رمضان کاآخری عشرہ روزہ کاخلاصہ ہے

55

رمضان کاآخری عشرہ روزہ کاخلاصہ ہے
رمضان کے آخری دس دنوں کی فضیلت مسلم ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ سنت یے کہ ایک روزہ دار اپنے اعمال صالحہ کےلئےخود کو چاق وچوبند بنالے،راتوں کی عبادت کو خود پر لازم کرے،اور اہل وعیال کو بھی اس کی ترغیب کرے۔اماں جان حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی مشہور حدیث ہے،جو متفق علیہ ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاعمل نقل کیا گیا ہے کہ جب عشرہ آخر داخل ہوتا تھا تو آپ کمر بستہ ہوجاتے تھے،رات رات بھر جاگتے تھے اور اہل وعیال کو بھی جگاتے تھے۔اس عنوان پردوسری حدیث مسلم شریف کی ہے،یہ بھی اماں جان حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنسے مروی ہے کہ؛نبی صلی اللہ علیہ وسلم جتنے نیک کام اور عبادت میں جتنی محنت رمضان کے آخری دس دنوں میں فرماتے تھے اتنی محنت کسی اور دنوں میں نہیں فرماتے تھے۔آج ان احادیث کی روشنی میں ہم سبھی اپنا جائزہ لیں تو یہ صاف ہے کہ ہمارا طرز عمل اس سے مختلف ہے۔اوائل رمضان میں ہمارے جوان بوڑھے اور بچوں تک میں ایک امنگ دیکھنے میں آتی ہے جودوسرے عشرہ کے نصف تک باقی رہتی ہے، پھر رفتہ رفتہ سرد ہوجاتی ہے۔ جب اخیر عشرہ شروع ہوتا ہے تو روزہ بغیر سحری کے اور رات بغیر تراویح کے ہونے لگتی ہے۔رمضان کا مقصد ان ایام میں عیدکی تیاری،نئے کپڑوں کی خریداری اوربال بچوں کی ناز برادری میں فوت ہوجاتا ہے، یہ قیمتی وقت ضائع ہوجاتا ہےجوایک افسوسناک امر ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رمضان کا مطالعہ تو یہ کہتا ہے کہ آخری عشرہ ہی رمضان المبارک کا خلاصہ ہے،یہ دس دن نہایت اھمیت وفضلیت کے حامل اوربیش قیمت ہیں ،ان کے ضیاع کا مطلب پورے ماہ مبارک کا خسارہ ہے۔اور یہ عمل روزہ کے مقاصد سےاوررمضان کی برکت سےانحراف اور غیر شرعی بھی ہے،اسی لئے محدثین واکابرین علماء نے اس عشرہ کی اہمیت وفضلیت کو اعتکاف اور لیلتہ القدرکی تلاش میں مقید کیا ہے،یہ دونوں کا ماحصل بھی عبادت وتلاوت اور تسبیح ومناجات ہی ہے۔ آج اعتکاف کے فلسفہ کو بھی سمجھنا ضروری ہے، روزہ سے اس کی کیا نسبت ہے اس پر گفتگو کی ضرورت ہے،وہ اس لئے بھی کہ عام رمضان کی طرح اب کی بار حالات مختلف ہوگئے ہیں، مسنون اعتکاف یہ خالص مسجد کا عمل ہے،اسوقت مساجد میں کچھ ہی لوگ ہی عبادت کرپارہے ہیں، ایک بڑی تعداد اپنے گھروں میں نماز ادا کررہی ہے، ظاہرسی بات ہے کہ اس مسنون عمل سے بہت سےلوگ محروم ہوگئے ہیں،اگرہم اعتکاف کے فوائد کا ہی علم رکھیں تو امکانی حد تک اس کی بھرپائی گھرپررہ کر بھی ہوسکتی ہے۔روزہ اور اعتکاف میں بڑی مماثلت ہے،دونوں میں ایک چیز مشترک سی ہے،وہ چھوڑنا اور الگ ہونا ہے،جس طرح ایک روزہ دار کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے اور اپنے کو اپنی بیوی سے الگ کرلیتا ہے اسی طرح اعتکاف میں ایک روزہ دار اخیر عشرہ کے اندر اپنے کاروبار اور گھر بار کو بھی چھوڑ دیتا ہے،اپنی بیوی اوراپنے بچوں سےاپنے کو الگ کرلیتا ہے،خود کو مسجد میں محصور کرلیتا ہے، یہ رمضان کے اخیر عشرہ کا مسنون عمل ہے،قرآن میں بھی اعتکاف کا ذکر ہے اور حدیث میں اس کی بڑی فضیلت وتاکید آئی ہے،اگر کسی بستی میں ایک آدمی بھی اعتکاف نہ کرے تو پوری بستی کے گنہ گار ہونے کی بات کہی گئی ہے، اس کا مقصد ہی فضول کاموں سے بچنا اور فضول باتوں سے پرہیز کرنا ہے،اور ہروقت خدا کی یاد کو تازہ رکھنا ہے اور اس کی رضا حاصل کرنے کی کوشش ہے،یہ روزہ کادرجہ کمال ہے اور اس کی آخری شکل ہے۔آج کی تاریخ میں اگر مردوں کی ایک بڑی تعداد مساجد میں معتکف نہیں ہوسکی ہے تو کم ازکم فضولیات سے اجتناب تو ہم سبھوں کے اس اخیر عشرہ میں لازم ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے اہل وعیال کی ترغیب والی سنت کو زندہ کرنے کا بھی حسین موقع نصیب ہے،گھر پر رہ کر بھی گھریلو مسائل میں اپنے کو الجھانا نہیں یے،عبادت وتلاوت کے لئے اس اخیر عشرہ میں یکسو ہوجانا ہے،خاص طور پر اس کی طاق راتیں بڑی اہم ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ّکا ارشاد ہے، اس قدر کی رات کو رمضان کے آخری دس دنوں کی طاق راتوں میں تلاش کرو،اس سے معلوم ہوا کہ یہ بابرکت رات رمضان کی ۲۱،۲۳،۲۵،۲۷،یا۲۹/میں سے کسی رات کو پڑتی ہے۔قرآن کریم کہا گیا ہے کہ، یہ رات ایک ہزار مہینوں سے زیادہ بہترہے۔
یعنی اس ایک رات کی عبادت پر ایک انسان بےشمار اجروثواب کا مستحق ہوجاتا ہے۔اللہ ہمیں قدردانی کی توفیق مرحمت کرے، آمین
ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ
رابطہ، 9973722710