کسی جنگلی قیدخانہ سے بھی بدتر کر رہ جائے گی۔
لیکن ان تمام رشتوں میں انسانی جسم کے ساتھ سانسوں کا جو رشتہ ہے وہ تمام رشتوں سے مضبوط رشتہ ہے۔یہ رشتہ باقی ہے تو خاندان،پاس پڑوس،دوست و احباب،ذات و برادری اور متعلقین کے سارے رشتے آباد ہیں اور جس لمحہ یہ رشتہ ٹوٹ گیا تو رشتے داروں کی رشتے داریاں تو درکنار انسانی زندگی ہی کا رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔گویا انسانی جسم میں پیدائش سے لے کر موت تک ہر لمحہ رواں دواں یہ غیر مرئی عنصر(سانس)انسانی زندگی کا قطب نما ہے جہاں سے زندگی کے سارے کیل کانٹے کا قبلہ درست ہوتا ہے۔
اس قیمتی عنصر کی قیمت کیا ہے؟کوئی قیمت نہیں۔یہ عطیہ الہی ہے جو صرف ایک بار ملتی ہے،یہ انمول ہے،اس کا کوئی مول نہیں۔چنانچہ ہاسپیٹل میں پیسے کی بدولت انسانی جسم کا ایک ایک قیمتی عضو خریدا تو جاسکتا ہے لیکن ان قیمتی اعضاء کو ہر لمحہ زندگی کی رفتار عطا کرنے والی سانسیں خریدی نہیں جاسکتیں۔
ایک ڈاکٹر اپنے مریض کی جان بچانے کے لئے اپنی ساری معلومات اور تجربات و مشاہدات کو نچوڑ کر رکھ دیتا ہے لیکن یہ سارا دماغ اور عقل و ذہانت مریض سے رخصت پذیر سانسوں کو روک نہیں سکتے۔یہی وہ نازک ترین اور حسرت آمیز لمحہ ہوتاہے جب ڈاکٹر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کف افسوس ملتے ہوئے متعلقین سے کہ اٹھتا ہے کہ صاحب!
اب میری ساری تدبیریں ناکام ہوگئیں ہیں اور تمام تر کوششوں کے باوجود میں آپ کے باپ،ماں،بھائی،بہن۔۔۔۔کی جان بچا نہیں سکا،مجھے معاف کیجئے گا۔
# زندگی سے سانسوں کے اس باریک ترین رشتے کا گذشتہ دنوں بڑی گہرائی سے مطالعہ ہوا۔یہ مطالعہ بھی کسی اجنبی یا عام رشتے دار پر نہیں بلکہ صلبی رشتوں میں سب سے قیمتی کہلانے والے رشتہ اکلوتے اپنے بیٹے پر تھا۔۔۔۔
واقعہ کچھ یوں ہوا کہ پندرہ سالہ بیٹے عزیزم حافظ ابوذر غفاری سلمہ کو ان کے مدرسہ میں نہ جانے کیا ہوا کہ اچانک ہاسپیٹل پہنچائے گئے اور استاذ کے ذریعے ہمیں خبر دی گئی کہ آپ فوراً ہاسپیٹل پہونچیں،آپ کے بیٹے کی حالت انتہائی نازک ہے جبکہ بھتیجے توصیف نعمانی کو یہ خبر دی گئی کہ بچنے کی امید نہیں ہے۔خیر کسی بھی ماں باپ اور قریبی رشتے دار پر اس خبر کا کیا اثر ہوسکتا ہے،اسے یہاں لکھنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔
اکلوتے بیٹے کو کھلی آنکھوں دیکھ لیں اور اس کے منہ سے دو بول سن لیں،اسی حسرت میں ہم دونوں (والدین)اگلے ہی لمحے ہاسپیٹل میں موجود تھے۔پیچھے پورا گھرانہ تھا،ہاسپیٹل پہونچا تو بچے کی حالت دیکھ کر میں تو دم بخود رہ گیا اور ماں تو ماں ہی ہوتی ہے،اس کے کلیجے پر کیا گذرا ہوگا،اس کی درست ترجمانی کے لئے میرے مطالعہ میں آج تک ڈکشنری میں کوئی لفظ ہی نہیں ملا۔جس بچے سے صبح ہم نے فون پر خیرت پوچھی تھی اور اس نے کہا تھا کہ الحمد للّٰہ سب خیریت ہے ابو،اب محض چند گھنٹے میں یہ کیا سے کیا ہوگیا کہ ایک طرف آکسیجن لگا ہوا ہے تو دوسری طرف سانسوں کی تیز رفتاری ہے جو ٹھہرنے کا نام نہیں لے رہی ہے بلکہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔چار پانچ گھنٹے کے لگاتار آکسیجن سے بھی سانسوں کی رفتار نارمل نہیں ہوئی،رات کے آٹھ بج رہے تھے کہ اسی درمیان ایک لمحہ ایسا بھی آگیا کہ کمرہ میں اچانک اہل خانہ نے ہنگامہ کردیا کہ ہمارا لعل اب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خدا سلامت رکھے رفیق گرامی مولانا مصور عالم ندوی اور مولانا سفیان احمد قاسمی کے ساتھ اہل خانہ کو کہ ان کے سخت احتجاج پر ریفر کیا گیا اور امید و بیم کی کیفیت میں رات کے دس بجے بذریعہ ایمبولینس پورنیہ Heart Specialist کے یہاں ایمرجنسی وارڈ میں بابو کو ایڈمٹ کروایا گیا جہاں سے بارہ بجے شب ICU میں منتقل کر دیا گیا۔
اگلے دن دوپہر کے بارہ بجے تک اسی اتار چڑھاؤ اور جملہ اہل خانہ کے رونے بلکنے کے درمیان عزیزم طالب نعمانی قاسمی نے خوش خبری سنائی کہ ابوذر تو خود سے بیٹھنے لگا ہے اب تو وہ باتیں بھی کررہا ہے۔سبھوں نے سجدہ شکر ادا کیا،جب تک ساری رپورٹس بھی آگئیں جو نارمل نکلیں،عافیت کا یہ سلسلہ بھی جاری رہا اور جمعہ کی بابرکت شب کے آغاز پر ICU سے وارڈ میں بھی منتقل کردیا گیا اور عین جمعہ کی اذان پر ڈاکٹر نے Visit کرتے ہوئے اپنے کارندوں سے کہاکہ ابوذر کو Discharge کردو!
فلہ الحمد ولہ الشکر ۔۔۔۔
# الحمد للّٰہ جمعیت علماء ارریہ کے ایک ایک مخلص ساتھی کے ساتھ ریاستی و مرکزی جمعیت کے اکابرین اور بے شمار مخلصین و محبین کی پرسوز مسلسل دعاؤں نے ناممکن کو ممکن بنادیا۔ان تمام محبین کے شکریہ کے لئے میرے پاس الفاظ تو نہیں ہیں لیکن اتنا عزم کرلیا ہے کہ جب تک زندہ رہوں گا خود کو مقروض سمجھتے ہوئے تمام محبین کے لئے دعاء خیر کرتا رہوں گا انشاء اللہ۔۔۔
اس درمیان میں نے بھی اپنے شکست خوردہ دل سے اپنے رب سے درخواست کی کہ مولی!
2017 کے تباہ کن سیلاب میں میرا یہی لخت جگر تھا،جب گھر پر پھسل جانے کی وجہ سے اس کے پاؤں میں فریکچر ہوگیا تھا،میں اسے صبح سویرے ارریہ ہاسپٹل کے سامنے ایک بینچ پر اکیلے بٹھاکرجمشید پور کی ایک ریلیف ٹیم کے ساتھ سیلاب متاثرین کی راحت رسانی کے لئے فیلڈ پر روانہ ہوگیا تھا اور جب شام ہوگئی لیکن سفر سے واپسی نہیں ہوسکی تھی تو ایک صاحب نے مرہم پٹی کے ساتھ میرے بیٹے کو میرے گھر لاکر پہنچایا تھا؛مولی! آپ آج اسی ادنیٰ سی خدمت پر نظر کرتے ہوئے میرے اسی اکلوتے بیٹے کو بخش دیجئے۔۔۔
# خیر بابو تو بعافیت گھر واپس ہوگئے ہیں،سخت نقاہت ہے،مزید علاج ہوگا اور وہ ٹھیک ہوجائیں گے انشاءاللہ۔لیکن دل و دماغ انتہائی متاثر ہے،بار بار وہ ڈراؤنے مناظر نظروں کے سامنے آرہے ہیں اور ستانے لگتے ہیں اور نامعلوم آوازیں کانوں میں یہ کہ رہی ہیں کہ بابا ! ہوشیار رہنا کہ یہی زندگی کی حقیقت ہے۔موت اور زندگی کے درمیان فاصلہ بھی بس اتنا ہی ہے نیز موت کو زندگی سے جوڑے رکھنے والے پل کا جو کھمبا ہے وہ دھاگے سے بھی زیادہ باریک اور ناپائدار ہے۔ایسا لگتاہے کہ چپکے سے کوئی آتا ہے اور یکایک کان میں کہ جاتا ہے کہ جن سانسوں کو تم غفلتوں کی نذر کئے جارہے ہو،وہ رب العالمین کی جانب سے انتہائی قیمتی تحفہ ہے جو کسی بھی بندے کو صرف ایک بار ہی ملتی ہے؛اس کی ناقدری مت کرنا۔آج یہ بات بھی خوب خوب سمجھ میں آگئی کہ کس طرح ہم اپنی زندگی کے شب و روز میں اپنے عزائم پر گامزن رہتے ہیں اور ہفتہ مہینہ بلکہ سالہاسال تک کے نئے نئے منصوبے بناتے رہتے ہیں لیکن وہیں ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اگلے لمحہ کی سانس کی رسی کا رشتہ میری زندگی سے باقی رہے گا یا اچانک ٹوٹ جائے گا اور دنیا کے سارے رشتے ناطے کے سلسلے کو درہم برہم کردے گا۔
صاحبو!
ہم اپنے گھر،مکان،زمین،جائیداد،دولت،پیسے،ڈگری،عہدے،بیوی،بچے،خویش و اقارب،رشتے دار،حلقے اور متعلقین یعنی اپنے شب وروز کی روٹین اور معمولات زندگی میں مگن رہتے ہیں بلکہ اللہ رب العزت نے اپنے فضل سے اگر کچھ دے دیا تو بزعم خود یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ہم تو ہم ہی ہیں،ہم جیسا دنیا میں کوئی نہیں۔چنانچہ ہماری گفتگو کا لب ولہجہ،جینے کا رنگ ڈھنگ،ملنے جلنے کا طور طریقہ،معاملات کی سختی،ضرورت مندوں سے بےرخی،کمزوروں پر دھونس اور فریادیوں کے ساتھ ترشی یعنی اہل جہاں کے ساتھ غیر انسانی سلوک پر ہم اترآتے ہیں اور یکسر بھول جاتے ہیں کہ خدانخواستہ کہیں رب کی رسی،ذرا سی سخت ہوجائے اور وہ سانسوں کو معمولی رفتار سے تیز کردے اور پھر اس نازک گھڑی میں دوبارہ اپنی رحمت و شفقت کا سایہ نہ ڈالے تو دنیا کی یہ ساری رونقیں،نعمتیں،راحتیں،آسائشیں،زیبائشیں اور رشتے داری و قرابتیں اور جینے کا لائف اسٹائل یوں ہی دھرا کا دھرا رہ جائے گا اور ہم اپنے آخری سفر پر روانہ ہوچکے ہوں گے!!!

؀ ہر سانس نئی سانس ہے،ہر دن ہے مرا دن
تقدیر لئے آتی ہے،ہر روز نیا دن

؀ پہلی سانس پہ میں رویا تھا آخری سانس پہ دنیا
ان سانسوں کے بیچ میں ہم نے کیا کھویا کیا پایا

؀سانس در سانس ہجر کی دستک
کتنا مشکل ہے الوداع کہنا۔۔۔

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے