زندگانی تھی تیری مہتاب سے تابندہ تر عربی اور اردو کے نامور ادیب مولانا نور عالم خلیل امینیؒ کی حیات وخدمات اور طریقۂ تدریس

78

زندگانی تھی تیری مہتاب سے تابندہ تر
عربی اور اردو کے نامور ادیب مولانا نور عالم خلیل امینیؒ کی حیات وخدمات اور طریقۂ تدریس

بقلم: خورشید عالم داؤد قاسمی٭

ممتاز اسلامی اسکالر کی وفات
عربی زبان وادب کے حوالے سے سند کی حیثیت رکھنے والے،عربی وارود کے منفرد ادیب اور عالمِ اسلام کا درد رکھنے والے ممتاز اسلامی اسکالر: مولانا نور عالم خلیل امینیؒ 3/مئی 2021 کو، بہ وقت سحر، تین بجکر پندرہ منٹ پر، مغربی یوپی کے مشہور شہر، “میرٹھ” کے آنند اسپتال میں، دوران علاج اس دار فانی سے کوچ کرگئے۔ آپ سال ہا سال سے شکر کے مریض تھے اور اس وجہہ سے آپ کے تلوے میں زخم بھی رہتا تھا۔آپ کی وفات کی خبر پر بڑے بڑے اہل علم فضل اور آپ کے ہزاروں تلامذہ نے غم وافسوس کا اظہار کیا۔ آپ کا نام نور عالم تھا۔ آپ کے قلم نے تقریبا پانچ دہائیوں تک “نور عالم خلیل امینی” کے نام سے ہزاروں صفحات لکھے اور عرب وعجم میں نور عالم خلیل امینی عربی زبان وادب کے حوالے سےسند کا استعارہ بن گیا۔آپ الداعی کا مشہور کالم: “اشراقۃ” میں اپنی کنیت “ابو اسامہ نور” استعمال کرتے تھے۔ آپ کے والد ماجد کا نام (حافظ) خلیل احمدؒ تھا۔آپ کے دادا  رشید احمد تھے۔ آپ کی پیدائش : 18/دسمبر 1952ء کو ننھیال:  ہرپور بیشی، مظفر پور، بہار میں ہوئی۔ آپ کا وطن اصلی: رائےپور، سیتامڑھی، بہار تھا۔

یتیمی اور پرورش
آپ کے والد جناب خلیل احمدؒقرآن کریم کے حافظ تھے۔ انھوں نے “اِلہ آباد” کے کسی مدرسہ سے حفظِ قرآن کریم مکمل کیا تھا۔ وہ صوبہ: مغربی بنگال کے ضلع: دیناجپور کے ایک مدرسہ میں تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے۔ جب ان کو خبر ملی کہ اللہ پاک نے ان کو بیٹا (نور عالم) سے نوازا ہے؛ تو وہ نومولود کو دیکھنے کے لیے خوشی خوشی اپنے گاؤں رائے پور کے لیے پا بہ رکاب ہوے۔ اُس وقت اُس علاقہ میں ہیضہ پھیلا ہوا۔ اسی وبائی مرض میں ان کا انتقال ہوگیا۔ اس وقت آپ کی عمر صرف تین مہینے تھی اور آپ یتیم ہوگئے۔ آپ کی پرورش دادی نے کیا۔ دادی کی وفات کے بعد، والدہ ماجدہ نے آپ کی پرورش کی۔ آپ دادی اور والدہ ماجدہ سے بڑی محبت کرتے تھے۔ آپ نے اپنی مشہور تصنیف: “وہ کوہ کن کی بات ….” کو دار العلوم، دیوبند کے ساتھ ان دو غیر معروف، مگر آپ کا انتہائی خیال رکھنے والی، بھولی بھالی خواتین کے نام منسوب کرکے، اپنی لازوال محبت کے اظہار کے ساتھ، آپ نے ایک ہونہار سپوت ہونے کا ثبوت دیا۔ یہ کتاب عربی زبان کے عبقری معلم اور رجال ساز مولانا وحید الزماں کیرانویؒ کی سوانح حیات ہے۔

ابتدائی تعلیم
آپ نے قا‏عدہ بغدادی اپنے نانا مرحوم سے پڑھا۔ آپ کے نانا نے مدرسہ چشمۂ رحمت، غازی پور  سے ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی۔ نانامحترم کی وفات کے بعد، آپ اپنے گاؤں: رائے پور کے مکتب میں جناب مولوی  ابراہیم صاحبؒ سے پڑھنا شروع کیا۔ مکتب میں آپ نے ناظرہ قرآن کریم، خوش خطی، ہندی، اردو اور حساب کی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ پھر سن 1958 میں، آپ نے اپنے آبائی گاؤں: رائے پور سے تقریبا دو کلو میٹر کے فاصلے پر، پوکھریرا نامی گاؤں میں واقع “مدرسہ نور الہدی” میں داخلہ لیا۔ اس مدرسہ میں آپ نے تقریبا دو سال تک تعلیم حاصل کیا۔ آپ صبح کے وقت مدرسہ جاتے اور شام کے میں اپنے گھرواپس آجاتے تھے۔ پھر 1961 (1380ھ) میں، اپنی دادی کے کوشش سے مدرسہ امدادیہ، دربھنگہ(قائم شدہ: 1893) پہنچے، جہاں آپ کے گاؤں کے مشہور عالم دین حضرت مولانا اویس احمد صاحب قاسمیؒ (وفات: 1998ء) تدریسی خدمات میں مشغول تھے۔ وہاں آپ نے قرآن کریم کے سات پارے حفظ کیے۔ آیندہ سال آپ نے امدادیہ میں ہی مرحلہ ابتدائیہ کے درجہ ششم میں داخلہ لیا اورشیخ مصلح الدین سعدی شیرازیؒ (وفات: 1291) کی مشہور کتابیں: گلستاں، بوستاں اور کچھ عربی واردو کی ابتدائی کتابیں بھی پڑھی۔ آپ نے اس ادارہ میں مولانا اویس صاحب قاسمیؒ اور مولانا تسلیم صاحب سِدھولوی قاسمیؒ (1930-2003) سے استفادہ دکیا۔

دار العلوم، مئو سے دار العلوم، دیوبند تک
آپ  سن 1964 میں دار العلوم، مئو ، یوپی میں درجہ عربی اول میں داخل ہوے۔  یہاں آپ نے عربی چہارم تک کی تعلیم حاصل کی۔ اس دوران آپ نے وہاں کے اہل علم وفضل علما سے خوب استفادہ کیا۔ آپ نے اس ادارہ میں حضرت مولانا عبدالحق صاحب اعظمیؒ ، مولانا ریاست علی بحری آبادیؒ ، مولانا امین صاحب ادرویؒ، مولانا شیخ محمد مئویؒ ، مولانا نذیر احمد مئویؒ وغیرہم سے استفادہ کیا۔ آپ نہ صرف اپنی مجلس میں؛ بل کہ تحریر میں بھی آخر الذکر مولانا صاحبؒ کو یاد کرتے تھے۔ آپ ان کا ذکر اس طرح کرتے جیسے ایک مطیع وفرمانبردار فرزند، اپنے والد ماجد کا ذکر کرتا ہو۔ پھر آپ نے 20/دسمبر 1967 کو دار العلوم دیوبند میں داخلہ لیا۔ آپ نے دار العلوم میں مولانا وحید الزماں کیرانوی،علامہ محمد حسین بہاریؒ، شیخ نصیر احمد خانؒ، شیخ فخر الحسن مرادآبادیؒ، شیخ شریف الحسنؒ، شیخ محمد نعیم دیوبندیؒ، شیخ سید انظر شاہ کشمیریؒ، مفتی خورشید عالمؒ، شیخ قمرالدین گورکھپوری، مفتی ابو القاسم نعمانی مدظلہ (حفظہما اللہ) وغیرہم سے استفادہ کیا۔ آپ شیخ کیرانویؒ سے بہت متاثر تھے۔ آپ کا ان کے ساتھ مثالی تعلق تھا۔پھر 1970 میں، مدرسہ امینیہ، دہلی میں داخلہ لے کر، شیخ سید محمد میاں دیوبندیؒ (1903-1975)، شیخ سید مشہود الحسن امروہویؒ (1927-2010)وغیرہم سے کتب حدیث شریف پڑھی اور شعبان 1391 ھ میں فارغ ہوے۔

جامعہ اسلامیہ، مدینہ منورہ میں داخلہ کی خواہش
فراغت کے بعد، رمضان 1391ھ میں آپ مدرسہ امینیہ میں مقیم تھے۔  آپ کی بڑی خواہش تھی کہ کسی طرح جامعہ اسلامیہ، مدینہ منورہ میں داخلہ ہوجاے۔ آپ نے ایک دن اپنی خواہش کا اظہار، اپنے مشفق استاذ مولانا محمد میاں دیوبندیؒ سے کیا۔ انھوں جامعہ میں داخلہ کے طریقۂ کار کے حوالے سے اپنی لاعلمی ظاہر کی۔ آیندہ دن علی الصباح آپ  کو لے کر، مفتی عتیق الرحمن عثمانیؒ (1901-1984) کی خدمت میں پہنچے۔ مفتی صاحب نے بتایا کہ مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ (1914-1999) اس جامعہ کے رکن ہیں۔ اگر انھوں نے سفارش لکھ دی؛ تو ان کا داخلہ ضرور ہوجائے گا۔ پھر مفتی صاحب نے کہا کہ اس حوالے سے وہ ایک خط مولانا ندویؒ کو لکھ دیں گے۔ مولانا میاں دیوبندیؒ نے بھی ارادہ کیا کہ وہ بھی ایک خط ان کو لکھیں گے۔ مولانا دیوبندی نے آپ کو مشورہ دیا کہ ایک درخواست برائے داخلہ عربی زبان میں، خط نسخ میں خود  لکھیں۔ پھر وہ درخواست اور ہم رشتہ مفتی عثمانی، مولانا دیوبندی اور مولانا حفیظ الرحمان واصف (1910-1987) –مہتم: مدرسہ امینیہ –کے خطوط شیخ ندویؒ کی خدمت میں رجسٹری بھیج دیے گئے۔

مفکر ِاسلامؒ کی خدمت سے دار العلوم ندوۃ العلما تک
مفکر اسلامؒ نے شیخ امینیؒ کا حسنِ خط اور درخواست بہ زبان عربی کو خوب پسند کیا۔ انھوں نے سفارش لکھ دی اور آپ کو لکھنؤ یا رائے بریلی میں ملنے کو کہا۔ آپ فروری 1972 کو لکھنؤ کے لیے روانہ ہوےاور ان سے “تکیہ کلاں”، “رائے بریلی” میں ملاقات کی۔ چند مہینے آپ ان کی خدمت میں رہ کر، ان کے تصنیفی وتالیفی کام میں مدد کی۔ اسی مدت میں مفکر اسلامؒ نے اپنی مشہور عربی کتاب: “السریۃ النبویۃ” مولانا امینیؒ کو املا کرائی۔ اپریل 1972 کے اواخر میں، جامعہ اسلامیہ سے اطلاع آئی کا اس سال آپ  کا داخلہ نہ ہوسکے گا؛ لیکن آیندہ سال داخلہ کی یقین دہانی کرائی گئی۔ آپ اپنی ضروریات اور تنگ دستی کی وجہ سے آیندہ سال کا انتظار نہیں کرسکتے تھے؛ چناں چہ آپ تلاش معاش کے حوالے سے فکر مند ہوئے۔ آپ نے اپنے محسن استاذ مولانادیوبندیؒ کو اس کی اطلاع دی۔ جب یہ بات مفکر اسلامؒ تک پہنچی؛ تو انھوں نے اپنے اعلی اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے، آپ کو تسلی دی اورفرمایا کہ انھوں نے اپنے رفقاے کار کے  مشورے سے طے کیا ہے کہ مئی کی چھٹی کے بعد، آپ کو ان شاء اللہ دار العلوم ندوۃ العلما میں تدریسی خدمت کے لیے رکھ لیں گے۔ آپ کہیں اور جگہہ کے لیے تگ ودو چھوڑدیں۔ پھر 11/جولائی 1972ء کو آپ دار العلوم ندوۃ العلما میں بحیثیت مدرس منتخب ہوے۔ آپ نے وہاں 1982 کے وسط  تک، عربی زبان کے مدرس کی حیثیت سے، خدمت انجام دی۔

دار العلوم دیوبند میں
شوال 1402 (اگست 1982) سے دار العلوم دیوبند میں بحیثیت مدیر پندرہ روزہ “الداعي” و استاذ ادب عربی آپ کا تقرر ہوا۔ آپ نے 7/محرم 1403 بہ مطابق: 25/ اکتوبر 1982 کو ، اپنی ادارت میں الداعی کا پہلا شمارہ شائع کیا۔ دار العلوم دیوبند میں، آپ مجلہ الداعی کی ادارت کے ساتھ ساتھ، عربی زبان وادب کی تدریس کا فريضہ دمِ واپسیں تک انجام دیتے رہے۔اللہ پاک کے فضل وکرم اور آپ کی شب وروز کی محنت نے، عربی زبان وادب کے حوالے سے، آپ کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ آپ بر صغیر میں، اس فن میں سند کی حیثیت رکھتے تھے۔

طریقۂ تدریس
تدریسی خدمات کے حوالے سے استاذ محترمؒ کی آخری منزل ایشیا کی عظیم دینی درس گاہ: دار العلوم، دیوبند تھی۔آپ  زبان وادب کی کتابیں پڑھاتے تھے۔ جس طرح آپ عربی زبان کے مسلم قلم کار تھے، اسی طرح آپ عربی زبان وادب کے ماہر استاذ؛ بل کہ اپنے استاذ شیخ کیرانوی کا عکس تھے۔آپ عربی ششم میں “دیوان متنبی” اور تکمیل ادب میں “المختارات العربیۃ” (النثر الجدید: جو متعدد موضوعات پر کئی عربی اخبارات کے تراشوں کا مجموعہ ہے) پڑھاتے تھے۔ مزید بر آں، “تخصص في اللغۃ العربیۃ “کے طلبہ کی رہنمائی اور ان کے کچھ اسباق بھی آپ سے متعلق تھے۔ آپ نے تقریبا پانچ دہائیوں تک تدریسی خدمات انجام دی ۔ اس مدت میں ہزاروں طلبہ نے آپ سے استفادہ کیا۔

استاذ محترمؒ سے پڑھنے کی سعادت حاصل کرنے سے قبل، بندہ آپ کے ایک سے زاید شاگردوں سے مختلف کتابیں پڑھنے کی سعادت کرچکا تھا۔ ان اساتذہ کرام سےآپ کی عربی زبان وادب پر مہارت، عربی زبان پڑھانےاور سمجھانے  کا خوب صورت اسلوب، سلیقہ مندی سے زندگی گذارنے کا طریقہ وغیرہ کے حوالے سے بہت کچھ سن رکھا تھا؛ چناں چہ ان وجوہات کی بنا پر ان کی بلندی وبرتری  اور عظمت ورفعت کا احساس  اور ان کے لیے احترام وعقیدت کابے پناہ جذبہ میرے دل کے گہرائیوں میں بہت پہلے سے ہی پیدا ہوگیا تھا۔ پھر سن 2004 میں، شعبہ تکمیل ادب عربی کے طالب علم کی حیثیت سے آپ سے باضابطہ شرف تلمذ کی سعادت حاصل ہوئی۔

استاذ محترمؒ وقت کے بہت پابند تھے۔ بر وقت درس گاہ پہنچتے تھے۔ جب بھی درس گاہ آتے؛ بل کہ کہنے دیجے کہ جب بھی آپ گھر سے باہر نکلتے؛ تو ہمیشہ کرتا، پاجامہ میں ملبوس، کرتا کے اوپرخوب صورت رنگ ، جسم کے سائز کی شیروانی زیب تن ، جس کے سارے بٹن ہمیشہ لگے ہوتے اور کالر ایک دوسرے سے پیوست ہوتا، اسی شیروانی کے کپڑے کی کشتی نما ٹوپی (اور جب گھر پر ہوتے تو گول ٹوپی)، شیروانی کے پاکٹ میں قلم، بڑے فریم کا چشمہ،پاؤں میں  لیدر کا ہمیشہ پالش کیا ہوا جوتا ہوتا،شیروانی کی سائڈ والے پاکٹ میں جوتا پہننے والا چمچہ۔ جب درس گاہ سے نکلتے؛ تو اس چمچے کی مدد سے جوتا پہنتے اور طلبہ زیر لب مسکراہٹ کے ساتھ آپ کو محبت سے دیکھتے۔ درس گاہ سے جارہے ہوں یا درس گاہ آرہے ہوں، بہت ہی وقار اور سکون کی رفتار اور دو چار طلبہ آپ کے دائیں اور بائیں ہوتے۔ آپ عام طور پر چلتے ہوے خاموش رہتے؛ مگر کچھ دیکھتے اور تبصرہ کرنا ہوتا، تو پھر سلیقے کے ساتھ گویا ہوتے۔

استاذ محترمؒ درس گاہ میں اپنی جگہ پر بیٹھتے ، حاضری رجسٹر کھولتے اورطلبہ کی حاضری لیتے۔ حاضری کے حوالے سے  آپ بڑے پابند تھے۔ پھر جس طالب علم کی باری ہوتی، وہ عبارت پڑھتا اور آپ سبق شروع کرتے۔ آپ طلبہ کو بلند آواز سے عبارت پڑھنے کی تاکید کرتے۔ آپ یہ بھی بتاتے کہ عربی زبان کا تقاضہ ہے کہ اسے بلند آواز سے پڑھا  جاے۔کسی تمہیدی وتعارفی تقریر کے بغیر، آپ تعلیمی سال کے پہلے دن سے ہی سبق پڑھانا شروع کردیتے۔ آپ شروع سال میں ہی طلبہ کو مطلع کردیتے کہ وقت پر درس گاہ میں پہنچ جائیں؛ چناں چہ یہ عام طور پر مشاہدہ کیا گيا کہ آپ کے درس گاہ میں پہنچنے سے پہلے ہی طلبہ پہنچ جاتے۔ آپ طلبہ کو یہ بھی بتاتے کہ وہ درس گاہ میں  کاپی اور قلم ضرور ساتھ لائیں۔آپ چاہتے کہ طلبہ آپ کی باتوں کو نوٹ کریں۔ آپ جس طرح منہمک ہو کر پڑھاتے تھے، آپ  طلبہ سے بھی امید رکھتے تھے کہ وہ ادھر ادھر نگاہ دوڑانے کے بجائے ان کی بات غور سے سنیں۔

آپ النثر الجدید پڑھاتےوقت طلبہ کو خبروں میں استعمال ہونے والے الفاظ وتعبیرات کے معانی ومفاہیم کی سرگذشت بتاتے۔ آپ ان کو یہ بھی سیکھاتے کہ کون لفظ مثبت معنی میں اورکون لفظ منفی معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ آپ یہ بھی واضح کرتے کہ “صلہ” کے بدلنے سے ایک ہی فعل کس طرح دوسرے معنی پر دلالت کررہا ہے۔ آپ پڑھاتے وقت کسی  لفظ کا وہی ترجمہ بتاتے، جو اس جگہ پر فٹ ہوتا ہو۔ آپ بیک وقت ایک لفظ کے کئی معانی بتانے سے بہت حد تک اجتناب کرتے؛ الا یہ کہ اس کا بتانا کسی وجہہ سے ناگزیر ہو یا پھر گذشتہ سبق میں وہ کلمہ کسی اور معنی میں استعمال ہوچکا ہو؛ تو اس کی یاد دہانی کراتے۔فصیح وبلیغ عربی اردو پر آپ کو ماہرانہ قدرت تھی۔ آپ ترجمہ کرتے وقت اردو زبان کی پوری رعایت کرتے اور سطحی زبان کے استعمال سے بچنے کی تلقین کرتے۔ ترجمہ کرتے وقت طلبہ کو بتاتے کہ اردو کے جملے میں فاعل کہاں ہوگا، متعلقات کس کے بعد آئیں گے، مفعول کی مناسب جگہہ کیا ہے اور فعل کہاں پر ہونا چاہیے۔ سُرخی کا ترجمہ کرتے ہوے آپ  فرماتے کہ عربی زبان میں سُرخی کے لیے عام طور پر “فعل مضارع” استعمال کیا جاتا ہے، مگر جب آپ اس کا ترجمہ کریں؛ تو حاصل مصدر سے کریں! آپ کے گھنٹے میں ایسا نہیں ہوتا کہ صرف چند مخصوص طلبہ ہی پورے تعلیمی سال عبارت پڑھیں، سبق غور سے سنیں  اور دوسرے طلبہ اس طرح بیٹھے رہیں جیسےوہ کسی اجلاس میں، سامعین کی حیثیت سے وارد ہوے ہوں۔آپ طلبہ کو حکم کرتے وہ اپنی باری پر عبارت پڑھیں اور بیدار مغزی کے ساتھ شریکِ سبق رہیں۔ آپ کسی بھی طالب علم سے کسی وقت سبق سے متعلق کوئی بات پوچھ لیتے؛ لہذا سارے طلبہ آپ کے سبق میں بہت ہی متوجہ رہتے تھے۔ آپ عبارت پڑھنے والے طلبہ کو اس بات کا پابند بناتے کہ ان کی عبارت صرفی ونحوی غلطی سے پاک ہو۔ آپ طلبہ کو اس بات کا بھی پابند بناتے کہ وہ عبارت پڑھنے میں ہرحرف کے مخرج کی پوری رعایت کریں۔یہ آپ کو پسند نہیں تھا کہ کوئی طالب علم”ش” کو “س”، “ز” کو “ج” اور “ق” کو “ک” پڑھے۔ آپ اس کی فورا اصلاح کرتے۔ آپ کبھی کبھی مخارج کی درستگی اور تجوید کی اہمیت کے حوالے سے طلبہ کو نصیحت بھی کرتے۔

آپ کی قلمی خدمات
استاذ محترمؒ عربی اور اردو زبان کے چند نمایاں قلم کاروں میں سے تھے۔ آپ ایک کہنہ مشق مصنف، صحافی اورمترجم تھے۔ آپ نے اردو اور عربی زبانوں میں متعدد قیمتی کتابیں اور سیکڑوں مضامین ومقالات تحریرکیے۔ آپ نے اسلامی اور دوسرے متعدد موضوعات پر غیر معمولی قلمی سرمایے اپنے خردوں کے لیے چھوڑا ہے۔ آپ کے قلم سے اکابر علما کی درجنوں اردوکتابوں کے عربی میں ترجمے ہوے۔  آپ کے تصانیف  کی ایک ناقص فہرست یہاں درج کیا جاتی ہے:

تصنیفات در زبانِ عربی
(1) الصحابۃ ومکانتہم فی الاسلام، (2) مجتمعاتناالمعاصرہ والطریق الی الاسلام، (3) المسلمون فی الہند بین خدعۃ الدیمقراطیۃواکذوبۃ العلمانیۃ، (4) الدعوہ الاسلامیہ بین دروس الامس وتحدیات الیوم، (5) مفتاح العربیہ، دوجلدیں، (6) العالم الھندی الفرید :الشیخ المقری محمد طیب رحمہ اللہ، (7) فلسطین فی انتظار صلاح دین، (8) تعلموا العربیۃ فانہامن  دینکم، (9) متی تکون الکتابات مؤثِّرۃ، (10) من وحی الخاطر (پانچ جلد)،  (11)  في موکب الخالدین۔

تصنیفات درزبانِ اردو
(1) “وہ کُوہ کن کی بات”… (2) صحابۂ رسول اسلام کی نظر میں، (3) حرفِ شیریں، (4) خطّ رُقعہ کیوں اور کیسے سیکھیں؟، (5)  موجودہ صلیبی صہیونی جنگ، (6) کیا اسلام پسپا ہو رہا ہے؟، (7) فلسطین کسی صلاح الدین کے انتظار میں، (8) پسِ مرگ زندہ، (9) رفتگانِ نارفتہ۔

اردو سے عربی ترجمے
استاذ محترمؒ نے بر صغیر کے عظیم اسلامی اسکالرز، مفکرین اور اکابر علما، مثلا: حضرت تھانویؒ، شیخ الاسلام سید حسین احمد مدنیؒ، حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحبؒ، مفکر اسلام سید ابو الحسن علی حسنی ندویؒ، مولانامحمد  منظور نعمانیؒ، مولانا امین اصلاحیؒ، مفتی محمد تقی عثمانی وغیرہم کی تقریباً 35/ کتابوں کا اردو سے عربی زبان میں ترجمہ کیا جو سب کی سب شائع اور مارکیٹ میں دست یاب ہیں۔

مضامین و مقالات
استاذ محترمؒ کا قلم کئی دہائیوں تک بلاتوقف چلتا رہا۔  اس مدت میں آپ نے اسلامی، علمی، لسانی، سماجی، سیاسی وغیرہ جیسے موضوعات پر سیکڑوں مضامین ومقالات سپرد قلم کیے۔ یہ مضامین ہندوستان و پاکستان اورعرب ممالک سے شائع ہونے والے عربی و اردوجرائد و رسائل  اور اخبارات، مثلا: مجلہ الداعی، البعث الاسلامی، الرائد،الفیصل، رابطۃ العالم الاسلامی، مجلہ دار العلوم، مجلہ تعمیر حیات، مجلہ الفرقان، ماہ نامہ ترجمانِ دیوبند،ماہ نامہ اذانِ بلال، ماہ نامہ الحق وغیرہ میں شائع ہوے۔

آپ کی خدمات کا اعتراف اور اعزاز واکرام
استاذ محترمؒ نے بغیر کسی دنیوی صلہ اور اعزاز واکرام کی امید لگاے، ایک مخلص اسلامی عربی قلم کار اور عربی زبان وادب کے استاذ کی حیثیت سے،عربی زبان وادب کی محبت سے سرشار ہوکر، پانچ دہائیوں تک اس زبان کی خدمت کی۔ اس مدت مدیدہ میں ان گنت لوگوں نے آپ کی قابل اعتماد تحریر سے استفادہ کیا۔ ہزاروں طلبہ نے آپ کے چشمۂ صافی سے اپنی علمی پیاس بجھائی۔ سن 2017 میں حکومت ہند نے آپ  کی ان خدمات کو سراہتے ہوے، آپ کو”صدارتی سرٹیفیکیٹ آف آنر” سے نوازا۔کئی عصری جامعات نے بھی آپ کی خدمات کو سراہا، آپ کی شخصیت اورخدمات کو تحقیق کا موضوع بنایا گیا اور صاحبِ تحقیق کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض کی گئی۔ شعبہ عربی، آسام یونیورسیٹی میں، آپ کی تحریروں میں: “فلسطین في انتظارصلاح دین” کے خصوصی حوالے کے ساتھ سماجی وسیاسی پہلوؤوں کو، جناب ابو الکلام صاحب نے تحقیق کا موضوع بنایا اور ڈاکٹر اشفاق احمد صاحب کی نگرانی میں مقالہ لکھ کر،ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ جناب محمد ساجد خان صاحب بنگلوری، ریسرچ اسکالر: شعبہ عربی، یونیورسیٹی آف کالیکٹ، “مساہمۃ الادیب نور عالم خلیل الامیني في الادب العربي” کے موضوع پر، محترم ڈاکٹر کے محمد بشیرصاحب، وائس چانسلر: یونیورسیٹی آف کالیکٹ کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ رہے ہیں۔ اردو زبان کی خدمات کے حوالے سے بھی آپ کی شخصیت کو تحقیق کا موضوع بنایا گیا۔ محترمی مولانا عمر فاروق صاحب قاسمی دملوی، ریسرچ اسکالر: شعبہ اردو، للت نارائن متھلا یونیورسیٹی، دربھنگہ”نور عالم خلیل امینی: احوال وآثار(اردو زبان وادب کے حوالے)”کے موضوع پر، پی ایچ ڈی کا مقالہ، پروفیسر محمد آفتاب اشرف صاحب کی نگرانی میں، لکھ رہے ہیں۔ یہ سب آپ کی خدمات کا اعتراف اور اعزاز واکرام کے مترادف ہے۔
زندگانی تھی تیری مہتاب سے تابندہ تر  –  خوب تر تھاصبح کے تارے سے بھی تیرا سفر

پس ماندگان
اللہ پاک نے آپ کو چار لڑکیوں اور تین لڑکوں : مفتی اسامہ نور قاسمی، عمارہ نور اور مولانا ثمامہ نور قاسمی سے نوازا۔ آپ کے پس ماند گان میں اہلیہ کے علاوہ چار لڑکیاں اور تین لڑکے ہیں۔ آپ کی جنازہ کی نماز 3/مئی کو، دار العلوم، دیوبند کے احاطہ مولسری میں، حضرت مولانا سید ارشد مدنی (حفظہ اللہ)، صدر المدرسین: دار العلوم، دیوبند نے پڑھائی۔ سیکڑوں طلبہ وعلما کی موجودگی آپ کو دیوبند کے “مزارِ قاسمی” میں سپرد خاک کیا گیا۔ اللہ پاک آپ کی خدمات کو قبول فرمائے اور جنت الفردوس میں جگہ عنایت فرمائے! آمین! ⦁⦁⦁⦁