زمیں کھا گٸی آسماں کیسے کیسےمشتاق احمد نوری_ سابق سکریٹری بہار اردو اکادمی، پٹنہ

96

زمیں کھا گٸی آسماں کیسے کیسےمشتاق احمد نوری_

سابق سکریٹری بہار اردو اکادمی، پٹنہ

کووڈ 19 قہر خداوندی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ اگر کسی کو کرونا ہوجاٸے تو سامنے موت کا رقص جاری ہوجاتا ہے۔ پہلے تو صرف غربا اس کے شکار ہوتے تھے لیکن اس بار کرونا نے ہر گھر کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔مرنے کے بعد بھی مریض کی درگت بنی رہتی ہے ۔لاش کو اسطرح پیک کرکے دیا جاتا ہے کہ اس سے ہوا بھی نہیں گزرسکتی۔اب میت کو نہ نہلایا جاٸے نہ کفنایا جاٸے بلکہ سیدھے دفنایا جاٸے اسی حکم کے ساتھ ہاسپٹل سے لاش ملتی ہے۔لوگوں کو اتنا ڈرا دیا جاتا ہے کہ دہشت کے مارے کوٸی پیک لاش کو کھولنا تو دور اسے چھونا بھی نہیں چاہتا۔اسے جیسے تیسے قبر میں ڈال دیا جاتا ہے۔
اس جدید تکنیکی دور میں ایک عام آدمی کو بھی معلوم ہے کہ کسی کو کتنی ہی خطرناک بیماری کیوں نہ ہو روح نکلنے کے بعد جسم میں کوٸ بیماری نہیں رہتی اور نہ ہی کوٸ جراثیم زندہ رہتا ہے۔ تو یہ کرونا کے جراثیم لاش میں کیسے رہ جاتا ہے اور اتنی سخت پیکنگ کیوں کی جاتی ہے ؟ اس سوال پر کافی بحثا بحثی ہو رہی ہے لیکن سچاٸی سے پردہ نہیں اُٹھ پارہا یا پھر سچاٸی اگر سامنے آتی بھی ہے تو اسے قبول نہیں کیا جارہا۔ اتفاق سے ادھر مختلف اسپتال سے کٸی ویڈیوز میرے پاس آٸے جسے دیکھ کر میرے رونگٹھے کھڑے ہوگٸے۔کمرہ کرونا میں مرنے والونکی ننگی لاشوں سے بھرا ہے فرش پر خون کے دھبے نظر آرہے ہیں اور ساری لاش سے اہم آرگن نکال کر جمع کٸے جارہے ہیں جو غیر ملکوں میں مہنگے دام فروخت کٸے جاتے ہیں۔کٸ مریض کے تیماردار لاش کھول کر بتارہے ہیں اس کاگردہ نکال لیا گیا ہے۔ کڈنی کے علاوہ لیور اور دل بھی نکال لٸے جاتے ہیں۔اور ان سب کو چھپانے کے لٸے اسے پیکنگ کرکے اور کرونا کاخوف دلا کر گھر والوں کو سونپ دیا جاتا ہے۔
سرکاری ہو یا پراٸیویٹ ہر اسپتال میں سخت پیکنگ کے بعد ہی لاش ملتی ہے۔ایک ویڈیو میں میں نے دیکھا کہ ایک مریض کو زبردستی گلا گھونٹ کر مارا جارہا ہے۔ بڑے سے بڑے سرکاری اسپتال میں مریض کی نرسنگ کا جو حال ہے وہ دل دہلا دینے والا ہے ۔پٹنہ ایمس میں میرے ایک دوست بھرتی تھے بڑے عہدے دار بھی تھے انہوں نے بتایا کہ ICCU میں مریض پانی پانی کی گہار لگا رہا تھا لیکن کوٸی نرس یا کمپاٶنڈر سنے کوتیار نہیں۔ خود انہیں پاخانے کی حاجت ہوٸی تو کوٸی سننے کو تیار نہیں۔ آخر میں انہوں نے فون کر تیماردار سے پانچ سو روپیٸے منگوکر مہتر کو دیا تب ان کی حاجت روا ہوٸی۔ واپسی پر انہوں نے بتایا کہ سرکاری اسپتال میں کرونا مریض کو نہیں جانا چاہٸے۔گزشتہ سال یوپی میں چھ کیبینٹ منسٹر کرونا سے مرے۔ چیتن چوہان ملک کے مایہ ناز کریکیٹر تھے وہ یوپی میں کابینہ وزیر تھے جب وہ اسپتال میں بھرتی ہوٸے تو کوٸ پوچھنے والا کوٸی نہیں تھا انہوں نے نرسنگ اسٹاف سے کہا کہ میں چیتن چوہان ہوں شاید انہیں گمان تھا کہ ان کا گزشتہ عہدہ ان کے کام آٸےگا لیکن سب بےکار۔ان کے بغل میں پڑے مریض نے ویڈیو بنا لیا اور اچھے ہوکر اسے مشتہر کیا ۔چیتن چوہان وزیر ہوکر بھی مرگٸے لیکن یوگی جی کے کانوں پر جونٸی بھی نہ رینگی۔
اس سال کرونا نے اپنا بھیانک روپ دیکھانا شروع کردیا ہے۔ اردو والوں پر اس کا قہر تیزی سے جاری ہے۔ ادھر اتنے ادیب گزر گٸے کہ کلیجہ منھ کو آنے لگا۔ میرے اتنے دوست مرگٸے کہ میں خود کو مردوں میں شمار کرنے لگا ہوں۔سب سے زیادہ دکھ مشرف عالم ذوقی کی موت کا ہوا۔تبسم فاطمہ نے اسے اسپتال میں بھرتی کرایا دوسرے دن بولی نوری بھاٸی آکسیجن نہیں مل رہا۔ اور تیسرے دن ذوقی کی موت ہوگٸی۔پوری اردو دنیا میں سوگ پسر گیا اسکی بے باک تحریر اور اس کے ناولوں کا ذکر ہونے لگا اس کی شخصیت کے روشن پہلو پہ فیس بک پر اشتہار کی طرح چرچے ہونے لگے لیکن کوٸ دوست ہمدرد یا ادیب اس کے گھر جاکر تبسم یا ساشا کو پرسہ نہیں دے سکا۔اس سے دوستی کی تشہیر کی جانے لگی لیکن اس کے جنازے میں فاروق ارگلی اس کے بیٹے اور ایک رشتہ دار کے علاوہ نو افراد تھے۔ تبسم فاطمہ ذوقی کی ایسی شریک حیات تھیں جو اس کے بغیر ایک پل جی نہیں سکتی تھیں مشرف عالم ذوقی کی موت کا صدمہ براشت نہ کرسکیں ۔موت کی خبر سن کر ہی بے ہوش ہوگٸں اسپتال سے ذوقی پر اپنی جان نچھاور کر ہی گھر لوٹیں اور ذوقی کے پہلو میں دفن ہوٸیں۔دونوں کا اکلوتا بیٹا عکاشہ عالم عرف ساشا کے سر پر کتنے دشت شفقت پڑے نہیں معلوم۔ ہماری بے حسی ساری حدیں پار کرچکی ہے۔مرنے کے بعد سارے رشتے دم توڑ دیتے ہیں ۔ارگلی خود نوے سے زیادہ برس کے ہونگے انہیں کرونا کا خوف سب سے زیادہ ہونا چاہٸے لیکن وہ گٸے لیکن اچھی صحت والے مسٹنڈے کنّی کاٹ گٸے۔ان دونوں کا غم تازہ ہی تھا کہ مشہور افسانہ نگار اور الیکٹرونک میڈیا کے جانکار انجم عثمانی کو بھی کرونا نے نگل لیا۔ان کے سوگ میں ڈوبے ہی تھے نوجوان ناقد پروفیسر مولا بخش اسیر نے علیگڑھ میں کرونا کی چپیٹ میں آکر اپنی جان دے دی۔۔بہار میں 265 کتاب کے خالق پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی کو کرونا نے نگل لیا۔اس سے قبل ریاض عظیم آبادی کرونا کا انجکش لیکر خود کرونا کا شکار ہوگیا۔ابھی اس کے غم سے نکل بھی نہ پاٸے تھے کہ غزل کی آبرو کہے جانے والے سلطان اختر ہرٹ اٹیک سے مر گٸے۔ان کا ماتم ٹھیک سے کر بھی نہ پاٸے تھے کہ انامیت کا شہنشاہ شوکت حیات بھی ہرٹ اٹیک سے مرگیا۔ اس کے ساتھ مزید دکھ یہ کہ اس کابیٹا اتم حیات دوبٸی میں شدید حادثے کا شکار ہوکر اسپتال میں ہے اسکی خبر سن کر شوکت کی بیٹی اور داماد دوبٸی کے لٸے بھاگے اور دوبٸی ایر پورٹ پر چیکنگ کے دوران کرونا پازیٹو پاٸے گٸے۔اس طرح شوکت کا کوٸی بچہ اس کا آخری دیدار بھی نہ کرسکا۔
شوکت کی تدفین میں اس کے بھاٸی بھتیجے ملاکر کل درجن بھر لوگ تھے۔کیا یہ اسکی مقبولیت کے منافی نہیں؟۔ میں نے ایک بھی ادیب یا ادب نواز کو وہاں نہیں دیکھا شوکت کے چھوٹے بھاٸ نے مجھے دیکھ کر پوچھا کہ آپ شوکت کے کون لگتے ہیں ؟ میں شرم سے مرگیا بس اتنا کہا کہ میں شوکت کادوست ہوں جب اپنا نام بتایا تب وہ مجھے پہچان گٸے ۔ مجھے لگا شوکت نہیں مرا بلکہ ہم سب مردہ ہوگٸے ہیں اس سے دوستی نبھانے کا دم بھرنے والے اس کی کہانیوں پر بحث کرنے والے اس کی دوستی کی فرضی داستان سے فیس بک بھرنے والے کہاں مرگٸے تھے۔وہ کرونا سے بھی نہیں مرا تھا کہ ڈر ہوتا۔ ہم سب مردہ خانے میں سڑی ہوٸی لاش کی طرح ہوگٸے ہیں ساری حس سے محروم۔میں جب بھابھی سے ملنے پہونچا تو دھاڑ مارکر رونے لگیں میری زبان چپ بس آنسوٶں نے تھوڑا ساتھ دیا۔جب زندگی میں رشتہ جیسے تیسے نبھا دیتے ہیں تو موت پر بھی ساتھ دینا چاٸیے ۔سلطان بھاٸ کی تدفین میں مجھے ایک بھی ادبی چہرہ نظر نہیں آیا ممکن ہے ہونگے لیکن ماسک کی وجہ سے میں نہیں پہچان پایا۔تو میں نے اپنا ماسک ہٹا دیا کہ کوٸ ہوگا تو مجھے پہچان لےگا۔
ہم اپنے ادبی ہیروز سے مرنے کے بعد اچھا سلوک نہیں کررہے دہلی ہو یا پٹنہ یا کہیں اور ہم بے حسی کی چادر اوڑھے مردہ سے بدتر ہوگٸے ہیں۔کولکتہ میں بھی مشہور ڈرامہ نگار محمد اظہر عالم کو موت نے نگل لیا۔میرے اسکول کے استاد جناب نورالہدیٰ بھی چلےگٸے۔مشہور اسلامی اسکالر وحید الدین خان کا بھی دہلی میں انتقال ہوگیا۔آج خبر ملی کہ پٹنہ میں جمیعت علما بہار کے سکریٹری حسن احمد قادری بھی چل بسے۔ ابھی ابھی ایک دردناک خبر اور ملی کہ میری دوست اور کلیگ نیلم پانڈے بھی گزرگٸیں وہ برسوں سے کینسر کی مریض تھیں ۔فیس بک پر اپنی دلچسپ جیون گاتھا لکھ رہی تھیں انہیں کیا خبر تھی ایک دن اچانک موت انہیں لکھ دیگی۔
کرونا ہو اور کوٸی بیماری مرنا ہم سب کو ہے۔بس یہ خیال رہے کہ ہم مرنے سے قبل نہ مرجاٸیں۔کرونا کی آڑ میں جو بھیانک کھیل ہورہا ہے مرکزی اور ریاستی سرکاروں کو اس پر غور کرنا چاہٸے۔ کرونا سے بچاٶ کی ساری تدبیریں ضرور اپناٸی جاٸیں۔ مرنے والوں سے رشتے کی دہاٸ دینے اور تعزیتی نشست کرنے کی بجاٸے خود کو بے حسی سے بچاٸیں اور ہمدردی کے جذبے کو مرنے نہ دیں۔ اور اب بھی اللہ سے لو لگالیں تاکہ آپ ہر غم سے نجات پالیں۔