سال نو کا پیغام ملت اسلامیہ کے نام مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

49
سال نو کا پیغام ملت اسلامیہ کے نام
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ
 اسلامی سال کا پہلا مہینہ محرم الحرام سے شروع ہوتا ہے اور ذی الحجہ پر ختم ہوجاتا ہے ، ، یاد رکھیے کہ ہمارے ہجری سن کی بڑی دینی ، ملی اور تاریخی حیثیت ہے ، مسلمانوں کو اس عظیم ہجرت کی یاد دلاتا ہے جس نے دنیا کی مذہبی تاریخ کا نقشہ تبدیل کر دیا اور اسلام کو پھیلنے اور مسلمانوں کو آگے بڑھنے کا راستہ کھول، ہمیں یہ یاد دلاتاہے کہ اسلام اور ایمان کے لئے تمہیں اپنا گھر بار ، مال ودولت کو بھی چھوڑنا پڑے تو چھوڑ دو؛ لیکن اسلام کو نہ چھوڑو اور ایمان پر بٹہ نہ لگاؤ گویا جس طرح اس کی تاریخی حیثیت ہے اسی طرح اس کی شرعی حیثت بھی ہے ، قرآن مجید میں رب کائنات کا ارشاد ہے ، یسئلونک عن الاھلہ قل ھی مواقیت للناس والحج ہم نے تمہارے لئے چاند کو اور چاند کے تغیرات کو میقات بنا دیا ہے، یعنی ہماری اکثر عبادتوں کا انحصار رویت ہلال سے متعلق ہے ، خصوصا ان عبادات میں جن کا تعلق کسی خاص مہینے اور اس کی تاریخوں سے ہے جیسے رمضان المبارک کے روزے ، حج کے مہینے، محرم اور شب برأت وغیرہ سے متعلق احکام سب رویت ہلا ل سے متعلق ہیں، لیکن افسوس یہ ہے کہ بہت سے لوگ قمری حساب کو بھلاتے جا رہے ہیں، صرف معدودے چند ملی وتعلیمی اداروں میں یہ نظام رائج ہے ، ورنہ عام طور پر اس کا رواج کم تر ہوتا جا رہا ہے ، حتی کہ کلنڈروں سے بھی قمری مہینوں کے اعداد وشمار غائب ہوتے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو اسلامی مہینے بھی پورے طور پر یاد نہیں رہتے ہیں، حالانکہ ہر قوم نے اپنا حساب وکتاب رکھنے کی ایک تاریخ مقرر کی ہے ، ہندوستان میں عیسوی سن کی مقبولیت ہے ، اور انگریزوں کے اثرات کی وجہ سے انگریزی سن رائج ہوئے جس کا سن جنوری سال سے شروع ہوتا ہے، ہندوں کے یہاں بکرمی حساب رائج ہے ، مگر مسلمانوں کا نیا سال ہجرت سے شروع ہوتا ہے جس کا باضابطہ استعمال عہد نبوت میں تونہیں ہوسکا البتہ حضرت عمر ؓ کے عہد خلافت سے رائج ہے اور تاریخ کے ہر دور میں اس کا چلن رہا ، جواب کمزور پڑ تا جا رہا ہے، اگر ہم صرف دفتری اور کاروباری معاملات میں جن کا تعلق سرکاری دفاتر یا غیر مسلموں سے ہے ان میں صرف شمسی حساب رکھیں، باقی اپنے دینی اداروں اور روز مرہ کی ضروریات میں قمری تاریخوں کا استعمال کریں تو اس سے ہمارا ملی شعار بھی محفوظ رہے گا، اور اتباع سنت کی وجہ سے یہ موجب برکت وثواب بھی ہوگا، اس موقع سے مسلمانوں کو یہ عہد کرنا چاہئے کہ اس کا یہ سال پچھلے سال کے مقابلہ میں کہیں اچھا رہے گا، اعمال کی درستگی اور بہتر انداز میں ہوگی ، شریعت کی پوری طرح پاسداری کی جائے گی، لوگوں کو ایک اور نیک بننے کی تلقین کی جائے گی خود کو اور دوسروں کو راہ راست پر لگا یا جائے گا جس سے دنیا وآخرت دونوں کی کامیابی نصیب ہو، سال کا پہلا مہینہ محرم بڑی عظمت والا مہینہ ہے، اس مہینہ میں نفلی روزہ رکھنا اللہ کو بہت زیادہ پسند ہے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ماہ میں روزہ رکھا اور صحابہ کرام کو اس کے روزہ کا حکم دیا اور یہودیوں کی مشابہت سے بچنے کے لئے دو دن کے روزے کا حکم فرمایا ، اس لئے آپ بھی عاشورہ کا روزہ رکھئے، ۹؍ اور ۱۰؍ محرم یا ۱۰ ؍ اور ۱۱؍ محرم کو روزہ رکھئے اور اپنے بالغ اہل وعیال کو بھی اس کی ترغیب دیجئے نیز اپنے اہل وعیال کے کھانے پینے کی چیزوں میں فراخی سے کام لیجئے کیونکہ اللہ تعالیٰ اس دن کی برکت سے سال بھر رزق میں فراخی عطا فرماتے ہیں، جو لوگ عشرہ محرم میں ڈھول ، تاشے اور مجرے کی محفلیں سجاتے ہیں، وہ گناہ کرتے ہیں،مسلمانوں کو اس سے بچنا چاہیے۔