زوال پذیر ’جی ڈی پی‘ کو لے کر راہل گاندھی نے وزیر اعظم پر کسا طنز

93

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے ہندوستان کی خستہ حال معیشت سے متعلق ایک بار پھر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ بدھ کی صبح اپنے ٹوئٹ میں انھوں نے ملک کی زوال پذیر جی ڈی پی کے لیے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے اور طنزیہ انداز میں لکھا ہے “مودی ہے تو ممکن ہے۔” اس کے ساتھ ہی راہل گاندھی نے انفوسس کے بانی این آر نارائن مورتی کا جی ڈی پی پر ایک بیان ٹیگ کیا ہے۔

دراصل این آر نارائن مورتی نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ کورونا وائرس کے سبب رواں مالی سال میں ہندوستان کی معاشی رفتار آزادی کے بعد سب سے خراب حالت میں ہوگی۔ انگریزی اخبار ‘بزنس اسٹینڈرڈ’ میں شائع اس خبر کی سرخی راہل گاندھی نے اپنے ٹوئٹ سے شیئر کیا ہے اور ‘مودی ہے تو ممکن ہے’ لکھ کر مودی حکومت پر طنز کے تیر چلائے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ این آر نارائن مورتی کا کہنا ہے کہ ہندوستانی معیشت کو جلد از جلد پٹری پر لایا جانا چاہیے کیونکہ اس بار جی ڈی پی میں آزادی کے بعد کی سب سے بڑی گراوٹ دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ نارائن مورتی نے ایک ایسے نظام کو تیار کرنے پر بھی زور دیا جس میں ملک کی معیشت کے ہر سیکٹر میں ہر کاروباری کو پوری صلاحیت کے ساتھ کام کرنے کی اجازت ہو۔