روشن دن، منور راتیں عبادت وریاضت کا بہترین موسم بہار* مفتی محمد ناصر ایوب ندوی

191

روشن دن، منور راتیں عبادت وریاضت کا بہترین موسم بہار* مفتی محمد ناصر ایوب ندوی
(پریس ریلیز)
فیض العلوم خانقاہ بوڑیہ سے تشریف لائے مہمان مفتی محمد ناصر ایوب ندوی نے شہر سہارنپور کی محمدی مسجد میں نماز جمعہ سے قبل خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے اوپر سے جو وقت گزر رہاہے اس کے دن رات بہت قیمتی ہیں ان کی قدردانی ہم سب کی ذمہ داری ہے،
ان ایام کی فضیلت قرآن وسنت سے ثابت ہے ان میں یکم تا نو ذی الحجہ کے دن کا روزہ رکھنا۔۔۔اور رات کو عبادت کرنا شبِ قدرمیں عبادت کی طرح ہے
انہوں نے کہا یہ ہجری/قمری/اسلامی سنہ کے اعتبار سے بارہواں مہینہ ہے اسمیں دو اہم عبادتیں ایک حج بیت اللہ دوسرے قربانی اور یہ دونوں عبادتیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یادگار ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کے صاحب حیثیت حضرات پر ان کو فرض/واجب قرار دیا ہے جو صاحب نصاب یعنی جس پر زکوۃ فرض ہے اس پر قربانی واجب ہے اگر وہ نہیں کرتے تو اللہ کے یہاں وہ گنہگار اور مجرم ہیں نبئ کریم حضرت محمد ﷺ نے فرمایا کہ جو حیثیت کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔ العیاذ باللہ اس کے برعکس جو قربانی کرتے ہیں ان کے لئے دنیا وآخرت کی بڑی بشارتیں اور فوائد ہیں مثلاً قربانی کے ہربال کے عوض نیکی کا ثواب ملنا، پل صراط پر آسانی سے گزرنا اور سب سے بڑھ کر یہ اپنے رب کا تقرب حاصل ہونا، سنت ابرہیمی کا زندہ رہنا، وغیرہ وغیرہ فوائد ہیں اس لئے خوشدلی کے ساتھ ہمیں اس فر يضہ کو انجام دینا چاہئے۔
یاد رکھئے کہ قربانی، عمل قربانی انجام دینے سے ہی ادا ہوگی یہ کہنا کہ قربانی کے بجائے یہ رقم ضرورت مندوں کو دیدی جائے یہ فضول بات ضرورت مندوں کا خیال رکھنا بہت اہم کام ہے مگر اس کے لئے یہ خیانت کی بات ہے کہ قربانی کی رقم کو قربانی میں خرچ نہ کرکے کسی اور کام میں لگادی جائے،
مفتی صاحب نے بیان جاری رکھے ہوئے کہا کہ یہ سوشل میڈیا کا دور ہے اس پر عجیب عجیب باتیں پھیلائی جارہی ہیں مثلاً یہ کہ گھر کے ایک فرد کی جانب سے قربانی کرنا سب کی جانب سے کافی ہے یہ بات درست نہیں ہے
حضرت عطا بن یسار کہتے ہیں کہ میں نے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آپ لوگوں کی قربانیاں کیسی ہوتی تھیں؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آدمی اپنے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری قربانی کرتا تھا تو اسے سارے گھر والے کھاتے اور لوگوں کو کھلاتے، پھر لوگ فخر و مباہات کرنے لگے، تو معاملہ ایسا ہو گیا جو تم دیکھ ر ہے ہو جبکہ
ترمذی شریف اس روایت میں اس بات کا ذکر ہے کہ حضورِ اقدس ﷺ کے زمانے میں ایک شخص اپنی طرف سے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری کی قربانی کرتا تھا اور اسی بکری سے خود بھی کھاتا اور دوسروں کو بھی کھلاتا تھا، چنانچہ اس حدیث کی وجہ سے امام مالک رحمہ اللہ اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ یہ فرماتے ہیں کہ ایک بکری ایک آدمی کے پورے گھر والوں کی طرف سے کافی ہے، حتیٰ کہ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک گھر میں کئی صاحب نصاب افراد ہوں تو ان میں سے ہر ایک کی طرف سے قربانی کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اگر ایک بکری کی قربانی کردی جائے تو سب کی طرف سے کافی ہوجائے گی، بشرطیکہ وہ سب آپس میں رشتہ دار ہوں اور ایک ہی گھر میں رہتے ہوں۔
لیکن امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک یہ حدیث ثواب میں شرکت پر محمول ہے، یعنی اس حدیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اگر کوئی آدمی اپنی طرف سے ایک بکری کی قربانی کرے اور اس کے ثواب میں اپنے ساتھ سارے گھر والوں کو شریک کر لے تو یہ جائز ہے، اس کی نظیر یہ ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مینڈھا اپنی طرف سے قربان فرمایا اور دوسرا مینڈھا قربان کر کے فرمایا : ’’ هذا عن من لم یضح من أمتي ‘‘ یعنی میں یہ قربانی اپنی امت کے ان لوگوں کی طرف سے کر رہا ہوں جو قربانی نہ کرسکیں، لہٰذا جس طرح اس حدیث سے یہ مطلب لینا قطعاً درست نہیں ہوگا کہ چوں کہ آپ ﷺ نے اپنی امت کی طرف سے ایک مینڈھا قربان فرمادیا،اس لیے اب امت کے ذمہ سے قربانی ساقط ہوگئی، بلکہ مطلب یہ ہوگا کہ آپﷺ نے ثواب میں ساری امت کو اپنے ساتھ شریک کرلیا۔ اسی طرح ترمذی شریف میں مذکور حدیث سے بھی یہ مطلب لینا درست نہیں کہ ایک صاحب نصاب آدمی ایک بکری کی قربانی اپنی طرف سے اور گھر کے دیگر صاحب نصاب افراد کی طرف سے کرتا تھا اور سب کے ذمہ سے واجب قربانی ساقط ہوجاتی تھی، بلکہ حدیث شریف کا صحیح کا مطلب یہ ہے کہ حضور ﷺ کے زمانہ میں غربت عام ہونے کی وجہ سے بعض اوقات ایک گھر کے اندر ایک ہی شخص صاحبِ نصاب ہوتا تھا، اس وجہ سے پورے گھر میں ایک ہی شخص کے ذمہ قربانی واجب ہوتی تھی، باقی لوگوں کے ذمہ صاحبِ نصاب نہ ہونے کی وجہ سے قربانی واجب ہی نہ ہوتی تھی اس لیے پورے گھر میں سے صرف ایک ہی آدمی قربانی کیا کرتا تھا، لیکن قربانی کرنے والا اپنے گھر کے تمام افراد کو اس قربانی کے ثواب میں شریک کرلیتا تھا۔
اس کے علاوہ حنفیہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر ایک بکری پورے گھر والوں کی طرف سے کافی ہوتی تو جن حدیثوں میں بڑے جانور کو سات کی طرف سے متعین کیا گیا ہے، اس کے کیا معنی ہوں گے؟ کیوں کہ نصوص کی روشنی میں یہ بات متفق علیہ ہے کہ ایک بکری بڑے جانور کے ساتویں حصے کے برابر ہے، لہٰذا اگر ایک بڑے جانور میں آٹھ آدمی شریک ہوجائیں تو بمقتضائے تحدید ’’ البقرة عن سبعة ‘‘ کسی کی بھی قربانی جائز نہیں ہوگی، ورنہ تحدید بے کار ہو جائے گی ، جب کہ اگر ایک گھر میں مثلاً دس افراد صاحبِ نصاب ہوں تب بھی ایک بکری گھر کے تمام دس افراد کی طرف سے کافی ہوجائے اور سب کی قربانی ادا ہو جائے تو یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایک بکری تو دس افراد کی طرف سے کافی ہو جائے اور ایک بڑا جانور آٹھ افراد کی طرف سے کافی نہ ہو،اور اگر یہ کہا جائے کہ بڑے کا ساتواں حصہ سارے گھر والوں کی طرف سے کافی ہوجائے گا تو پھر تو ایک بڑے کے اندر صرف سات افراد نہیں بلکہ ساٹھ، ستر افراد کی قربانی ہو سکے گی جو کہ واضح طور پر نصوص کے خلاف ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ گھر میں متعدد صاحبِ نصاب افراد ہونے کی صورت میں تمام گھر والوں کی طرف سے ایک قربانی کرنا کافی نہیں ہے، بلکہ گھر کے ہر صاحبِ نصاب فرد پر اپنی اپنی قربانی کرنا واجب اور لازم ہے، گھر کے کسی ایک فرد کے قربانی کرنے سے باقی افراد کے ذمہ سے واجب قربانی ساقط نہیں ہوگی۔
مفتی صاحب نے آخر میں زور دے کر کہا کہ قربانی کا عمل بہت اونچا عمل ہے اسے بہت اچھے طریقہ سے کرنے کی ہدایات ملتی ہیں اس لئے صفائی ستھرائی کا اور حکومت کی گائیڈ لائن کا بھر پور خیال رکھنا بھی ہماری ذمہ داری ہے تاکہ ماحول خوشگوار رہے۔