رمضان کابابرکت مہینہ اورقرآن کریم: محمدمصورعالم ندوی

55

رمضان کابابرکت مہینہ اورقرآن کریم:

محمدمصورعالم ندوی
استاذمدرسہ اسلامیہ گیاری ارریہ بہار

ماہ رمضان کاقرآن کریم سےکیاخاص خاص تعلق اورربط ہےاسکےمتعلق خودارشادخداوندی ہے:
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شَهۡرُ رَمَضَانَ الَّذِىۡٓ اُنۡزِلَ فِيۡهِ الۡقُرۡاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الۡهُدٰى وَالۡفُرۡقَانِۚ.القرآن – سورۃ نمبر 2 البقرة
آیت نمبر 185
ترجمہ:’’ وہ ماہ رمضان جس میں قرآن نازل کیا گیا,جو انسانوں کے لیے سراپاہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے,جو صحیح صحیح راستہ دکھلانے والی اور حق وباطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہے. ‘‘( البقرہ :۱۸۵)
ماہ رمضان کاقرآن کریم سے ایک خاص تعلق اور گہراربط ہے, اسکی سب سے بڑی وجہ خودقرآن کریم کا ماہ رمضان میں نازل ہونا ہے۔ اسی ماہ مبارک کی ایک بابرکت رات میں اللہ تبارک وتعالیٰ نےقرآن کریم کو لوح محفوظ سے سماء دنیا پر نازل فرمایا اور اس کے بعد حسب ضرورت تھوڑا تھوڑا حضور اکرم ﷺ پر نازل ہوتا رہا اور تقریباً ۲۳ سال کے عرصہ میں پورا قرآن نازل ہوا۔
صرف قرآن کریم ہی نہیں, قرآن کریم کے علاوہ تمام صحیفے بھی رمضان ہی میں نازل ہوئے جیساکہ مسند احمد،طبرانی اورمعجم الاوسط میں بھی حضرے واثلہ بن اسقع لیثی ابی فسیلہ کی روایت سےظاہرہوتاہے, وہ فرماتےہیں :
نزَلَتْ صُحُفُ إبراهيمَ أوَّلَ ليلةٍ مِن شهرِ رمَضانَ وأُنزِلَتِ التَّوراةُ لِسِتٍّ مضَيْنَ مِن رمَضانَ وأُنزِل الإنجيلُ لثلاثَ عَشْرةَ مَضَتْ مِن رمَضانَ وأُنزِل الزَّبُورُ لِثَمانَ عَشْرةَ خلَتْ مِن رمَضانَ وأُنزِل القُرآنُ لأربعٍ وعِشرينَ خلَتْ مِن رمَضانَ
الطبراني (ت ٣٦٠)، المعجم الأوسط ٤‏/١١١ )
ترجمہ:-حضرت واثلہ بن اسقع لیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ ابراہیم علیہ السلام کےصحیفےیکم رمضان کونازل ہوئے, تورات 6رمضان المبارک کو نازل ہوئی، انجیل 13رمضان کو، زبور 18رمضان کو اور قرآن مجید 24رمضان کو نازل ہوا۔

نزول قرآن اوردیگرمقدس صحیفوں کےنزول میں فرق:

نزول قرآن اور دیگر مقدس کتب وصحائف کے نزول میں فرق یہ ہے کہ دیگر کتابیں جس رسول پر نازل ہوئیں ایک ساتھ اور ایک ہی مرتبہ میں نازل ہوئیں جبکہ قرآن کریم لوح محفوظ سے پہلے آسمان پر رمضان کی مبارک رات یعنی لیلۃ القدر میں ایک بار نازل ہوا اور پھر تھوڑا تھوڑا حسب ضرورت نازل ہوتا رہا۔
سورۂ العلق کی ابتدائی چند آیات (اِقْرَاْ باِسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَق….) سے قرآن کریم کے نزول کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد آنے والی سورۃ القدر میں بیان ہواکہ قرآن کریم رمضان کی بابرکت رات میں اتراہے، سورۂ الدخان کی آیت ۳ میں بھی یہی کہاگیاکہ (“اِنَّا اَنْزَلْنَاہٗ فِیْ لَیلۃِِمُّبَارَکَۃٍ”ہم نے اس ک
(قرآن کریم)کو ایک مبارک رات میں اتارا ہے) اور سورۂ البقرہ کی آیت ۱۸۵ (شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فیہ القرآن رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن کریم نازل ہوا)

رمضان المبارک کا قرآن کریم کے ساتھ ایک خاص ربط
ہےجوتراویح کی نمازسےبھی ظاہرہوتاہے.احادیث میں وارد ہے کہ ہر سال ماہ رمضان میں آپ ﷺ حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کے نازل شدہ حصوں کا دور کرتے تھے۔ جس سال آپ ﷺ کا انتقال ہوا اس سال آپ ﷺ نے دوبار قرآن کریم کا دور فرمایا۔ (بخاری شریف حدیث نمبر4998)
غرض قرآن وحدیث میں واضح دلائل ہونےکی وجہ سے امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ قرآن کریم لوح محفوظ سے سماء دنیا پر رمضان کی مبارک رات میں ہی نازل ہوا، اس طرح رمضان اور قرآن کریم کا خاص تعلق روز روشن کی طرح واضح ہوجاتا ہے۔

قرآن کریم اورماہ رمضان کے درمیان چند مشترک خصوصیات:

قرآن اور رمضان کےدرمیان کچھ مشترک خصوصیات ہیں جنمیں سب سےپہلی اور اہم مشترک خصوصیت تقویٰ ہےجیسا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا : ” یَا اَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْن” (سورۃ البقرۃ ۱۸۳)
ترجمہ:- اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔
درج بالا آیت میں رمضان کےروزےکابنیادی مقصدجس طرح تقویٰ ہےاسی طرح قیامت تک آنے والےتمام انسانوں کی رہنمائی کیلئے اتاری گئی کتاب قرآن کریم سے استفادہ کا بنیادی مقصد بھی تقویٰ ہے، اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد قرآن کریم میں ہے: (ذلِکَ الْکِتَابُ لَا رَےْبَ فِےْہِ ہُدًی لِّلْمُتَّقِیْن) یہ کتاب ایسی ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں، یہ ہدایت ہے متقیوں کے لئے۔

دوسری مشترک خصوصیت بندہ کےلئےدونوں کاشفاعتی ہونا ہے
حدیث پاک میں ہے-
عن عبداللہ بن عمرورضی اللہ عنہ الصيامُ والقرآنُ يَشْفَعانِ للعبدِ، يقولُ الصيامُ: أَيْ رَبِّ ! إني مَنَعْتُهُ الطعامَ والشهواتِ بالنهارِ، فشَفِّعْنِي فيه، ويقولُ القرآنُ: مَنَعْتُهُ النومَ بالليلِ، فشَفِّعْنِي فيه؛ فيَشْفَعانِ.
( أخرجه أحمد (٦٦٢٦)، وابن المبارك في «الزهد» (٢/١١٤)، والطبراني (١٤/٧٢) (١٤٦٧٢)، والحاكم (٢٠٣٦)، والديلمي في «الفردوس» (٣٨١٥) ,تخريج مشكاة المصابيح ١٩٠٤)
ترجمہ:-
حضرت عبداللہ بن عمرورضی اللہ عنھماروایت کرتےہیں: حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ روزہ اور قرآن کریم دونوں بندہ کے لئے شفاعت کرتے ہیں۔ روزہ عرض کرتا ہے یا اللہ میں نے اس کو دن میں کھانے پینےاورخواہشات نفس سے روکے رکھا میری شفاعت قبول کرلیجئے، اور قرآن کہتا ہے کہ یا اللہ میں نے اسکورات کو سونے سے روکا میری شفاعت قبول کرلیجئے،چنانچہ دونوں کی شفاعت قبول کرلی جائے گی۔
تیسری خصوصیت جو ماہ رمضان اور قرآن کریم دونوں میں مشترکہ طور پر پائی جاتی ہے وہ ہےقرب الہی ۔ یعنی جس طرح باری تعالیٰ کے کلام کی تلاوت کے وقت قاریِ قرآن کو اللہ تعالیٰ سے خاص قرب حاصل ہوتا ہے،اسی طرح روزہ دار کو اللہ تعالیٰ کا خاص قرب حاصل ہوتاہے. جیساکہ حدیث قدسی میں روزہ کےتعلق سے اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے” .الصَّومُ لي وأنا أجزي بِهِ”روزہ میرےلئےہےاورمیں خود ہی روزہ کا بدلہ ہوں”
(ابن حجر العسقلاني (ت ٨٥٢)، فتح الباري لابن حجر ٤‏/١٣١)

رمضان اورقرآن میں ربط کاتقاضہ:

یہ وہ روابط ہیں جورمضان اورقرآن میں مشترکہ طورپرپائی جاتی ہیں,رمضان اورقرآن کےدرمیان ان روابط کاتقاضہ ہےکہ ہمارابھی قرآن سےایک مضبوط رشتہ اورگہراتعلق ہوجائے.ہمیں اسکی تعلیم وتبلیغ کی فکرکرنی چاہیئے,ہمیں قرآن کریم کی تلاوت کرنے,حفظ کرنے,سننےاور سمجھنےکی کوشش کرنی چاہیے, اگر ہم قرآن کریم کے معانی ومفاہیم کو نہیں سمجھ پا رہے ہیں تب بھی ہمیں قرآن کی تلاوت کرنی چاہئے کیونکہ یہ مطلوب بھی ہےاورسبھی سعادتوں کی بنیاداورسرچشمہ رحمت یاشقاوت بھی.
حضور اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا:إنَّ اللَّهَ يَرْفَعُ بهذا الكِتابِ أَقْوامًا، وَيَضَعُ به آخَرِينَ.
(مسلم (ت ٢٦١)، صحيح مسلم ٨١٧ )
اللہ تعالیٰ اسی کتاب کے ذریعے سے کچھ قوموں کو بامِ عروج تک پہنچائے گا اور اسی کو ترک کر نے کے باعث کچھ کو ذلیل و خوار کر دے گا‘‘.
رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو ذر غفاریؓ کو وصیت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
عليكَ بتلاوةِ القرآنِ، فإنَّهُ نورٌ لكَ في الأرضِ، وذُخرٌ لكَ في السَّماءِ( صحيح الترغيب ١٤٢٢ • حسن لغيره)
ترجمہ: قرآن کی تلاوت کو اپنے لیے لازم کرلو اس سےتمکوزمین پر روشنی ملے گی اور آخرت کے سفر میں تمہارےلئےسامانِ سفر ثابت ہوگی.
اللہ ہمیں عمل کی توفیق نصیب فرمائے.