زہریلی ہوا

زہریلی ہوا ___
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ
فضائی آلودگی سے یوں تو پورا ملک پریشان ہے، لیکن حال میں بہار کی آب وہوا کی جو تفصیلات مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ نے ایک سو چوہتر شہروں کے بارے میں فراہم کی ہے اس نے ساکنان بہار کو تشویش میں بتلا کر دیا ہے، پورے ملک میں فضائی آلودگی کے اعتبار سے بہار چھٹے نمبر پر آگیا ہے۔ اور اس کے آٹھ شہروں کٹیہار، چھپرا، مظفر پور، سیوان، بیگو سرائے، پٹنہ، سمستی پور اور موتیہاری کی فضا انتہائی خراب ہے، اس کے علاوہ آرہ، بتیا، بہار شریف، دربھنگہ، پورنیہ، مونگیر اور حاجی پور کی فضائی حالت بھی اچھی نہیں ہے، گاندھی میدان اور دانا پور میں گرد وغبار کے ذرات نے ماحولیات کو خراب کر رکھا ہے، آلودگی کا سب سے بڑا سبب یہی ہے، سائنس دانوں کے مطابق ہوا میں ذرات کی مقدار زیادہ سے زیادہ ساٹھ (۰۶)مائیکرو گرام ایک گھن میٹر پر ہونا چاہیے، جو ابھی تین سو آٹھ (308) مائیکرو گرام تک پہونچا ہوا ہے، اگر اس حالت میں سدھار کی کوئی شکل نہیں بنی تو سردی کے موسم میں ٹھندی ہوا سے اس میں مزید اضافہ ہوگا اور یہ انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہوجائے گا۔
مرکزی آلودگی کنٹرول کی رپورٹ پر اعتماد کریں تو گاندھی میدان حلقہ میں گرد وغبار کے ذرات پی ایم ۵ء ۲ کی مقدار تین سو تینتیس (۳۳۳) مائیکرو گرام اور دانا پور میں تین سو اکانوے (۱۹۳) ہر ایک گھن میٹر آراضی پر ہے، جو اوسط مقدار سے پانچ گنا زیادہ ہے، ہوائی اڈہ علاقہ کا تین سو سینتالیس (۷۴۳) راجدھانی پارک کا دو سو برانوے (۲۹۲) تارا منڈل کا دوسو ترانوے اور پٹنہ سیٹی کا دو سو بہتر (۲۷۲) ہے۔
اس فضائی اور ماحولیاتی آلودگی کا سب سے زیادہ نقصان ان لوگوں کو ہوتا ہے جو ناک کے بجائے منہہ سے سانس لیتے ہیں، بچے، کھلاڑی اور دمہ کے مریضوں کو مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے، منہہ سے سانس لینے کی وجہ سے گرد وغبار کے ذرات کا بآسانی پھیپھڑے تک پہونچنا ممکن ہوتا ہے، اور یہ جسم میں جا کر خون میں داخل ہوجاتے ہیں۔
ان حالات میں ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ منہہ کے بجائے ناک سے سانس لینے کی کوشش کی جائے، بچے بوڑھے خاص طور سے گھر سے نکلنے سے گریز کریں، گھر سے نکلنا بہت ضروری ہو تو ماسک لگا کر نکلیں، گھر کے آس پاس اور قرب وجوار میں پانی کا چھڑکاؤ کریں تاکہ گرد وغبارکے اڑنے کا امکان کم سے کم باقی رہے، اگر احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کیے گیے تو انسان مختلف امراض کا شکار ہو سکتا ہے، سر درد، منہ اور گلے میں جلن، آنکھوں میں تیزابیت اور خارش، ناک سے خون آنا، گلے میں خراش، سانس لینے میں دقت، قئے، متلی، سستی، پیٹ میں درد اور ناک بہنے کی شکایت ہو سکتی ہے، اس لیے احتیاطی تدابیر اختیار کیجئے کیوں کہ احتیاط اورتدبیر ہر حال میں علاج سے بہتر ہے۔

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے