زنا کی بڑھتی وارداتوں کا سدِ باب

47

حال ہی میں ہاتھرس میں ایک دوشیزہ کو جس طرح انسانی شکل نما بھیڑیوں نے اپنی درندگی کا شکار کر اسے جن اذیتوں و تکلیفوں سے دو چار کیا ہے وہ ناقابلِ بیان ہیں، اغواء کر کے اپنی شہوانی خواہشات کو بہیمانہ تسکین پہنچانا اور پھر منہ سے زبان کھینچ کر کاٹ دینا، اور اتنا زد و کوب کرنا کہ ریڈھ کی ہڈی ٹوٹ جائے،خدا کی پناہ،،، الحفیظ و الامان.
ایسا کیوں ہو، اس معاملہ کے محرکات و مقدمات میں کون سا وحشی عنصر داخل تھا؟
اتنی وحشت و بہمیت کا بھوت کیسے سوار ہوا؟
اتنی جنونیت و بربیت نوجوانوں میں کیسے سرایت کر گئی؟
تجزیہ نگار و قلم کار مختلف وجوہات بیان کرتے ہیں لیکن تمام وجوہات و محرکات بجا!
پر برتری و فوقیت کا جِنّ بھی ان ٹھاکر جانوروں پر ایسا سوار تھا کہ وہ اس دلت لڑکی کو اپنی داشتہ اور تلذذ کا سامان سے بڑھ کر کچھ نہیں سمجھتے تھے.
یہ میں اس لئے لکھ رہا ہوں چونکہ ہاتھرس کی لڑکی پندرہ دن تک سسکتی و بلکتی رہی اور تڑپ تڑپ کر دنیا چھوڑ گئی، میڈیا نے کوریج دی، آواز اٹھی تو پورے انتظامیہ میں ٹھاکر ہی عہدیدار ہیں تو نتیجہ جو ہونا ہے وہ تو سب جانتے ہیں، فارینسک رپورٹ نے تو جنسی زیادتی اور ریپ کو سرے سے خارج کر دیا.
یہ ایک دلت بچی امیشا ابھی رخصت ہوئی تو اسی دن رام راجیہ کے بلرام پور ضلع میں ایک دلت لڑکی کی اجتماعی آبروریزی کر شہوت کے پجاریوں ، بے لگام درندوں نے اسے بھی نوچ نوچ کر ادھ مرا کر دیا، 2011 کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں ہونے والے عورتوں کے خلاف ہونے والے جنسی تشدد و زیادتی میں ہمارا ملک چوتھے نمبر پر ہے.
جنسی زیادتی و تشدد کا مسئلہ کوئی نیا نہیں ہے لیکن ہاں اس کا بڑھتا ریشو تباہ کاری و بربادی کا پیش خیمہ ضرور ہے.
در حقیقت ٹیکنالوجی کا اس ترقی یافتہ دور میں مادیت و شہوت کا عنصر اس درجہ غالب ہے کہ اخلاق و انسانی اقدار کو بھی رخصت کر دیا.
کچھ اہم اسباب و عوامل جو در پردہ جذبات کو بہکاتے و لہکاتے ہیں اور نتائج و انجام کو بھلا ایسی واردات انجام دینے پر آمادہ و تیار کرتے ہیں انہیں سرکاری آنکڑوں اور معاشرتی مشاہدے سے آپ کے سامنے رکھا جا رہا ہے.
1 نوجوانوں میں خدا کے خوف کی کمی
یعنی غیبی طاقت کی پکڑ سے غفلت و بے پرواہی کسی بھی شخص کو موقع سے چوکنے نہیں دے گی.
*غفلت کے تھے آنکھوں میں پردے پڑے ہوئے*
*مستانہ وار جھوم رہے تھے کھڑے ہوئے*
*2 قانونی کوتاہی*
ہمارے ملک کی جمہوریت و قانونیت مغربی ممالک کے در کی فقیر ہے چونکہ وہاں جنسی جرائم کے روک تھام پر مضبوط و سخت قوانین نہیں اسی لیے رائٹرس کی رپورٹ کے مطابق ٹاپ ٹین ممالک میں امریکہ، سویزر لینڈ، کناڈا، جرمنی،بھارت، نیوزیلینڈ، شری لنکا جیسے ممالک کا شمار ہوتا ہے، دراصل یہ قانون کی کجی اور سست روی کا شاخسانہ ہے.
2011 کے نربھیا واقعہ میں مجرمین کو پھانسی کی سزا سنائی گئی لیکن ملک کے دانشوروں اور سماجی کارکنوں سے سرِ عام سزا دینی کی آوازِ بازگشت کئیں بار سنائی دی گئی. لیکن حکومت کی منشاء ظاہر نہیں.
3 اخلاقیات کا تعطل
والدین کی ڈھیل اور اسکول و کالجز میں اساتذہ کی
بیجا ڈھیل بھی ایسے سنگین جرائم کی شرح میں اضافہ کا سبب ہے
4 مخلوط تعلیمی نظام
ہمارا تعلیمی نظام اس قدر بدترین شکل اختیار کر گیا ہے کہ اگر کوئی شائستہ و سنجیدہ دوشیزہ سادگی اختیار کرنا چاہے تو یہ نظام و معاشرہ اسے دقیانوسیت و قدامت کے طعنے مار مار کر نیم برہنہ اور بے حجابانہ صورت ڈھالنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے. مرد و زن کا اختلاط جذبات و خواہشات کے انگیٹھی کو گرمائے گا نہیں تو، کیا سرد کرے گا؟
طلبہ و طالبات کو باقاعدہ باہمی تعلقات و دوستیاں رچانے کے مواقع بہم پہنچانا اور پھر ان سے اخلاق و اقدار کی امیدیں وابستہ کرنا اور اپنی بیٹی کی پارسائی اور بیٹے کی صفائی کی دہائی، جگ ہنسائی کا سبب نہیں ہوگی تو کیا ہوگی؟
*شادیوں میں تاخیر*
عمومی طور پر شمالی ہند میں لڑکوں کو ہلدی تیس سال کے آس پاس لگائی جاتی ہے، اور لڑکی کے ہاتھبھی کم وبیش اسی عمر میں سرخ کئے جاتے ہیں.
آج کے اس بے حیا و بے مروت معاشرے میں شادیوں میں تاخیر بھی ایک بنیادی سبب ایسے جرائم میں دخیل ہے.
5 عریاں فلمیں و فلم انڈسٹری
نت نئے ایجادات میں سب سے زیادہ مشہور و مقبول موبائل فون ہے،
اور موبائل کی افادیت و اہمیت مسلّم ہے لیکن اس کے مضرت و منفی اثرات کی فہرست زیادہ طویل اور اس کی منفعت پر بھاری ہے.
اسمارٹ-فون کا استعمال انٹرنیٹ کے بنا تو بے سود و بے وجہ مانا جاتا ہے اور جب انٹرنیٹ ہوتا ہے،تو اخلاقی تباہ کاریوں کا ذخیرہ اور معاشرتی برائیوں کا انبار کی ڈھیر لگا دیتا ہے،فواحشات و منکرات کا وہ سیلِ رواں جاری ہوتا ہے جس میں رہبانیت و مذہبیت کے چولہے ہل جاتے ہیں،
جذبات کو برانگیختہ و ابھارنے کا سامان بے وجہ آپ پر تھوپ دیا جاتا ہے، کسی مذہبی سائٹ کو بھی اگر وا کیا جائے تو اسکرین کے کنارے عریانیت و اباحیت کی دعوتِ فضولی کا بینر چمچماتا رہتا.
پندرہ سے بیس سال میں جوان ہونے والے بچہ کو اس موبائل کی دنیا نے آٹھ سال سے ہی سرپھرا سانڈ بنا دیا ہے.
اب ایسی تمام ننگی و عریاں سائٹس پر حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان پر قد غن لگائے اور فلم انڈسٹری بالی وڈ میں بننے والی ننگی فلموں کا پردہ سیمی سے روکنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے.
مذکورہ بالا اسباب و عوامل کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت اگر مضبوط اقدامات اٹھاتی ہے تو ایسے مسائل کا حل آسانی سے تلاش کیا جا سکتا ہے.
______________
بقلم محمد تعریف سلیم میواتی
جامعہ صدیقیہ نوح میوات
______________
پیش کردہ
محمد مبارک میواتی آلی میو