ساس،سسر،سالے اور سالی کو ایک ساتھ پٹرول ڈال کر زندہ جلادینے والا داماد انسان نہیں وحشی درندہ ہے!

202

جمعیت علماء ارریہ کے وفد کی جائے واردات پر حاضری! مقامی لوگوں کے مطابق مقامی تھانہ کی غفلت سے یہ دردناک واقعہ رونما ہوا۔ تاثرات:محمداطہرالقاسمی جنرل سکریٹری جمعیت علماء ارریہ ضلع ارریہ کے بلاک پلاسی کے تحت برہٹ گاؤں میں داماد محمد مدثر نے اپنے سسر حافظ محمد ارشاد،ساس بی بی مرضینہ،سالا محمد ابوذر اور سالی شائستہ پروین کے خلاف جس درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پٹرول چھڑک کر آگ لگادی اور سوائے سالی شائستہ پروین کے (جو ہاسپیٹل میں موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا ہے) تمام رشتے داروں کو موت کے گھاٹ اتاردیا ؛ یہ دردناک واقعہ حیوانیت اور درندگی کی بدترین مثال ہے۔شوہر کے ذریعے اولا بیوی کو طلاق مغلظہ دینا اور پھر محض دو ہفتے کے اندر بیوی کو سسرال واپس آنے پر مجبور کرنے کے لئے سسرال والوں پر ظلم وتشدد کی تمام حدیں پار کرجانا کہیں نہ کہیں مسلم نوجوانوں کی دین سے دوری،آوارہ گردی اور بےراہ روی کے ساتھ پورے مسلم سماج کو کٹہرے میں کھڑا کردینے کی ایک بدترین مثال ہے۔(جبکہ بیوی شاید اس لئے بچ گئی کہ انہیں خوف کے مارے خالہ کے گھر پہنچادیا گیا تھا)
ایسا نہیں ہے کہ یہ ضلع کا کوئی پہلا واقعہ ہے۔اس سے پہلے رانی گنج کے ڈومریا میں،اس سے پہلے بدھیسری رام پور میں اور اس سے پہلے مادھوپاڑہ میں ان جیسے دردناک واقعات اپنے ہی سماج کے لوگ اپنے ہی رشتے داروں کے خلاف انجام دے چکے ہیں۔گرچہ پرسوں(3/ستمبر 2021) کے تازہ واقعہ کے علاوہ تمام واقعات میں ضلع پرشاسن نے ظالموں کو کیفرکردار تک پہنچایا ہے مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر ان بدترین واقعات پر روک کیسے لگے گی؟
اس سلسلے میں ایک طرف تو مسلم نوجوانوں میں دین کی بنیادی تعلیم اور ان کے اندر خوف خدا پیدا کرنے کی سخت ضرورت ہے تو دوسری طرف ضلع انتظامیہ کو ایسے انسانیت سوز مظالم کے روک تھام کے لئے انتہائی سنجیدگی اور ایمانداری کے ساتھ ایکشن پلان کی بھی ضرورت ہے۔

IMG 20210905 WA0066 1 e1630951015238

 

آج بعد نماز ظہر جمعیت علماء ارریہ کے ایک وفد کے ساتھ جب ہم لوگ جائے واردات پر حاضر ہوئے اور جس تنگ و تاریک کمرے میں یہ دردناک واقعہ انجام دیا گیا اس کے معائنہ کے بعد پھونس اور چھپر کے بوسیدہ مکانات کے برآمدے میں غمگین بیٹھی ہوئی آنگن کی خواتین سے واقعہ کی تحقیقات چاہی تو مرحوم حافظ ارشاد کے بڑے بیٹے محمد عثمان اور ان کی خالہ زرینہ نے بولنا شروع کیا تو وفد کے تمام اراکین کے ساتھ خود میری بھی ہچکیاں بندھ گئیں۔پھر مجمع میں موجود تمام مرد وعورت اور بچے بوڑھے رونے لگے۔ہم نے کافی ضبط کے بعد تفصیلات چاہی تو خالہ زرینہ نے جو جانکاری فراہم کی اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ واردات کے پیچھے سب سے بڑی لاپراوہی مقامی تھانہ کی ہے۔جس کی وجہ سے ورثاء کے ساتھ مقامی لوگوں میں بھی تھانہ کے خلاف شدید غم وغصے کا ماحول نظر آیا۔
حافظ ارشاد مرحوم کی عمر دراز سالی زرینہ جو اب اس اجڑے گھر کی نگہبانی کررہی ہے۔وہ آنگن میں موجود مجمع کے سامنے جمعیت کی ٹیم کو اپنی آپ بیتی بتاتے بتاتے دم بخود ہوجاتی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ وحشی درندہ محمد مدثر کے ظلم وتشدد کی اطلاع پلاسی تھانہ کو پیشگی دے دی گئی تھی بلکہ ایک ہفتہ قبل جب محمد مدثر نے مرحوم سسر حافظ ارشاد کے سر پر آنگن میں بڑے پتھر سے حملہ کردیا تھا تب ہم نے تھانہ کو بلایا اور مدد مانگی تھی تو ہمیں کوئی مدد نہیں ملی۔تھانہ کو پچھلی یہ ساری خبر ہونے کے باوجود پرسوں رات یہ اندوہناک حادثہ رونما ہوگیا۔اگر پولیس کے ذریعے پوری ذمےداری اور احساس جواب دہی کے ساتھ معاملہ کو ہینڈل کیا جاتا تو شاید یہ برے دن دیکھنے کو نہیں ملتے۔
ورثاء کی پیش کردہ تفصیلات کے مطابق وہاں موجود میڈیا کے توسط سے جمعیت علماء ارریہ نے ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیاہے کہ کہ فوری طورپر قاتل داماد کو گرفتار کرتے ہوئے انہیں کیفرکردار تک پہنچایا جائے،مقامی تھانے دار کو برخاست کرتے ہوئے ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے اور مقتول کے ورثاء کے ساتھ چار میں سے چوتھی آگ میں جھلسی شائستہ پروین کے بہتر علاج کے لئے معقول معاوضہ دیا جائے۔
ساتھ ہی جمعیت نے علاقے کے ساتھ دیگر تمام اصحابِ خیر سے بھی اپیل کی ہے کہ اس اجڑے اور ویران گھر میں موجود ایک جوان بچی کی شادی(جسے حافظ جی اب جلد ہی کروانا چاہتے تھے)کے انتظام کے ساتھ دیگر جملہ معصوم بچے اور بچیوں کی کفالت کے لئے آگے آئیں۔
وفد میں جمعیت علماء بلاک جوکی ہاٹ کے صدر قاری امتیاز احمد،بلاک جوائنٹ سیکرٹری مولانا دانش قمر،جمعیت علماء بلاک پلاسی کے سکریٹری قاری احتشام الحق،نائب صدر مولانا سالم ظفر قاسمی،جوائنٹ سیکرٹری مولانا اسد اللہ،حافظ منظور احمد بوریا و دیگر احباب شامل تھے۔
اخیر میں جمعیت کے وفد نے بنیادی گھریلو ضروریات کے لئے متاثرین کے اہل خانہ کو ہنگامی چندہ کرکے تقریباً دس ہزار روپے بطور تعاون پیش کرتے ہوئے ان کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد قراردیا اور آگے بھی ہرموڑ پر شانہ بشانہ کھڑے رہنے کی یقین دہانی کرائی۔
آنگن سے واپسی پر گھر کی ڈری سہمی اور روتی بلکتی خواتین اور بیٹے محمد عثمان نے جمعیت کی پوری ٹیم کو دعائیں دیتے ہوئے رخصت کیا۔