سالسٹر جنرل تشار مہتا کو برطرف کیا جائے۔ا یس ڈی پی آئی 

46
نئی دہلی۔(پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کے قومی جنرل سکریٹر ی محمد شفیع نے اپنے جاری کردہ اخبار ی بیان میں کہا ہے کہ سالسٹر جنرل آف انڈیا (ایس جی) تشار مہتا کو لازمی طور پر ان کے عہدے سے برطرف ہونا چاہئے کیونکہ انہوں نے بی جے پی رہنما شوبھندو ادھیکاری سے ملاقات کی تھی جو سال2016میں ناردا اسٹنگ آپریشن کیس میں ملزم ہیں جبکہ ایس جی تشار مہتا اس مقدمے کے سلسلے میں سپریم کورٹ اور کولکتہ ہائی میں سی بی آئی کی نمائندگی کررہے ہیں۔ محمد شفیع نے مزید کہا ہے کہ سی بی آئی اس معاملے کی تحقیقات کررہی ہے جس میں شوبھندو ادھیکاری ایک ملزم ہے اور ایس جی ایجنسی کی نمائندگی کررہے ہیں۔ سنگین نوعیت کے جرائم میں ملوث  ملزم کے ساتھ ایس جی کی ملاقات ایس جی کے آئینی فرائض کے منافی ہے اور ایس جی کے ساتھ شوبھندو کی ملاقات اس کیس کو متاثر کرسکتی ہے۔ ہر کوئی یہ بات واضح طور پر سمجھ سکتا ہے کہ شوبھندوو ادھیکاری بی جے پی حکومت کے رحم وکرم سے نارڈا اسٹنگ آپریشن کیس اور ساراد چٹ فنڈ کیس کے سلسلے میں سی بی آئی کی گرفتاری سے پوری طرح آزاد ہے۔ پچھلے مہینے سی بی آئی افسران نے ناردا اسٹنگ آپریس کیس کے سلسلے میں کولکتہ میں ٹی ایم سی رہنماؤں کو گرفتار کیا تھا لیکن انہوں نے شوبھندو ادھیکاری کو چھوڑ دیا تھا جو اس کیس کا ایک اہم ملزم ہے۔ ایس جی کی دفتر میں شوبھندو اور ایس جی کے درمیان 30منٹ کی ملاقات ایس کے دفتر کے اعتماد پر سوال اٹھاتی ہے۔ دونوں کی اس طرح کی غلطی سے آئینی عہدے اور اس کی سچائی اور ڈیکورم پر سوال اٹھیں گے۔ ایس ڈی پی آئی قومی جنرل سکریٹری محمد شفیع نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں عہدے اور غیر جانبداری کے استحکام اور اعتماد کے تحفظ کیلئے سالسٹر جنرل کو فوری طور پر برطرف کرے۔