ہفتہ, 8, اکتوبر, 2022
ہوماعلان واشتہاراتسارے انسان آدم و حوا کی اولاد ہیں، علاقہ اور زبان کا...

سارے انسان آدم و حوا کی اولاد ہیں، علاقہ اور زبان کا فرق تو صرف پہچان کیلئے ہے۔

شخصی غلطی کا ذمہ دار پورے سماج کو نہیں ٹھرایا جا سکتا۔ گرو پرو کے اجلاس میں مولانا کبیر الدین کا گرودوارا میں خطاب۔
(پریس رلیز مسروالا) قرآن کریم میں اللہ کا ارشاد ہے اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پید اکیا ہے اور تم کو مختلف قومیں اور مختلف خاندان بنایا تاکہ ایک دوسرے کو پہچان سکو،اللہ کے نزدیک تم میں بڑا شریف وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیز گار ہو۔
اس روشنی میں ہم سار ے انسان ایک خدا کی مخلوق اور آپس میں خاندانی بھائی ہیں اس کا اظہار اتہاسک گرودوارا شری چھاؤنی والا تحصیل پاؤنٹہ صاحب ہماچل پردیش میں جہاں علاقہ کے سکھ مردو وعورت کے جم غفیرسے مولانا کبیر الدین فاران مظاہر ناظم مدرسہ قادریہ مسروالا ہماچل پردیش نے کیا۔
مولانا فاران نے کہا کہ سکھ دھرم کے رہنما گرو نانک دیوجی پاکستان کے مشہور شہر ننکانہ صاحب میں 1469میں ترت پاجی عرف ماتا بیوی کے کوکھ سے جنم لیا تھا۔گرو نانک جی کے والد جناب کلیان سنگھ عرف مہتا کالوکو ایک مسلم فقیر نے خوشخبری سنائی تھی کہ تمہارے گھر ایک نوری دریا جاری ہو گا جو لوگوں کے دلوں کی کھیتیوں کو سیراب کریگا۔
گرونانک دیوجی کے جنم کے وقت سب سے پہلے جس نے ان کو اپنی گود میں اٹھایا وہ مسلم دائی دولتہ نامی تھی۔ انہوں نے گرونانک کو غسل دیکر کپڑا پہنایا اور بسم اللہ الرحمان الرحیم پڑھ کو گرو نانک جی کو شہد چٹایا تھا۔
گرونانک دیو جی کی تعلیم اور تربیت ان کے والد کے خواہش پر جناب صوفی سید حسن نے انہیں عربی،فارسی اور گرمکھی کی تعلیم دی اس لئے وہ بآسانی قرآن کریم پڑھ اور سمجھ لیتے، مشہور ہے کہ انہوں نے حج بیت اللہ بھی کیا تھا۔
مولانا فاران نے بتایا کہ گرونانک دیوجی کی تعلیم میں ایک خدا کی عبادت،نشہ کو حرام سمجھنا،خدا کی راہ میں آمدنی کا دسواں حصہ نکالنا اور آپسی میل ملاپ کا حکم بھی شامل ہے۔
اپنے خطاب میں مولانافاران نے کہا کہ دسویں گرو گوبند سنگھ مہاراج کے دو بیٹے باباجوراور سنگھ اور بابافتح سنگھ کو سر ہند فتح گڑھ صاحب میں دیوار میں چن دیا گیا تھا جو بلا شبہ ظلم تھا۔ لیکن اس کا مذہب اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ قرآن پاک ظلم و زیادتی کو ناپسند اور حرام قرار دیتا ہے۔
اس موقع پر سکھ کسان مورچہ کے صدر اور گرودوارا پربندھک کمیٹی کے پربندھک جناب ترسیم سنگھ سگی نے مدرسہ قادریہ مسروالا کے طلباء اور اساتذہ کا صدر گیٹ پر استقبال کیا مدرسہ قادریہ کے خدمات اور آپسی بھائی چارا قائم کرنے کی کوششوں کو سراہا اور تمام شرکا ء کے درمیان مدرسہ کا تعارف کرایا۔
اس موقع پر اس اجلاس میں مدرسہ قادریہ کے طالب علم راشد حسین نے سنت بابا کلدیب سنگھ کے حکم پر کلمہ ئ طیبہ کا ورد کرایا اور سیرت رسول اکرم ﷺ پر انگریزی زبان میں تقریر پیش کی جس سے مجمع بڑا متائثرہوا۔
شرکاء میں تحصیل پاؤنٹہ کے سکھ صاحبان مولانا ذاکرحسین قاسمی استاذ حدیث مدرسہ قادریہ مسروالا اور طلبہ ئ کرام موجود تھے۔

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے